horain kidnaping case

ہیکرزجھگڑا، 70کروڑپراداروں کی رال ،طاقتورمحکمےنےمزیدڈھائی کروڑاینٹھ لئے

ڈی پی او لودھراں کی غلام سرورسے ون ٹوون ملاقات،سیشن جج سے بھی ملے،ہیکرخاندان کی اسلام آبادمیں95کروڑکےفارم ہائوس میں منتقلی کی تیاریاں

ایف آئی اے کی سہولت کاری ، وقاص سرور اور عمیر سرور نے ایف بی آرملازم یاسین سے 50 لاکھ میں انکم ٹیکس ریٹرن معاملہ سیدھاکرالیا

لودھراں:اغوا کی جانے والی بچی حوارین والدین کے ہمراہ

ملتان( سٹاف رپورٹر) مختلف بینکوں کے ہیکنگ کے ذریعے نکالے گئے 70 کروڑ کی تقسیم پر دو ہیکر پارٹیوں کے جھگڑے پر عید کے دن النور ٹائون کے بنگلے سے اغوا ہونیوالی حورین کو اغوا برائے تاوان کا رنگ دے کر جہاں پولیس نے انعامات اور نوازشات سے اپنے دامن بھر لئے وہاں دیگر محکموں نے بھی ان ہیکروں کی جیبیں ڈھیلی کرنے کیلئے کارروائیاں شروع کررکھی ہیں ۔بتایا گیا ہے کہ ایک طاقت ور محکمے نے پولیس کے ریٹائرڈ سب انسپکٹر غلام سرور سے ڈھائی کروڑ روپے مزید اینٹھ لئے ہیں جبکہ گزشتہ روز ڈی پی او لودھراں نے اپنے پی آر او کے ذریعے غلام سرور کو اپنے دفتر بلایا اور یہ ون ٹو ون ملاقات 20 منٹ جاری رہی۔ لودھراں کے اس ہیکر خاندان نے اسلام آباد میں خریدے گئے 95 کروڑ کے فارم ہائوس میں شفٹ ہونے کیلئے سامان باندھنا شروع کردیا ہے جبکہ حورین کے والد وقاص سرور جس پر ایف آئی اے نے مختلف شہروں میں مقدمات درج کروا رکھے ہیں وہ منظر سے غائب ہے اور اسی لئے مقدمہ کا مدعی حورین کے چچا عمیر سرور کو بنایا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایف آئی اے کی سہولت کاری کی بدولت وقاص سرور اور عمیر سرور نے مبینہ طور پر 16 کروڑ کی خطیر رقم خرچ کرکے اور اپنے ہیوی اکائونٹ ظاہر کرکے وقاص کے ایف آئی اے کے ملزم ہونے کے دنیا بھر کے 9 شہروں کے ویزے لگوا رکھے ہیں ۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے لودھراں میں تعینات یاسین نامی نچلے درجے کے ملازم نے بھی ان سے 50 لاکھ روپے اینٹھ کر ان کا انکم ٹیکس ریٹرن کا معاملہ سیدھا کردیا ہے۔ اسی ہیکر فیملی کے پاس 2024ء ماڈل کی تین ہنڈا سوک گاڑیاں رینج روور کے علاوہ ہیں جو حال ہی میں انہوں نے خریدی ہیں۔ روزنامہ قوم کی خبر کے حوالے سے جب پولیس کے ترجمان سے لودھراں کے صحافیوں نے پوچھا کہ روزنامہ قوم کی رپورٹنگ تو حقیقت پر مبنی ہے تو پی آر او نے کہا کہ میں اس کا جواب نہیں دے سکتا۔ علاوہ ازیں گزشتہ روز ڈی پی او لودھراں نے خصوصی طور پر سیشن جج لودھراں سے وقت لے کر ان سے ملاقات کی، ناجائز اسلحہ کے مقدمہ میں گرفتار ملزمان جنہیں اغوا برائے تاوان کے مقدمہ میں انسداد دہشت گردی کی ملتان میں موجود عدالت کے جج نے بری کردیا تھا مگر انہیں ناجائز اسلحہ کے علیحدہ مقدمہ میں کمرہ عدالت سے باہر نکلتے ہی گرفتار کرلیا گیا چونکہ اغوا برائے تاوان کا مقدمہ تھانہ سٹی لودھراں میں درج ہے اور اس تھانے کے متعلقہ جج ایاز محمود ہیں جن کی عدالت میں گزشتہ روز ملزمان کو ہر حال میں پیش کیا جانا تھا مگر انہیں پیش نہیں کیا گیا اور اس کوتاہی پر عدالت کی طرف سے کارروائی کی گئی ہے اس بارے معلومات نہیں مل سکیں۔ ایک ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس کی طرف سے مدعی اور ملزمان دونوں پر دبائوہے اور اسی لئے مقدمے کے مدعی سے پولیس کے حق میں بیان لے کر سوشل میڈیا پر ڈالا گیا مگر اندرون خانہ جاری کھیل کی نوعیت کافی مختلف ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں