گلابی سنڈی کے بے موسمی تدارک کی حکمت عملی جاری

کپاس ہماری ایک اہم فصل ہے اور اس کی مجموعی پیداوارکا تقریباً 70 فیصد پنجاب میں پیدا ہوتا ہے۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ گلابی سنڈی کپاس کا ایک خطرناک کیڑا ہے  جس کے حملہ سے نہ صرف پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے بلکہ کپاس کی کوالٹی بھی بُری طرح متاثر ہوتی ہے۔کپاس کی گلابی سنڈی کی آف سیزن مینجمنٹ نہایت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ گلابی سنڈی کا کوئی میزبان پودا نہیں ہے لہذٰا آف سیزن مینجمنٹ نہایت ضروری ہے۔ کپاس کی چھڑیوں کو اگر ایندھن کیلئے رکھنا مقصود ہو تو چھوٹے گٹھے بنا کر اس طرح رکھیں کہ چھڑیوں کے مڈھ نیچے کی طرف ہوں تاکہ دھوپ لگنے سے باقی ماندہ ٹینڈوں سے گلابی سنڈی کے پروانے نکل کر کپاس کی اگلی فصل سے پہلے ضائع ہو جائیں۔جیننگ فیکٹریوں میں موجود کپاس کا کچرا اور گلابی سنڈے کے لاروے جو کہ جڑواں بیجوں کی شکل میں ہوتے ہیں کی تلفی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔چھڑیوں کے ڈھیر یا گٹھوں کو الٹ پلٹ کریں تاکہ نیچے کچرا میں موجود گلابی سنڈی کے پیوپے بھی تلف ہو جائیں۔سٹور کی گئی کپاس کے بیج کو ایلومنیم فاسفائیڈ(فاسفین) کی گولیوں سے بحساب30 گولیاں فی1000 مکعب فٹ دھونی دینی چاہیے تاکہ گلابی سنڈی کے لاروے اور پیوپے جڑواں بیجوں میں تلف ہو جائیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں