پاکستانی حکام اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، پاکستانی ٹیم نے آئی ایم ایف کو بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 2 روپے فی یونٹ کمی پر آمادہ کر لیا ہے۔ اس کمی کا اطلاق اپریل سے متوقع ہے۔ تاہم، اس سے قبل حکومت کو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کا نیا جامع منصوبہ آئی ایم ایف کو پیش کرنا ہوگا۔
آئی ایم ایف نے موجودہ نجکاری منصوبے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈسکوز کے نقصانات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ادارے کا مؤقف ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی میں بہتری لانا ضروری ہے۔ حکومت نے اس سلسلے میں تین ڈسکوز کی نجکاری کا منصوبہ پیش کیا ہے، جس کے تحت پہلے مرحلے میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) اور گجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کی نجکاری کی جائے گی۔ دوسرے مرحلے میں ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو)، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) اور حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کی نجکاری عمل میں لائی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایک ارب ڈالر کی قسط کے حصول کے لیے جاری مذاکرات کے دوران سامنے آئی ہے، جس میں توانائی شعبے کے حکام نے آئی ایم ایف وفد سے ملاقاتیں کی ہیں۔ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں مجوزہ کمی سے عوام کو ریلیف ملنے کی امید ہے، تاہم اس کے لیے حکومت کو آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا۔






