پالتوجانوربیمار ہوجاتے ہیںلیکن جنگلی جانورنہیں ہوتے،انہیں اپنےعلاج کاعلم ہوتاہے ،ہم نے اپنی خوراک میں تبدیلیاں کر کے از خود بیماریوں کو دعوت دی ہے:اطباکرام
ہلدی،گائے کاگھی اورشہدکینسرکاعلاج: حکیم فیاض چوہان، پودوں سے نکلی خوراک استعمال کریں: ڈاکٹر سعید اختر،پیٹ مکمل خالی ہونےتک دوبارہ کھانا نہیںچا ہئے: حکیم ظفر اللہ انبالوی
ملتان ٹی ہائوس میں ’’حفظان صحت اور امراض کا غذا سے علاج‘‘ کے موضوع پر حکیم انقلاب دوست محمد صابر ملتانی کی 50 ویں برسی پرسیمینار،صوبہ بھرسے حکماکی شرکت،مقالہ جات پیش

ملتان: طب صابر کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام ایک روزہ طبی سیمینار میں حکیم محمد لطیف، حکیم یعقوب اطہر، حکیم پروفیسر محمد اصغر، حکیم حافظ اسماعیل صدیقی خطاب کر رہے ہیں جبکہ سٹیج پر حکیم ظفر اللہ انبالوی، پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر، حکیم خالد محمود موجود ہیں۔
ملتان ( سٹی رپورٹر ) ہم نے اپنی خوراک میں تبدیلیاں کر کے از خود بیماریوں کو دعوت دی ہے ۔پالتو جانور بیمار ہوتے سنے ہیں لیکن جنگلی جانور بہت کم بیمار ہوتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے علاج کا از خود علم ہوتا ہے۔ گوشت خور شیر اور بلی کبھی گھاس بھی کھاتی ہوئی دیکھی جاتی ہے کہ جب اس کا پیٹ خراب ہوتا ہے تو وہ گوشت چھوڑ کر گھاس کھا کر اپنا علاج کرتی ہے۔ نبی پاک ؐ کا فرمان ہے کہ ’’اپنا علاج اپنی علاقائی جڑی بوٹیوں سے کرو‘‘۔ دنیا کی بہترین گندھک گائے کے گھی میں ہوتی ہے۔ اسی لئے گائے کے دودھ اور گھی میں بھی شفا قدرت نے رکھی ہے ‘ محفوظ شدہ خوراک یعنی ٹن پیک فوڈ موجودہ بیماریوں کی بڑی وجہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار ملتان ٹی ہائوس میں ’’حفظان صحت اور امراض کا غذا سے علاج‘‘ کے موضوع پر حکیم انقلاب دوست محمد صابر ملتانی کی 50 ویں برسی کے موقع پر طب صابر کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام صوبہ بھر سے شرکت کیلئے آنے والے معروف حکما نے اپنے خطاب میں کیا۔ اس سیمینار کا اہتمام ’’علاج بالغذا‘‘ کے حوالے سے اپنی منفرد شہرت رکھنے والے ملتان کے حکیم خالد محمود نے کیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی میں مولانا ناصر الدین خاکوانی‘ پروفیسر ڈاکٹر حیات محمد اور پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر شیخ تھے جبکہ مقررین میں حکیم ظفر اللہ انبالوی‘ حکیم فیاض چوہان‘ حکیم حافظ اسماعیل صدیقی‘ حکیم محمد یعقوب‘ حکیم مزمل صدیقی سمیت پنجاب بھر سے آئے ہوئے جید طب اور حکما نے اظہار خیال کیا۔ سمبڑیال ضلع سیالکوٹ سے آنے والے حکیم فیاض چوہان نے علاج بالغذا اور نبض شناسی کے حوالے سے بہت مفصل اور خوبصورت گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ حکیم دوست محمد صابر ملتانی مرحوم نے علاج بالغذا نامی کتاب لکھ کر طب کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی سوزش جسم کو حرارت دیئے بغیر رفع نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہلدی‘ گائے کا گھی اور شہد ملا کر نہار منہ کھانے سے خود کو کینسر سے بچایا جا سکتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر نے کہا کہ خوراک جسم میں معلومات کی فراہمی کا انتظام کرتی ہے اور خوراک میں شامل مختلف اجزا ہمارے جسم میں داخل ہوتے ہیں اور غلط معلومات جسم میں چلی جائیں تو صحت خراب ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غذا اور غذائیت میں بہت فرق ہے۔ پودوں سے نکلی ہوئی خوراک کا استعمال زیادہ کریں اور محفوظ شدہ خوراک سے جان چھڑائیں تو بہت سی بہتری لائی جا سکتی ہے۔ حکیم ظفر اللہ انبالوی نے کہا کہ نبی پاکؐ نے انسانی صحت کے حوالے
سے بہت سی رہنمائی فرمائی جب تک پیٹ مکمل خالی نہ ہو تب تک دوبارہ کھانا نہیں کھانا چا ہئے ۔جب معدہ خالی ہوتا ہے اور بھوک کی شدت بڑھتی ہے تو جسم خون سے از خود فاسد مادے کھینچنا شروع کر دیتا ہے۔ کھانے کو کھانے میں داخل کرنا ہی بیماری کی اصل علامت ہے۔ پیٹ سے گندہ برتن کوئی نہیں ہے۔ بھوک لگنے کی صورت میں اس کا تیسرا حصہ کھانا چاہیے اور دو حصے خالی چھوڑ دیں ۔ہر کھانا ہاتھ دھو کر کھائیں اور کبھی رات کو خالی پیٹ مت سوئیں ۔کھانا کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنی چاہئیں۔ اس سے بیماری دور بھاگتی ہے۔ اس موقع پر جید حکمانے فری کیمپ بھی لگائے اور سیمینار کے میزبان و ترجمان نظریہ منفرد اعضاکے مدیر اعلیٰ حکیم خالد محمود نے میزبانی کے فرائض انجام دیئے۔ اس سیمینار میں 5 گھنٹے مسلسل طب کے حوالے سے مقالہ جات پڑھے گئے۔







