ملتان ( سٹاف رپورٹر ) این ایف سی یونیورسٹی ملتان ایکٹ 2012 کے سیکشن 13(1)، 14(1) اور 15(1) کے مطابق رجسٹرار، خزانچی اور کنٹرولر کی تعیناتی سینیٹ کی طرف سے وائس چانسلر کی سفارش پر ہوں گی مگر حیران کن طور پر چونکہ وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو خود غیر قانونی ہیں تو ان کی سفارشات کسی بھی طور پر قانونی نہیں ہو سکتی ہیں اور رجسٹرار چونکہ خود قائم مقام ہیں وہ کیسے وائس چانسلر، رجسٹرار، خزانچی اور کنٹرولر کے لیے اشتہار دے سکتے ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے لیٹر نمبر 13865-P 2018 میں قائم مقام وائس چانسلرز کے لیے معزز سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ ہدایات پر توجہ دلانا ضروری ہے جس کے اقتباسات درج ذیل ہیں:- “تمام کے تمام قائم مقام وائس چانسلرز مستقل وائس چانسلرز کی تقرری تک یونیورسٹیوں کے صرف روزمرہ کے امور چلانے کے لیے قائم مقام وائس چانسلر کے عہدوں پر فائز رہیں گے”۔ مزید برآں خط نمبر 10-01/2020/Coord/HEC/ 228 مورخہ 08.03.2024 کے ذریعے چیئرمین، ایچ ای سی نے چانسلر جو کہ وفاقی یونیورسٹیوں کے لیے صدر مملکت ہیں اور تمام صوبائی یونیورسٹیوں کے لیے متعلقہ صوبائی گورنرز ہیں، سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ وہ ایسے قائم مقام وائس چانسلرز کو ہدایات جاری کریں کہ وہ کوئی بڑا اسٹریٹجک، پالیسی یا مالیاتی و انتظامی فیصلہ لینے سے گریز کریں اور یونیورسٹی میں باقاعدہ وائس چانسلر کی تقرری تک اپنے آپ کو روزمرہ کے معاملات چلانے تک محدود رکھیں حتیٰ کہ کسی قسم کی بھرتیاں بھی نہ کریں اور نہ ہی انتظامی و تدریسی عملے کو تبدیل یا معطل کریں مگر سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود وفاقی و صوبائی وزارت تعلیم کی طرف سے یونیورسٹیوں میں جاری بے قاعدگیوں کا نوٹس نہیں لیا جا رہا اور یہ بے قاعدگیاں جاری ہیں۔






