زاہدنوازخان بابر10فروری کوکوٹ ربنوازجانے کیلئے گھرسے روانہ ہوا،جنرل بس سٹینڈکےقریب وہاڑی روڈپرکارسواروں نے ایڈریس پوچھنےکےبہانےاغواکرلیا
زاہدنوازکو ہوش آیا تو کشتی میں سوار تھا، اگلے روز ہوش آیا تو زنجیروںسےجکڑاپایا، اغوا کاروں نے 2 کروڑ تاوان مانگا ، معززین سندھ کی مداخلت سے کم ہوتا 30 لاکھ پر آ کر ختم
سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی مغوی کی برآمدگی کیلئے متعدد بار آئی جی سندھ اور وزیر اعلیٰ سندھ کو کال ،ہر ممکن کوشش،رقم مغوی کے ماموں کے ذریعے سندھ بھجوائی گئی
ڈیڑھ ماہ گزرنے کے باوجود ملتان پولیس تو اغوا کا مقدمہ ہی درج نہ کر سکی،پاکپتن،گوجرانوالہ،میلسی،کراچی کے رہائشیوں سمیت مزید12افرادڈاکوئوں کی تحویل میں موجود
تمام اغواکاربھائی،عورتیں کھانابناتی،بوڑھاوالدمعاملات دیکھتا،ڈاکوفیس بک،سوشل میڈیاپرسینکڑوں افرادکاسٹیٹس دیکھ کرٹارگٹ کاانتخاب کرتے ہیں:زاہدنوازبابرکی ’’قوم‘‘دفترمیں گفتگو

ملتان ( سٹاف رپورٹر ) کچے کے ڈاکو ملتان سے بھی اغوا کی وارداتیں کرنے لگے اور حالات یوں ہیں کہ ڈیڑھ ماہ گزرنے کے باوجود ملتان پولیس تو اغوا کا مقدمہ ہی درج نہ کر سکی اور جنرل بس سٹینڈ سے 10 فروری 2024ء کو سندھ میں کچے کے ڈاکوئوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والا ملتان کے علاقے خونی برج کا رہائشی زاہد نواز خان بابر 30 لاکھ تاوان دے کر ڈیڑھ ماہ موت اور زندگی کی کشمکش میں دن رات اذیت برداشت کر کے اپنے گھر 24 مارچ کو واپس آ گیا۔ سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے مغوی کی برآمدگی کیلئے متعدد بار آئی جی سندھ اور وزیر اعلیٰ سندھ کو کال کی اور ہر ممکن کوشش کی۔ اغوا کاروں نے 2 کروڑ تاوان مانگا جو بعد ازاں معززین سندھ کی مداخلت سے کم ہوتا ہوتا 30 لاکھ پر آ کر ختم ہوا اور 30 لاکھ تاوان کی رقم مغوی کے ماموں کے ذریعے سندھ کے ڈاکوئوں کو بھجوائی گئی جس پر زاہد نواز خان بابر کی بمشکل رہائی ہوئی۔ روزنامہ قوم کے دفتر میں ڈیڑھ ماہ ڈاکوئوں کی قید میں گزار کر تاوان ادا کرنے کے بعد رہائی پا کر ملتان آنے والے زاہد نواز خان نے بتایا کہ وہاں پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں کے 12 افراد ان کے ساتھ ایک ہی جھونپڑی میں قید تھے جس میں سے ایک مہر عبدالستار نامی شخص کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے اور وہ ہاشم انڈسٹریز کا مالک ہے۔ مہر عبدالستار کی عمر 65 سال ہے اور ان کی ابھی تک رہائی کیلئے ڈیل نہیں ہوئی۔ دیگر مغویوں میں ایک شخص ظہور کا تعلق پاکپتن سے تھا جس کی پرچون کی دوکان اور عمر 75 سال تھی۔ ایک میلسی کا شخص‘ ایک چوک پرمٹ کا لڑکا امداد علی انہی کی قید میں ہے۔ ایک شخص قصور میں نمک کی فیکٹری میں ملازمت کرتا تھا جس کا نام رمضان ہے۔میلسی کا ایک نعیم نامی حجام بھی انہی کی قید میں ہے جبکہ دو افراد کا تعلق کراچی سے ہے۔ کراچی سے ایک اوکاڑہ کا رہائشی ملک ظہیر اعوان بھی انہی ڈاکوئوں کی قید میں ہے۔ نوشہرہ کے یار محمد خان اور نرم خان بھی انہی کی قید میں ہیں۔ زاہد نواز خان بابر کے اغوا کی درخواست تھانہ دہلی گیٹ میں دی گئی جس کا ٹیگ نمبر 455 ہے مگر تھانہ دہلی گیٹ پولیس نے مقدمہ ہی درج نہ کیا۔ زاہد نواز خان نے روزنامہ قوم کو بتایا کہ وہ کوٹ رب نواز جانے کیلئے گھر واقع خونی برج سے روانہ ہوئے اور شام 7 بجے کے قریب جنرل بس سٹینڈ کے علاقے وہاڑی روڈ پر ان کے قریب ایک مہران گاڑی آ کر رکی جنہوں نے ایڈریس پوچھنے کے بہانے بلا کر کمر پر پسٹل رکھ دیا اور گاڑی میں بٹھا لیا پھر انہیں جب ہوش آیا تو وہ کشتی میں سوار تھے۔ اگلے روز جب انہیں ہوش آیا تو وہ زنجیروں سے بندھے ہوئے تھے۔ زاہد نواز خان کا فون اب بھی انہی کے پاس ہے۔ اغوا کے 7 دن بعد زاہد نواز ہی کے فون سے اغوا کاروں نے زاہد نواز کی والد سے بات کی اور زاہد نواز کی رہائی کے عوض 2 کروڑ مانگا۔اغوا ہونے والے یہ 12 افراد ایک جھونپڑی میں قید تھے انہیں 24 گھنٹوں میں ایک وقت دو روٹیاں دیتے تھے اور کبھی کبھار ایک مرتبہ چائے دے دیتے تھے۔ کھانا اغوا کاروں کی عورتیں بناتی تھیں اور تمام اغوا کار آپس میں سگے بھائی تھے جبکہ ان کا بوڑھا والد ان کے سارے معاملات دیکھتا تھا۔ وہ کسی بھی مغوی کو نہ نماز پڑھنے دیتے تھے اور نہ ہی دعا کیلئے ہاتھ اٹھانے دیتے تھے۔ جو بھی دعا مانگتا انہیں گالیاں دیتے البتہ جب زاہد نواز خان کو 30 لاکھ تاوان کے عوض رہا کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ کچے میں ہر موبائل نیٹ ورک کے مکمل سنگلز آتے ہیں اور وہ انٹر نیٹ کا بھی استعمال کرتے ہیں یہ اغوا کار زیادہ تر معلومات سوشل میڈیا اور فیس بک سے لیتے ہیں۔ ایک دن میں سینکڑوں افراد کا سٹیٹس دیکھتے ہیں اور ان میں سے پھر اپنے ٹارگٹ کا انتخاب کرتے ہیں۔ زاہد نواز بابر نے بتایا کہ ان کے پاس پولیس ملازم بھی مغوی ہو کر آتے ہیں اور وہ بھی پیسے دے کر رہائی پاتے ہیں حتیٰ کہ حساس اداروں کے ملازمین کو بھی اغوا کرتے ہیں۔ زاہد نواز نے بتایا کہ نماز اور روزہ بھی نہیں رکھنے دیتے تھے مگر جب انہیں تاوان کی رقم ادا ہو گئی توپھر کہنے لگے کہ کلمہ پڑھ کر حلف دو کہ یہاں کے معاملات کسی اور کو نہ بتائیں۔ اغوا کار یہ بھی کہتے تھے کہ اگر آپ نے پیسے نہ دیئے تو پھر ہم آپ کو کسی دوسری پارٹی کو فروخت کر کے اپنے اخراجات پورے کر لینگے۔ ان کے چھوٹے چھوٹے بچے مورچوں میں اپنے والدین کو روٹی اور اسلحہ دینے جاتے تھے۔







