سرکاری ذرائع کے مطابق امن کمیٹیوں کی ضمانت کے باوجود فائرنگ کا پیش آنا تشویش ناک ہے۔ واقعہ صبح 10 بج کر 35 منٹ پر پیش آیا جب قافلہ روانہ ہونے سے پہلے مذاکراتی ٹیم سڑک کھلوانے کے لیے بات چیت کر رہی تھی۔ اسی دوران تقریباً 40 سے 50 مسلح شرپسندوں نے ڈپٹی کمشنر جاوید محسود اور سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ڈپٹی کمشنر، پولیس کے تین اور ایف سی کے دو اہلکار زخمی ہوگئے۔
ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اگر مقامی لوگ ان عناصر کے خلاف متحد نہ ہوئے تو اس کے نقصان دہ نتائج انہیں ہی بھگتنا ہوں گے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ چھپے ہوئے امن دشمنوں کو پہچانیں اور ان کے خلاف آواز بلند کریں۔ اگر ایسی کارروائیاں جاری رہیں تو ادارے اپنی پوری قوت کے ساتھ حرکت میں آ کر سخت کارروائی کریں گے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق امن معاہدے کے تحت آج ادویات اور اشیائے خورد و نوش پر مشتمل پہلا قافلہ کرم کے لیے روانہ ہونا تھا۔ امن معاہدے کی ضمانت امن کمیٹیوں نے دی تھی اور انہوں نے یقین دلایا تھا کہ کسی کو امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے نے نہ صرف قافلے کو روک دیا بلکہ عوام کو مزید مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔






