اسحاق ڈارکی ہدایت اور سابق وزیر فوڈ سکیورٹی کی معاونت پر پالیسی بنا کر التوا میں رکھی گئی
سرکاری گندم سڑتی رہی،گندم سود کی رقم سے خریدی گئی،حکومت کو ادائیگی میں مشکلات
ملتان( سٹاف رپورٹر) ملکی ضروریات سے زائد گندم موجود ہونے کے باوجود گندم کی امپورٹ کے گھناؤنے کھیل میں ملک بھر کی فلور ملز ایسوسی ایشن کے بعض عہدے دار اور فلور ملز مالکان بھی اندر خانے شامل تھے جنہوں نے بلا ضرورت گندم کے سرکاری ریٹ میں چھ سے سات سو روپے میں اضافہ کروا کی امپورٹ شدہ غیر معیاری گندم فلور ملز کو فروخت کرانے کی راہ ہموار کی۔ امپورٹرز نے سرکاری ریٹ جو کہ 4785 روپے فی من تھا، کی بجائے 2200 سے 2500 روپے فی من سے بھی کم قیمت پر گندم منگوا کر چار ہزار سے 4 ہزار تین سو روپے فی من گندم فلور ملوں کو فروخت کروا کر کروڑوں روپے کھرے کر لیے دوسری طرف عوام کو آلودہ اور کیڑوں سے بھری گندم رمضان پیکیج کے دوران کھلا دی ، گندم کی امپورٹ پالیسی سابقہ دور حکومت میں نگران سیٹ اپ آنے سے قبل ہی تیار کر لی گئی تھی اور سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈارکی ہدایت اور سابق وزیر فوڈ سکیورٹی کی معاونت پر پالیسی بنا کر التوا میں رکھی گئی پھر نگران حکومت کے آتے ہی ان سے بے بنیاد اعداد وشمار کی روشنی میں منظوری لے لی گئی،یہی وجہ ہے کہ سارا ملبہ نگران حکومت پر ڈالا جا رہا ہے جن فلور ملز مالکان نے خود گندم امپورٹ نہ کی انہوں نے بھی 4785 روپے فی من گندم لینے کی بجائے 2300 سے 2600 روپئے تک امپورٹ شدہ گندم اوپن مارکیٹ سے 2800 سے 4200 روپے تک خرید کی اور دو طرفہ منافع کمایا ۔ جبکہ سرکاری گندم گوداموں میں ہی سڑتی رہی۔ اس ظالمانہ اور عوام کش فیصلے سے ازخود حکومت پنجاب پاسکو و دیگر صوبائی حکومتوں نے گزشتہ سال کاشتکار کی گندم بنکوں سے لی گئی سود پر رقم سے خریدی جس کی ادائیگی میں علیحدہ سے مشکلات آ رہی ہیں۔







