تازہ ترین

یونیورسٹی آف اوکاڑہ، خاتون پروفیسر کی ہراسانی نے تعلیمی حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا

ملتان(سٹاف رپورٹر) یونیورسٹی آف اوکاڑہ ایک بار پھر شدید تنازعے کی زد میں آ گئی ہے جہاں ایک نہایت سنگین، تشویشناک اور سنسنی خیز شکایت نے اعلیٰ تعلیمی حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ فزکس ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والی ٹینور ٹریک سسٹم کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شہلا ہنی نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رانا سجاد مبین کے خلاف ورک پلیس پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ کے ایکٹ 2010 کے تحت باقاعدہ شکایت دائر کر دی ہے، جس میں ہراسانی، اختیارات کے ناجائز استعمال، دھمکیوں، خوف و ہراس پھیلانے، اذیت زدہ کام کا ماحول پیدا کرنے اور انتقامی کارروائی جیسے نہایت سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ شکایت کے متن کے مطابق ڈاکٹر شہلا ہنی نے 3 ستمبر 2024 کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ٹینور ٹریک سسٹم ماڈل ورژن 2.0 (2008) کے عین مطابق اسسٹنٹ پروفیسر سے ایسوسی ایٹ پروفیسر (ٹینورڈ) کے عہدے پر ترقی کے لیے اپنی درخواست جمع کروائی۔ اس کے بعد 17 فروری 2025 کو ان کی ڈیپارٹمنٹل ٹینور ریویو کمیٹی کا اجلاس باقاعدہ طور پر منعقد ہوا جو کامیابی سے مکمل ہوا، شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ پیشہ ورانہ معاملات کے آغاز میں وائس چانسلر کی جانب سے براہِ راست رابطے کی اجازت دی گئی، تاہم بعد ازاں یہی رابطہ مبینہ طور پر دباؤ، غیر رسمی اور غیر ضروری ملاقاتوں کے مطالبات میں تبدیل ہو گیا۔ ڈاکٹر شہلا ہنی کی جانب سے دائر کردہ شکایت کے مطابق جب انہوں نے ان غیر اخلاقی اور غیر پیشہ ورانہ مطالبات ماننے سے انکار کیا تو انہیں مبینہ طور پر دھمکی آمیز اور توہین آمیز آڈیو پیغامات موصول ہوئے، جو واضح طور پر ذہنی اذیت، نفسیاتی دباؤ اور زبانی ہراسانی کے زمرے میں آتے ہیں۔ شکایت میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ انکار کے بعد ان کے ساتھ انتقامی رویہ اختیار کیا گیا اور ایک خوفناک و غیر محفوظ ورکنگ ماحول پیدا کیا گیا تاکہ انہیں خاموش کرایا جا سکے۔ یہ صورتحال نہ صرف ایک خاتون استاد کے وقار، پیشہ ورانہ آزادی اور ذہنی سکون پر حملہ ہے بلکہ پورے تعلیمی نظام، خصوصاً ٹینور ٹریک جیسے شفاف سمجھے جانے والے نظام پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ تعلیمی و سماجی حلقوں میں اس شکایت کے سامنے آنے کے بعد شدید تشویش پائی جاتی ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ معاملے کی غیر جانبدار، شفاف اور فوری تحقیقات کی جائیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ایسے سنگین الزامات کی مکمل اور منصفانہ جانچ نہ کی گئی تو یہ کیس اعلیٰ تعلیمی اداروں میں خواتین کے لیے مزید عدم تحفظ اور خوف کی فضا کو جنم دے سکتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ تمام الزامات شکایت کنندہ کے مؤقف پر مبنی ہیں اور حتمی فیصلہ مجاز فورمز اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آ سکے گا۔ تاہم یہ معاملہ اس امر کی فوری نشاندہی ضرور کرتا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں احتساب، شفافیت اور خواتین کے تحفظ کے قوانین پر حقیقی عملدرآمد اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس بارے میں یونیورسٹی کے پی آر او و پرسنل سیکرٹری ٹو وی سی شرجیل احمد کوئی جواب نہ دے سکے۔

ہرفورم پر ڈاکٹرسجاد مبین کو بے نقاب کرونگی: ڈاکٹرشہلاہنی

ملتان (سٹاف رپورٹر)اسسٹنٹ پروفیسر اوکاڑہ یونیورسٹی ڈاکٹرشہلاہنی جوکہ وائس چانسلرڈاکٹرراناسجادمبین کی ہراسمنٹ کاشکار ہیں نے روزنامہ قوم سے گفتگوکرتے ہوئے کہاہے کہ وہ ہرفورم پرڈاکٹرسجادمبین کوبے نقاب کریں گی تاکہ دیگرخواتین ان سے محفوظ رہ سکیں،کیونکہ وہ بہت سی خواتین کوبلیک میل کررہے ہیں،بہت سی خواتین بدنامی کے ڈراورخوف کے باعث سامنے نہیں آتیں،اس لیے میں بارش کاپہلاقطرہ بننے کوتیارہوںاورمیں وی سی کواس کے انجام تک پہنچائوں گی خواہ مجھے کتنی ہی تگ ودوکرنی پڑے۔میں عورتوں کیلئے رول ماڈل بنوں گی اورخواتین میں حوصلہ پیداکرنے کاسبب بنوں گی بجائے ڈرکے مارے میدان میں آئیں اورایسے ناسوروں کامقابلہ کریں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں