گندم سکینڈل ،’’قوم‘‘کسان کی آواز بن گیا،باردانہ ’’کھانے‘‘ والے اناج دشمنوں کی شامت

گندم سکینڈل ،’’قوم‘‘کسان کی آواز بن گیا،باردانہ ’’کھانے‘‘ والے اناج دشمنوں کی شامت

پراجیکٹ منیجر،پرچیز آفیسرز کی زونل ہیڈ پاسکو ملتان کے ’’دربار‘‘ پر روز حاضری،مال کا ’’حساب کتاب‘‘
افتخار الدین نے لودھراں میںپرچیزآفیسر عبد الجبارسندھی کوسندھ سے لا کرمختار کار بنا رکھا
پاسکو کا بدنام ٹھیکیداراور سمگلراظہار الحق آرائیں افسران کی ’’خدمت‘‘ میں پیش پیش
گزشتہ ہفتےمظفرگڑھ13،لودھراں21،میلسی55،بوریوالا میں 6 کروڑ کی ’’کمائیاں
حق دار کاشتکاروں کو باردانہ کا 10فیصد بھی میرٹ پر پورے جنوبی پنجاب میںنہ مل سکا


ملتان(میاں غفار سے) پاسکو گندم خریداری سنٹروں میں بیوپاریوں اور ذخیر اندوزوں کو باردانہ سپلائی کرنے اور کاشتکار کو شہر شہر احتجاج کرنے کے باوجود سرکاری طور پر گندم کاشتکاروں سے نہ خریدے جانے کا منظم سلسلہ جاری ہے اور ملک بھر میں سب سے زیادہ متاثر جنوبی پنجاب کے کاشتکار ہو رہے ہیں۔ ملتان میں تعینات زونل سربراہ افتخار الدین سندھی کے پاس جنوبی پنجاب کے 11 اضلاع میں سے ہر روز کسی نہ کسی ضلع کے پراجیکٹ منیجر اور پرچیز آفیسر جمع شدہ مال کا ’’ حساب‘‘ دینے ملتان آتے ہیںاور افتخار الدین سندھی نے لودھراں ضلع میں بھی عبد الجبارسندھی نامی ایک پرچیزآفیسر کو اپنے ساتھ سندھ سے لا کرمختار کار بنا رکھا ہے جو کہ پاسکو کے بدنام ٹھیکیدار اور جنوبی پنجاب میں آٹے اور گندم کے چند بڑے سمگلروں میں شامل اظہار الحق آرائیں کے پاس ہی قیام پذیر ہے۔اظہار الحق آرائیں ہی عبد الجبار سندھی سمیت پاسکو افسران کے قیام و طعام کا انتظام کرتا ہے اور اس نے بعض افسران کو گاڑیاں بھی دے رکھی ہیں۔بتایاگیا ہے کہ ضلع لودھراں میں باردانہ کی فروخت سے 19 مئی بروز اتوار جو ضلع وار حساب ہو اہے اس کے مطابق ضلع مظفر گڑھ میں باردانہ کی فروخت سے 13 کروڑ روپیہ جمع ہوا جبکہ لودھراں 21 کروڑ کراس کر گیا، میلسی 55 کروڑ،بورے والا6کروڑ جبکہ خان پور ، ڈیرہ غازیخان اور راجن پور سے حتمی معلومات نہیں مل سکیں۔لودھراں میں اڈا پرمٹ،ادھا واہن، نئی بستی اڈا شینال اور لودھراں شہر کے پراجیکٹ منیجر جنید لودھی سے گزشتہ اتوار کی شام تک سارا حساب کر کے دیگر انچارج حضرات کے ساتھ جا کر افتخار الدین گجر کو پیش کر کے پورا پورا حساب دیا۔ جتوئی اور علی پور میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس بھی پاسکو عملے سےبوریاں لے رہی ہیں جبکہ وفاقی اداروں میں باردانے کی بوریاں وصول کرنے میں پہلے نمبر پر ایف آئی اے کے ہر متعلقہ ضلع میں تعینات ملازمین پیش پیش رہے۔ ملتان میں تعینات ایک ایف آئی اے آفیسر جو کہ کنٹریکٹ پر تعینات ہیں وہ بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے اور حقیقت یہ ہے کہ حق دار کاشتکاروں کو باردانہ کا دس فیصد بھی میرٹ پر پورے جنوبی پنجاب میں نہیں مل سکا۔بعض علاقوں میں آراکین قومی اسمبلی کے حکمنامے سے بھی چلتے رہے اور باردانہ کی اس صرف دس فیصد سپلائی میں بھی سیاسی وابستگیاں چلتی رہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں