رحیم یارخان(بیورورپورٹ)گندم اور آٹے کا مصنوعی بحران کا ڈرامہ رچانے والے فلور ملز’’گاڈ فادرز‘‘نے کروڑوں میں گندم خرید کر کے اربوں روپے کما لئے،ضلع بھر میں گندم کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والے فلور ملرز،ذخیرہ اندوزوں اور سٹے بازوں کی چاندی ہوگئی،2200 روپے فی من خرید جانیوالی گندم 5000 روپے من (40 کلو)تک پہنچ گئی،آٹے کی قیمتوں میںبھی خود ساختہ اضافہ کردیاگیا،10 کلو آٹے کا تھیلا1100 روپے،20 کلو آٹے کا تھیلا 2200 تک پہنچ گیا،میدہ ،سوجی کی قیمتو ں میں اضافہ ہوگیا،غربت،مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پسی عوام کی مشکلات میں اضافہ،قیمتوں کو کنٹرول کرنے والے ادارے ضلعی انتظامیہ،پیرا فورس،محکمہ فوڈ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس بھی مافیا کے سامنے بے بس ہوگئے،غریب عوام کی دہائی ،وزیر اعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔تفصیل کے مطابق گزشتہ سال 2025ء میں پنجاب حکومت کی جانب سے گندم کا کاشتکاروں کا استحصال کرتے ہوئے گندم نہ خریدنے کے فیصلے نے غریب عوام کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے،ذرائع کے مطابق ضلع رحیم یارخان میں تقریباً88 سے زائد فلور ملیں ہیں جن میں سے تقریباً66 کے قریب فعال ہیں اور گزشتہ سال ضلع بھر کی تمام فلور ملوں کے مالکان نے”ایکا”کرکے حکومتی فیصلے کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور ضلع رحیم یارخان سمیت پورے جنوبی پنجاب سے لاکھوں ٹن گندم 2 ہزار سے 2200 روپے فی من(40 کلو)کے حساب سے خریداری کرکے فلور ملوں،کرائے کے گوداموں،خفیہ مقامات پر غیر قانونی طریقے سے سٹاک کرلی تھی،ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے گندم کی غیر قانونی نقل و حمل میں نرمی آتے ہی فلور ملرز”گاڈفادرز”نے تین صوبوں کے سنگم،جنوبی پنجاب کے خفیہ راستوں سے بین الصوبائی اور بین الملکی روابط قائم کرکے گندم کی اسمگلنگ کرنا شروع کر رکھی ہے۔ذرائع نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ فلور ملرز”گاڈ فاردرز”نے پاکستان بھر میں تنظیمی عہدیداروں سے ایک خفیہ میٹنگ کرنے کے بعد پہلے گندم اور آٹا کی مصنوعی قلت کا ڈرامہ رچایا اور ساتھ ہی گندم اور آٹا کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کردیا،ذرائع نے بتایا کے رواں ماہ کے دوران گندم کی فی من قیمت میں 2600 سے 2800 روپے تک کا خود ساختہ اضافہ ہوا ہے،مافیا نے پنجاب،سندھ اور بلوچستان بارڈر کے راستے اندرون سندھ،کراچی،بلوچستان،راجن پور اور ڈی جی خان کے راستے سے پشاور،خیبر پختوانخواہ سمیت بیرون ممالک افغانستان سمیت دیگر ملکوں میں گندم کی اسمگلنگ کا مکروہ دھندہ شروع کررکھا ہے۔گندم کی بین الصوبائی اور بین الملکی اسمگلنگ کے باعث ضلع رحیم یارخان سمیت پورے جنوبی پنجاب اور پنجاب بھر میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ ہوگیا ہے،مارکیٹ ذرائع کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ان دنوں گندم کا آٹا فی کلو 125 سے 135 روپے جبکہ 10 کلو آٹے کی 1100 روپے اور 20 کلو آٹے کی تھیلے کی قیمت 2200 روپے تک پہنچ چکی ہے،جس نے مہنگائی،غربت اور بے روزگاری کی چکی میں پسنے والی عوام کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔جبکہ قیمتوں کو کنٹرول کرنیوالے ادارے ضلعی انتظامیہ،پیرا فورس،محکمہ فوڈ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے بھی پر اسرار خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔اس حوالےسے ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مہنگائی کو کنٹرول اور خود ساختہ مہنگائی کرنیوالوں کیخلاف مانیٹرنگ ادارے ہمہ وقت فیلڈ میں موجود ہیں اور خود ساختہ مہنگائی کرنیوالوں کیخلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور مافیا کو بھاری جرمانے کئے جارہے ہیں اور ذخیرہ اندوزی کرنیوالوں کا سٹاک قبضہ میں لے کر گوداموں،ملوں اور کارخانوں کو سیل کیا جارہا ہے۔جبکہ غریب عوام نے دہائیاں دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے اور خود ساختہ مہنگائی کرنیوالوں کیخلاف بھرپور اور بلاامتیاز کارروائیوں کا مطالبہ کیا ہے۔







