ملتان ( خصوصی رپورٹر) ہارٹیکلچر ایجنسی ملتان میں بدانتظامی اور سرکاری احکامات کی مسلسل خلاف ورزی پر ڈپٹی ڈائریکٹر مارکیٹنگ سمیت تین ملازمین کے خلاف انکوائری شروع کرنے کی سفارش کردی گئی، ڈائریکٹر مارکیٹنگ نے ایم ڈی اور ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ فنانس کو لیٹر لکھ دیا ۔ڈائریکٹر مارکیٹنگ کی جانب سے جاری کردہ مراسلے میں ڈپٹی ڈائریکٹر مارکیٹنگ سلیم اختر، آفس اسسٹنٹ آمنہ منیر اور جونیئر کلرک کاشف پر سرکاری ہدایات پر عمل نہ کرنے، عدم تعاون اور دفتری نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ افسران کی جانب سے طویل عرصے سے عدم تعاون اور سرکاری امور میں غفلت کا رویہ اختیار کیا جا رہا تھا جس کے باعث ہارٹیکلچر ایجنسی کے امور متاثر ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں منیجنگ ڈائریکٹر کی ہدایت پر مختلف سرکاری خطوط تیار کرنے اور آئندہ منصوبہ بندی سے متعلق انہیں کام سونپا گیا تھا، جس میں نجی کمپنیوں اور اداروں کے ساتھ ملاقاتوں کے لیے خطوط تیار کرنا اور مستقبل کے آکشن پلان کے لیے فہرست مرتب کرنا شامل تھا۔دستاویز کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر مارکیٹنگ سلیم اختر کو اس کام کی نگرانی کی ذمہ داری دی گئی تھی تاہم وہ دفتر نہیں آئے جبکہ دیگر دو ملازمین کو ڈرافٹس تیار کرنے کی ہدایت دی گئی تھی لیکن انہوں نے بھی کام مکمل کیے بغیر دفتر چھوڑ دیا۔مزید بتایا گیا کہ سلیم اختر کو لاہور میں ہونے والے مختلف سرکاری اجلاسوں میں شرکت کے لیے بھی ہدایت دی گئی تھی لیکن انہوں نے مبینہ طور پر ان ہدایات پر بھی عمل نہیں کیا۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ان افسران کا رویہ سرکاری احکامات کی مسلسل خلاف ورزی، نظم و ضبط کی کمی اور دفتری ذمہ داریوں سے غفلت کو ظاہر کرتا ہے۔ڈائریکٹر مارکیٹنگ نے ایم ڈی ہارٹیکلچر ایجینسی اور ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ فنانس کو لکھے گئے لیٹر میں سفارش کی ہے کہ مذکورہ افسران کے خلاف متعلقہ قوانین خصوصاً پیڈا ایکٹ کے تحت باضابطہ انکوائری شروع کر کے تادیبی کارروائی کی جائے۔







