بہاولپور: معدنیات ٹھیکیدار کا ایکسین انہار کے دفتر پر دھارا، افسروں، ملازمین پر تشدد-بہاولپور: معدنیات ٹھیکیدار کا ایکسین انہار کے دفتر پر دھارا، افسروں، ملازمین پر تشدد-لودھراں: پیرا فورس ملازمین کی دھمکیاں، ناجائز جرمانے، تاجر خوفزدہ، تحقیقات شروع-لودھراں: پیرا فورس ملازمین کی دھمکیاں، ناجائز جرمانے، تاجر خوفزدہ، تحقیقات شروع-بہاولپور: ڈی پی او آفس کی لابی نے پولیس نظام کی لنکاڈھادی،فرمائشی تعیناتیاں-بہاولپور: ڈی پی او آفس کی لابی نے پولیس نظام کی لنکاڈھادی،فرمائشی تعیناتیاں-کوہ سلیمان سمگلرز کے حوالے، ملتان، ڈیرہ سمیت بنجاب بھر میں مال سپلائی، رسمی کاروائی-کوہ سلیمان سمگلرز کے حوالے، ملتان، ڈیرہ سمیت بنجاب بھر میں مال سپلائی، رسمی کاروائی-بہاولپور میں غنڈہ راج، بااثر افراد کا باپ بیٹے پر وحشیانہ تشدد، ویڈیو وائرل، پولیس تماشائی-بہاولپور میں غنڈہ راج، بااثر افراد کا باپ بیٹے پر وحشیانہ تشدد، ویڈیو وائرل، پولیس تماشائی

تازہ ترین

ہوٹل بجلی چوری: پرانے لیٹر پر نئی انسپکشن، چیف انجینئر میپکو کیخلاف ناقابل تردید شواہد

ملتان (سٹاف رپورٹر) میپکو اور نجی لگژری ہوٹل کے بجلی چوری سکینڈل میں اب جو حقائق سامنے آ رہے ہیں وہ محض بدعنوانی نہیں بلکہ قانون، قواعد اور ادارہ جاتی وقار کے ساتھ کھلا مذاق ثابت ہو رہے ہیں۔ اس سکینڈل میں چیف انجینئر P&E میپکو کی نااہلی، بدانتظامی اور مبینہ سہولت کاری کے ایسے ناقابلِ تردید شواہد سامنے آ گئے ہیں جن پر خاموشی خود ایک بہت بڑا جرم بن چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق چیف انجینئر نے اپنے ہی تحریر کردہ سابقہ لیٹر جس کی بنیاد پر پہلے ایک انسپکشن کروائی جا چکی تھی، اسی لیٹر کو بعد ازاں چھیڑ چھاڑ (ٹیمپرنگ) کے بعد دوبارہ قابلِ استعمال ظاہر کر کے اسی پر دوسرے مرحلے کی انسپکشن بھی کروا دی۔ یہ اقدام نہ صرف تکنیکی ضابطوں بلکہ انتظامی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ قانون کے مطابق اس نوعیت کے سنگین معاملے میں نئی انسپکشن کمیٹی کی تشکیل، نیا این او سی اور مکمل ازسرِ نو جانچ پڑتال لازم تھی مگر حیران کن طور پر ان تمام تقاضوں کو روندتے ہوئے پرانے لیٹر کو ہی ڈھال بنا لیا گیا۔ اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ چونکا دینے والا پہلو یہ ہے کہ ایک ہائی سکیورٹی نجی لگژری کلب سے اتنا بڑا اور مہنگا 11KV پینل مبینہ طور پر’’چوری‘‘ ہو گیا مگر نہ سکیورٹی پر سوال اٹھا اور نہ ہی ذمہ داروں کا تعین کیا گیا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ایسا مقام جہاں سکیورٹی کے دعوے آسمان سے باتیں کرتے ہیں، وہاں سے بھاری بھرکم برقی پینل غائب ہو جائے اور ادارہ آنکھیں بند کر کے خاموش تماشائی بنا رہے؟ اس خاموشی نے شکوک کو یقین میں بدل دیا ہے کہ معاملہ چوری نہیں بلکہ شواہد مٹانے کی منظم کوشش تھا۔ کرپشن اور جعلسازی کا سب سے مضبوط ثبوت یہ ہے کہ دونوں 11KV پینلز کی انسپکشن بالترتیب 25-01-2024 اور 26-06-2025 کو کی گئی مگر حیرت انگیز طور پر دونوں انسپکشنز کا ریفرنس چیف انجینئر P&E میپکو کے ایک ہی لیٹر نمبر CPE 534895400 مورخہ 01-11-2023 ہے۔ یعنی ایک ہی لیٹر پر دو مختلف تاریخوں میں دو انسپکشنز! یہ عمل کسی غفلت کا نتیجہ نہیں بلکہ واضح طور پر ریکارڈ میں ردوبدل اور ادارہ جاتی فراڈ کی نشاندہی کرتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پرانے لیٹر کو بنیاد بنا کر نئی انسپکشن کروانا اور اسی کی آڑ میں نیا 11KV پینل نصب اور انرجائز کروانا قانون، نیپرا قوانین اور میپکو کے اندرونی ایس او پیز کے منہ پر طمانچہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر پہلا پینل واقعی چوری ہو گیا تھا تو اس کی مکمل تحقیقات کیوں نہ ہوئیں؟ اگر معاملہ مشکوک تھا تو نئی انسپکشن کمیٹی کیوں تشکیل نہ دی گئی؟ اور اگر سب کچھ شفاف تھا تو پھر ایک ہی لیٹر کو بار بار استعمال کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ یہ قسط اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ میپکو میں صرف فیلڈ لیول پر نہیں بلکہ اعلیٰ ترین تکنیکی عہدوں پر بیٹھے افسران بھی یا تو اپنی نااہلی ثابت کر رہے ہیں یا پھر دانستہ طور پر ایک بڑے مالی اور انتظامی اسکینڈل کو کور فراہم کر رہے ہیں۔ پرانے لیٹر پر نئی انسپکشن، مشکوک’’چوری‘‘، نیا پینل اور مکمل خاموشی یہ سب مل کر ایک ایسے منظم جرم کی تصویر بناتے ہیں جس میں قانون صرف کاغذ تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ یہ سب کیسے ہوا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا چیف انجینیئر اور دیگر ذمہ دار افسران سے باز پرس ہوگی؟ یا حسبِ روایت اس معاملے کو بھی فائلوں کے نیچے دبا کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک دی جائے گی؟ عوامی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس پورے معاملے کی آزاد، غیر جانبدار اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کروائی جائیں، کیونکہ بصورتِ دیگر یہ سکینڈل نہ صرف میپکو بلکہ پورے نظامِ احتساب کے لیے ایک کھلا چیلنج بن چکا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں