گندم امپورٹ ایکسپورٹ میں 32سال سےکرپشن گھوٹالہ

گندم امپورٹ ایکسپورٹ میں32سال سےکرپشن گھوٹالہ ،5لاکھ ٹن باہربھیجنےکی تیاری،آٹامہنگاہونےکاخدشہ

کراچی کے بعض تاجروں نےگندم ایکسپو رٹ کرنے کی اجازت مانگ لی ،گرینڈ کرپشن زرعی ملک میں وقفےوقفےسے جاری، کوئی حکومت روک نہ سکی

پی ڈی ایم حکومت میں بھی گندم قلت کی رپورٹ تیار،نگراں آتےہی’’ کارروائی‘‘ شروع، بحری جہاز7دن میں لنگرانداز،55کروڑڈالرتک منی لانڈرنگ کی گئی

[urdu_multicolumn columns=”2″]

ملتان(سٹاف رپورٹر)ایک طرف حکومت نے گندم کی عین اس وقت امپورٹ کی اجازت دے کر پاکستانی کاشتکار کو برباد کر دیا اور سب سے زیادہ نقصان بھی پنجاب کے کاشتکارکو ہوا اور حیران کن طور پرگزشتہ 32 سال سے

جاری ایک منظم کرپشن جو کہ مخصوص ادوار میں ہوتی ہے کے تحت 5 لاکھ ٹن ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دینے پر غور شروع کر دیاہے اور اس حوالے سے کراچی کے بعض تاجروں نے تحریری طور پر گندم کو ایکسپو رٹ کرنے کی اجازت مانگ لی ہے۔ یہ گرینڈ کرپشن اس زرعی ملک پاکستان میں گزشتہ 32 سال سے وقفوں وقفوں سے جاری ہے اور اسے کوئی بھی حکومت روک نہیں سکی کہ حکومتوں کو پیش کردہ تمام اعداد و شمار جعلی اور فرضی تیار کر کے فائلوں کا پیٹ بھرنے کے بعد اجازت ملنے کی صورت میں کروڑوں کسانوں کو کنگال کر کے چند درجن لوگ اربوں کما لیتے ہیں ۔ پی ڈی ایم کی سابقہ حکومت میں گندم کی قلت کے حوالے سے ایک رپورٹ بنا کر رکھ لی گئی تھی اور جونہی نا تجربہ کاریگران حکومت نے حلف لیا۔ اخبارات الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر مہم شروع کر دی گئی کہ ملک میں گندم کی شدید قلت آنے والی ہے۔ اس حوالے سے بعض ٹائوٹوں کے ذریعے کالم بھی لکھوائے گئے جس پر نگراں حکومت اپنے ابتدائی ایام ہی میں دبائو میں آگئی اور امپورٹ کی اجازت دے دی گئی حالانکہ اس وقت بھی حکومت پنجاب اور وفاقی ادارے پاسکو سمیت نجی شعبے میں وافر گندم موجود تھی اور سندھ کی گندم مارکیٹ میں فروخت کیلئے آنےمیں صرف دو ماہ باقی تھے مگر دھڑا دھڑ گندم منگوائی گئی اور حیران کن امریہ بھی ہے کہ روس اور یوکرائن سے بذریعہ بحری جہاز گندم منگوانے میں کم از کم22 دن درکار ہوتے ہیں اور اس وقت میں لوڈنگ ان لوڈنگ شامل نہیں ہوتی مگر جونہی نگراں حکومت نے دبائو میں آ کر گندم امپورٹ کی اجازت دی تو گندم لے کر پہلا یوکرائنی بحری جہاز صرف 7 دن میںکراچی پورٹ پر پہنچ چکا تھا جس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ اجازت ملنے سے بہت دنوں پہلے ہی سودے ہو چکے تھے ۔ تمام امپورٹرز کو علم تھا جو دھڑا دھڑ سودے کرتے ہیں اوریوکرائن روس اور بلغاریہ سمیت 5 ممالک سے بہت کم اول جبکہ زیادہ تر دوئم، سوئم ، چہارم یعنی تھرڈ کلاس گندم کی بکنگ جاری تھی اور جونہی حکومت کی طرف سے اجازت کے بعد ڈالرجاری ہوئے تو ملکی تاریخ کامنی لانڈرنگ کا ایک بڑا راستہ کھل گیا۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق تقریباً50سے55 کروڑ ڈالر کی منی لانڈرنگ کی گئی تھی۔ اب اگر گندم ایکسپورٹ کرنے کی اجازت ملتی ہے تو گندم اور آٹا مزید مہنگا ہوگا اور اس وقت تک 3940 روپے فی من سرکاری قیمت والی گندم کسان 2400 سے 2800 فی من فروخت کر کے اپنا کباڑہ کر چکا ہوگا۔

[/urdu_multicolumn]

شیئر کریں

:مزید خبریں