تازہ ترین

یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں غیرآئینی بورڈ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ اجلاس، پی ایچ ڈی و ایم فل منظوریوں کا انکشاف

ملتان (سٹاف رپورٹر) یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے نام پر ایک سنگین قانونی بے ضابطگی سامنے آ گئی ہے جہاں بورڈ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ (BASAR) کی چوتھی میٹنگ منعقد کر کے 40 پی ایچ ڈی اور 93 ایم فل ریسرچ پروپوزلز کی منظوری دے دی گئی، تاہم جب اس میٹنگ کا باریک بینی سے جائزہ یونیورسٹی آف اوکاڑا ایکٹ 2016 کے سیکشن 26 کی روشنی میں لیا گیا تو یہ انکشاف ہوا کہ مذکورہ میٹنگ اپنی قانونی حیثیت کھو چکی تھی اور اس کے فیصلے نہ صرف مشکوک بلکہ غیر قانونی قرار پاتے ہیں۔ اس میٹنگ کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے کی جبکہ پرو وائس چانسلر، ایڈیشنل رجسٹرار، ایڈیشنل کنٹرولر امتحانات، ڈائریکٹر BASAR اور ڈپٹی ڈائریکٹر BASAR سمیت چند بیرونی ممبران نے شرکت کی، مگر حیران کن طور پر وہ بنیادی اور لازمی عہدے دار اور ممبران میٹنگ میں نظر نہیں آتے جن کی موجودگی ایکٹ کے تحت BASAR کے لیے ناگزیر ہے۔ یونیورسٹی آف اوکاڑا ایکٹ 2016 میں واضح طور پر ذکر ہے کہ BASAR وائس چانسلر، تمام ڈینز، کنٹرولر آف امتحانات، ہر فیکلٹی سے ایک پروفیسر جو سنڈیکیٹ کی جانب سے نامزد ہو، وائس چانسلر کے نامزد کردہ ایک یونیورسٹی افسر، سنڈیکیٹ کے نامزد کردہ تین ماہرین (جن میں کم از کم ایک خاتون) اور رجسٹرار بطور سیکرٹری پر مشتمل ہو گی، مگر یونیورسٹی آف اوکاڑہ کی بصر کی میٹنگ میں تمام ڈینز کی شرکت کا کوئی ذکر موجود نہیں، رجسٹرار کے بجائے ایڈیشنل رجسٹرار کو سیکرٹری ظاہر کیا گیا، کنٹرولر امتحانات کی جگہ ایڈیشنل کنٹرولر شریک رہا، جبکہ سنڈیکیٹ کی جانب سے نامزد فیکلٹی پروفیسرز اور ماہرین کی قانونی نامزدگی کے حوالے سے بھی کوئی تحریری ثبوت موجود نہیں۔ مزید برآں BASAR میٹنگ کے لیے درکار کورم کے بارے میں بھی کوئی شفاف تفصیل سامنے نہیں لائی گئی جس سے شکوک و شبہات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ جب BASAR کی تشکیل ہی یونیورسٹی ایکٹ کے مطابق نہ ہو تو اس کے کیے گئے تمام فیصلے قانوناً کالعدم تصور ہوتے ہیں اور ایسی میٹنگ کو محض رسمی کارروائی یا “من پسند منظوری مشین” قرار دیا جا سکتا ہے، جس کے ذریعے اعلیٰ ڈگریوں کی منظوری دے کر نہ صرف قانون کو نظر انداز کیا جا رہا ہے بلکہ سینکڑوں طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو بھی خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایڈیشنل افسران کی شرکت سے قانونی عہدوں کا خلا پُر نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی غیر مجاز ممبران کی موجودگی BASAR کو آئینی تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔اس مبینہ غیر قانونی BASAR میٹنگ کے ذریعے منظور کیے گئے پی ایچ ڈی اور ایم فل پروپوزلز مستقبل میں کسی بھی عدالتی یا انتظامی جانچ پڑتال کی صورت میں شدید خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں جس سے نہ صرف طلبہ بلکہ سپروائزرز اور خود یونیورسٹی انتظامیہ بھی قانونی گرفت میں آ سکتی ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ہائر ایجوکیشن کمیشن، گورنر پنجاب اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اس کھلی قانونی خلاف ورزی کا نوٹس لیں گے یا یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں اعلیٰ تعلیم کے نام پر قانون شکنی کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہے گا۔ اس بارے میں موقف کے لیے جب یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے وائس چانسلر ڈاکٹر سجاد مبین کے پرسنل سیکرٹری شرجیل احمد سے بات کی گئی تو ان کا موقف تھا کہ اس معاملے پر تمام متعلقہ افراد سے بات چیت کر لی ہے اور پوری ذمہ داری کے ساتھ آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ BASAR کی تشکیل مکمل طور پر یونیورسٹی آف اوکاڑہ ایکٹ کے مطابق تھی۔ اجلاس کا کورم مکمل تھا اور ہمارے پاس تمام متعلقہ نوٹیفکیشنز اور حاضری کے ریکارڈ موجود ہیں۔ لہٰذا جو معلومات آپ تک پہنچی ہیں وہ سراسر بے بنیاد ہیں اور کچھ بدنیتی پر مبنی مقاصد کے تحت پھیلائی گئی ہیں۔ اس لیے آپ کو ایسی پروپیگنڈا پر مبنی باتوں پر توجہ نہیں دینی چاہیے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں