جعلی وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو کی کی غیر قانونی رجسٹرار نصراللہ بابر کی ملی بھگت سے اپنی سیٹ پکی کرنے کے منصوبہ پر وزارت تعلیم نے پانی پھیر دیا
وائس چانسلر کیلئے اخباری اشتہار سراسر غیر قانونی، متعلقہ فورم اور اتھارٹی کی اجازت کے بغیر جلد بازی میں دیا گیا ،قانونی کارروائی کرینگے:سیکشن آفیسر
کالرو اور نصر اللہ خان بابر کی تعیناتیوں کے دوران اربوں کی جائیدادوں کا اضافہ
انتظامیہ اور سینڈیکیٹ دونوں سے غیر قانونی اقدامات کی بابت تحقیقات کا مطالبہ
ڈاکٹر اختر کالرو ،جعلی رجسٹرار کو فوری طور پر معطل کر کے گرفتار کیا جائے:ملازمین
روزنامہ قوم نے 11 جنوری کو جعلی اشتہار کا بھانڈاپھوڑا اور تحقیقاتی رپورٹ شائع کی
ملتان(سٹاف رپورٹر)این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے جعلی اور غیر قانونی وائس چانسلر کی غیر قانونی رجسٹرار نصراللہ بابر کی ملی بھگت سے ایک اور غیر قانونی کاروائی کا انکشاف ہوا ہے ۔ تفصیل کے مطابق این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے رجسٹرار نصر اللہ خان بابر جو کہ 2012 سے خود عارضی طور پر رجسٹرار کی کرسی پر قابض ہیں، نے وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو جو کہ وائس چانسلر کی کرسی پر 2017 میں برخاستگی کے بعد سے غیر قانونی طور پر قابض ہیں کی ملی بھگت سے 10 جنوری 2024 کو ایک مقامی اخبار میں وائس چانسلر کی پوزیشن کے لیے اشتہار دیا۔ اور اس کی آخری تاریخ 29 جنوری رکھی گئی ۔اس بارے صدر پاکستان، وفاقی وزارت تعلیم، ہایٔر ایجوکیشن کمیشن کو مقامی پروفیسر مرزا زوہیب کی طرف سے لکھا گیا لیٹر موصول ہوا جس پر روزنامہ قوم کے انویسٹی گیشن سیل نے اس اشتہار کے حوالے سے تحقیقات کیں تو معلوم ہوا کہ یہ اخبار اشتہار صرف اور صرف بد نیتی پر مبنی تھا اور یہ اخبار اشتہار صرف غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو نے اپنی چوتھی مرتبہ تعیناتی کے لیے دیا تھا۔ اس بارے روزنامہ قوم کے انویسٹی گیشن سیل نے 11 جنوری کو اس جعلی اخبار اشتہار کا بھانڈاپھوڑا اور ساتھ ہی ایک تحقیقاتی رپورٹ بھی شائع کی جس کے مطابق یہ اخبار اشتہار صرف اور صرف بد نیتی پر مبنی تھا۔ اور یہ بغیر کسی منظوری کے دیا گیا تھا ۔ کیونکہ ابھی تک یونیورسٹی سینیٹ کا ہی وجود نہ ہے تو سرچ کمیٹی کیسے بن سکتی تھی اور اس کی سفارشات کیسے مرتب ہو سکتی ہیں۔ اور پھر سب سے حیران کن امر یہ تھا کہ اس اخبار اشتہار کے مطابق آخری تاریخ 29 جنوری 2024 رکھی گئی اور وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو نے 31 جنوری کو 65 سال کا ہو جانا تھا جبکہ قابلیت میں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ وائس چانسلر کے لیے عمر 29 جنوری سے پہلے پہلے 65 سال سے کم ہونی چاہیے ۔ قانون تو جیسے مرضی چاہو بدل لو۔ اس بارے میں سیکرٹری وفاقی وزارت تعلیم نے روزنامہ قوم کی اس خبر پر تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ یہ اخبار اشتہار تو سرے سے غیر قانونی ہے اور اس بارے وفاقی وزارت تعلیم کے سیکشن آفیسر شکیل محمود بٹ کی جانب سے ایک عوامی اعلان 14 جنوری 2024 کو جاری ہوا کہ این ایف سی انتظامیہ کی جانب سے وائس چانسلر کی آسامی کے لیے اخباری اشتہار سراسر غیر قانونی ہے اور یہ اخباری اشتہار متعلقہ فورم اور اتھارٹی کی اجازت کے بغیر جلد بازی میں دیا گیا ہے اور اسی بابت این ایف سی انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے اور خواہش مند افراد کو اس اخباری اشتہار کے مطابق وائس چانسلر کی پوزیشن پر اپلائی کرنے سے منع کر دیا گیا ہے ۔ اس بارے میں این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے پروفیسرز حضرات اور ملازمین کی جانب سے یہ بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ان غیر قانونی کارروائیوں میں ملوث غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو اور غیر قانونی رجسٹرار کو فوری طور پر معطل کر کے گرفتار کیا جائے اور قرار واقعی سزا دی جائے ۔ یاد رہے کہ غیر قانونی رجسٹرار نصر اللہ خان بابر وہی ہیں جن کے بیٹے مہد خان بابر کے این ایف سی یونیورسٹی وی سی ہاؤس کوذاتی سرگرمیوں کے استعمال کے حوالے سے خبریں مختلف اخبارات میں شائع ہو چکی ہیں ۔ ایک اور بات قابل غور ہے کہ این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے ایک پروفیسر کے مطابق غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو اور غیر قانونی رجسٹرار نصر اللہ خان بابر کی تعیناتیوں کے دوران 2012 سے اب تک اربوں روپے مالیت کی جائیدادوں کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اسی بارے میں این ایف سی ملازمین اور پروفیسر کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسیوں سے گزارش ہے کہ این ایف سی انتظامیہ اور سینڈیکیٹ ان دونوں سے ان کے غیر قانونی اقدامات کی بابت تحقیقات کی جائیں ۔








