ملتان(نیوز رپورٹر) گندم سٹاک مافیا کا راج برقرار، عوام اور کسان دونوں پس کر رہ گئے 2000 روپے من خریدی گئی گندم 4800 روپے میں فروخت، آٹا چکیوں پر 20 کلو 4500 روپے تک جا پہنچا۔ملتان میں گندم اور آٹے کی مصنوعی قلت پیدا کر کے مافیا نے نہ صرف کسانوں کی خون پسینے کی کمائی پر ڈاکہ ڈال رہی ہے بلکہ عام شہریوں کے چولہے بھی بجھانے پر تل گیا ہے۔ شہر میں 15 کلو آٹے کا تھیلا 1850 روپے میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ آٹا چکیوں پر 20 کلو آٹا 4500 روپے تک جا پہنچا ہے، جس نے متوسط اور غریب طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔معروف قانون دان و سماجی رہنما ملک محمد مظفر اٹھنگل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسان سے 2000 روپے من خریدی گئی گندم کو مافیا نے بھاری مقدار میں ذخیرہ کرکے اب 4800 روپے من کے ریٹ پر فروخت کرنا شروع کر دیا ۔ اس ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی نے ثابت کر دیا ہے کہ گندم مافیا حکومتی رٹ سے بھی زیادہ طاقتور ہو چکا ہے اور کھلے عام عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہا ہے۔ سماجی رہنما و صدر ینگ پاکستانیز آرگنائزیشن نعیم اقبال نعیم نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف پنجاب میں آٹے کے بڑھتے ہوئے نرخوں کا فوری نوٹس لیں اور ان فلور ملز مالکان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے جو دو ہزار روپے من خریدی گئی گندم کا آٹا آج مارکیٹ میں چار سے پانچ ہزار روپے من فروخت کر کے عوام کی جیب پر ڈاکا مار رہے ہیں مارکیٹ میں اچھا آٹا ایک سو بیس روپے کلو سے زیادہ میں فروخت ہو رہا ہے وزیر اعلیٰ پنجاب اس مافیا کے خلاف سخت ایکشن لیں۔عوامی احتساب سیل و نیشنل لیبر الائنس کے مرکزی چیئرمین غازی احمد حسن کھوکھر نے کہا کہ پنجاب بھر میں سستی گندم خریدنے والے سرمایہ دار طبقہ غریبوں کو لوٹ رہا ہے، محترمہ مریم نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب سے اپیل ہے کہ وہ محکمہ فوڈ اور پرائس کنٹرول کمیٹی کی کارکردگی کا جائزہ لیکر عوام کو سستا آٹا سستا نان و روٹی فراہم کرنے کی حکومتی پالیسی پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے احکامات جاری فرمائیں۔چیف کوارڈی نیٹر مرکزی انجمن تاجران ملتان کینٹ غضنفرملک نے گفتگو کرتےہوئے کہا وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے پہلے ہی اعلان کیا گیا تھا کہ گندم کی سرکاری قیمت نہ بڑھانے کا مقصد روٹی کو غریب کی پہنچ میں رکھنا ہے، مگر عملی صورتحال اس کے برعکس نظر آئی۔ اس وقت نہ روٹی عوام کی پہنچ میں رہی ہے اور نہ ہی حکومت قیمتوں پر قابو پا سکی ہے۔ سماجی رہنما و جنرل سیکرٹری مرکزی انجمن تاجران ملتان کینٹ معظم وحید خواجہ اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محنت کش کسانوں سے سستی گندم خرید کر مہنگے داموں فروخت کرنا کسان دشمنی اور عوام دشمنی کی بدترین مثال ہے۔ گندم کے مصنوعی بحران نے عام شہریوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں جبکہ حکومتی اقدامات صرف بیانات تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔مرکزی سینئر نائب صدر ہوٹلز اینڈریسٹورنٹس ایسوسی ایشن ساؤتھ پنجاب اعجاز کریم صدیقی نے کہاہے کہ >اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ حکومت بھی اس کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہے۔ کسان 2000 روپے میں گندم بیچنے پر مجبور اور غریب شہری 4500 روپے میں آٹا خریدنے پر، یہ ظلم اپنی مثال آپ ہے۔ فوری کارروائی نہ کی گئی تو آنے والے دنوں میں روٹی مزید مہنگی ہو جائے گی۔سیدشمشادعلی رضوی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ ولیگل ایڈوائزر بی بی سی ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر مافیا کے خلاف سخت اور عملی کارروائی کرتے ہوئے ذخیرہ شدہ گندم برآمد کرائی جائے، اور کسان و صارف دونوں کو ریلیف فراہم کیا جائے، ورنہ مصنوعی بحران شدید تر ہوتا جائے گا۔








