تازہ ترین

یونیورسٹی آف اوکاڑہ، آئی ٹی تعلیم بحران کا شکار، غیر منظور شدہ ڈگریوں کا سنگین انکشاف

ملتان (سٹاف رپورٹر) پنجاب میں اعلیٰ تعلیم، بالخصوص آئی ٹی اور کمپیوٹر سائنس کے شعبوں میں معیار اور ایکریڈیشن کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ روزنامہ قوم کو دستیاب سرکاری و تعلیمی ریکارڈ کے مطابق یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں کمپیوٹر سائنس اور اس سے متعلقہ ڈگری پروگرامز کی نیشنل کمپیوٹر ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل (NCEAC) کے تحت صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق یونیورسٹی آف اوکاڑا کا بی ایس کمپیوٹر سائنس پروگرام اگرچہ ایکریڈیشن وزٹ کے مرحلے سے گزر چکا ہے، تاہم اس کی ایکریڈیشن 30 مئی 2024 کو ایکسپائر ہو چکی ہے، جس کے باعث یہ پروگرام اس وقت NCEAC سے منظور شدہ نہیں۔ یہ پروگرام فال 2019 میں شروع کیا گیا تھا اور اس کے لیے 50 نشستیں مختص کی گئی تھیں، مگر ایکریڈیشن کی مدت ختم ہونے کے بعد طلبہ کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ اسی طرح بی ایس انفارمیشن ٹیکنالوجی پروگرام، جو فال 2018 سے جاری ہے، ماضی میں ایکریڈیشن حاصل کر چکا تھا، تاہم اب یہ ایکریڈیشن بھی ایکسپائر ہو چکی ہے اور 30 مئی 2024 کے بعد یہ پروگرام بھی غیر منظور شدہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، بی ایس ڈیٹا سائنس پروگرام کی صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق اس پروگرام کو زیرو وزٹ کی بنیاد پر رکھا گیا، اور 29 دسمبر 2021 کے فیصلے میں اسے Not Approved قرار دیا گیا، حالانکہ اس کے لیے 50 نشستیں مختص کی گئی تھیں۔ یعنی یہ پروگرام ابتدا سے ہی مکمل ایکریڈیشن حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق بغیر فعال ایکریڈیشن کے جاری کیے جانے والے یہ پروگرام نہ صرف طلبہ کے قیمتی وقت اور لاکھوں روپے فیسوں کو داؤ پر لگا رہے ہیں بلکہ ان کی ڈگریوں کی قومی و بین الاقوامی سطح پر افادیت بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ایسی ڈگریاں نہ تو معیاری ملازمت کی ضمانت دیتی ہیں اور نہ ہی اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ایک سرکاری چارٹرڈ یونیورسٹی میں آئی ٹی اور کمپیوٹر سائنس کے اہم پروگرامز ایکریڈیشن سے محروم ہوں تو طلبہ کو داخلے کس بنیاد پر دیے جا رہے ہیں؟ کیا یہ صورتحال اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مؤثر نگرانی کے فقدان کا ثبوت نہیں؟ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس معاملے پر نہ تو نیشنل کمپیوٹر ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل کی جانب سے کوئی سخت لائحہ عمل سامنے آ رہا ہے اور نہ ہی ہائر ایجوکیشن کمیشن یا صوبائی حکومت کی طرف سے واضح احتساب نظر آتا ہے۔ نتیجتاً طلبہ کا مستقبل غیر یقینی، جبکہ ادارے بغیر مکمل منظوری کے ڈگریاں جاری کرنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ کیا پنجاب کے طلبہ اسی طرح غیر معیاری اور ایکسپائرڈ ایکریڈیشن والی ڈگریوں کے بوجھ تلے دبے رہیں گے، یا کوئی ذمہ دار ادارہ اس نظامی خرابی کا نوٹس لے گا؟ یہ سوال اب محض طلبہ نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کے لیے ایک کھلا چیلنج بن چکا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں