عالمی اقتصادی فورم نے صنفی عدم برابری بارے اپنی تازہ رپورٹ ‘ گلوبل جینڈر گیپ 2023’ کے عنوان سے اپنی آفیشل ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردی ہے۔ یہ رپورٹ جہاں پر دنیا بھر میں مردوں اور عمورتوں کے درمیاں بنیادی سماجی و معاشی اشاریوں میں عدم برابری کی صورت حال کی عکاس ہے وہیں یہ دنیا کے آٹھ خطوں میں بٹے ممالک میں سے جنوبی ایشیآہ کے خطے کو عالمی اشاریے کی رینکنگ میں بدترین ممالک میں دوسرے نمبر پر دکھاتی ہے۔ پاکستان مرد و عورت کے درمیاں معاشی و سماجی عدم برابری کے اشاریوں کو لیکر صنفی عدم برابری کے عالمی اشاریہ میں 142 ویں نمبر پر ہے جبکہ اس اساریہ میں اخری رینک 146 افغانستان کا ہے۔ جنوبی ایشیاء میں صنفی عدم برابری کے فرق کو کم کرنے میں سری لنکا، بنگلہ دیش، بھوٹان اور نیپال کی صورت حال بہتر ہے جبکہ پاکستان، ایران، افغانستان بدترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں- پاکستان مرد و خواتین کے درمیان تنخواہوں کی عدم برادری میں 71 نمبر پر ہے لیکن پاکستان کی لیبر ویمن فورس مردوں سے کہیں زیادہ انفارمل لیبر ہے اور ان میں کچے، نیم پکے اور دیہی علاقوں کی خواتین بہت زیادہ ہیں- پاکستان میں پرکشش اور بلند سماجی درجے کی نوکریوں پر مرد و خواتین کی تنخواہوں میں کافی فرق ہے۔ مرد اگر بطور مینجر 100 روپے وصول کرتا ہے تو خاتون کو 80 روپے ملتے ہیں۔ پاکستان جس سست روی سے صنفی عدم برابری کی خیلج کو پاٹنے کی کوشش کررہا ہے تو اس رفتار سے اسے اس خلیج پاٹنے میں 169سے 190 سال لگیں گے یعنی پاکستان میں مرد و عورت میں سماجی و معاشی اشاریوں میں برابری کہیں دو صدیاں بعد جاکر آسکے گی۔ اس رورٹ سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ پوری دنیا کی طرح پاکستان کی لیبر مارکیٹ اور خاص طور پر استحصال اور جبر کی شدت سے بھرے پڑے انفارمل سیبر سیکٹر میں خواتین کی آمد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ کچی ، ڈیلی ویجر محنت کش عورتوں کی تعداد بہت تیزی سے بڑھی ہے۔ اور ان عورتوں کی بہت بڑی تعداد غیر منظم انفارمل لیبر کے طور پر ہے جہاں ان کی ماہانہ اجرت کم از کم غیر ہنرمند ورکر سے بھی کم ہے۔ یہ الارمنگ صورت حال ہے وفاقی، چاروں صوبائی حکومتوں کو پاکستان میں مرد و خواتین کے درمیان بڑے سماجی و معاشی اشاریوں میں عدم برابری کی خلیج کو ختم کرنے کی رفتار کو تیز کرنا ہوگا۔
کوئلہ کرپشن
ہم نے چند روزپہلے سابق نگران وفاقی وزیر توانائی کے خط کے حوالے سے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں میں درآمدی کوئلے کی خریداری کے دوران ہونے والی کرپشن کی نشاندہی کی تھی – اب اس حوالے سے پاکستان الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کے سابق چیئرمین کا بیان بھی سامنے آگیا ہے جس میں انھوں نے ساہیوال کول پاور پلانٹ کے لیے درآمدی کوئلے کی خریداری میں کرپشن کے الزامات کو بہت سنگین قرار دے ڈالا ہے۔ انھوں نے ‘انرجی ٹریڈرز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ برآمدی کوئلے کی خریداری کے پروسس میں دو سپائر فرموں کو ناجائز مدد دی گئی اور یہ معاملہ صرف مالیاتی سال 2022-23 میں ہی نہیں ہوا بلکہ اس سے پہلے بھی ہوتا رہا-اندازہ یہ لگایا جارہا کہ ان فرموں نے ساہیوال کول پاور پلانٹ کو مارکیٹ پرائس سے 50 فیصد زائد قیمت پر کوئلہ فراہم کیا- اور جب اس معاملے پردوسرے بولی دہندگان نے شور کیا تب کہیں جاکر نیپرا اس معاملے کو سپاٹ لائٹ میں لیکر آیا اور اس کے بعد بھی کہیں 10 فیصد زائد قیمت پر ہی کوئلہ فراہم ہوتا رہا- اس سے پہلے ساہیوال کول پاور پلانٹ سے بجلی فی یونٹ 50 فیصد زیادہ مہنگیپڑ رہی تھی اب پہلے سے 40 فیصد کم پڑ رہی لیکن یہ اب بھی 10 فیصد زائد ہے۔ نیپرا نے بتایا ہے کہ جولائی تا دسمبر 2022ء ساہیوال کول پاور پلانٹ کی بجلی ڈسکوز کو 28 سے 30 روپے فی یونٹ پڑ رہی تھی جب شور مچا تو یہ ستمبر میں کوئلے کی قیمت کو کم کرنے سے 18روپے 9 پیسہ فی یونٹ پر آگئی – لیکن ستمبر 2023ء کے بعد نئے سپلائرز سے ٹھیکہ واپس لیکر پھر انہی منظور نظر ٹھیکے دارروں کو دے دیا گیا جو ایک بار پھر پاور پلانٹ کو کوئلہ اصل قیمت سے کہیں زیادہ پر فراہم کررہے ہیں- نیپرا کے زرایع کا کہنا ہے کہ ساہیوال کول پاور پلانٹ کو ماہانہ 2 لاکھ ٹن کوئلہ فراہم کیا جارہا ہے اور 20 ہزار سے 25 ہزار روپے زیادہ بٹورے جا رہے ہیں – ایک اندازے کے مطابق ماہانہ 4 ارب روپے زیادہ وصول کیے جارہے ہیں جبکہ 18 مہینوں میں 40 سے 50 ارب روپے کا ٹیاہ سرکاری خزانے کو لگا ہے اور اس کی قیمت بجلی کے صارفین نے چکائی ہے۔ یاد رہے کہ ساہیوال کول پاور پلانٹ میں درآمدی کوئلے کی کھپت کا فیصلہ شدید ترین تنقید کی زد میں رہا ہے ۔ اس منصوبے کے براہ راست ماحولیاتی اور معاشی خراب اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اوپر سے 40 سے 50 ارب روپے کی کرپشن سے اس منصوبے کو اور بدتر بنا دیا ہے۔ حکومت کو اس پر جلد ہی ایکشن لینے کی ضرورت ہے ۔







