
رحیم یارخان،خان پور (بیور ورپورٹ، خبرنگار)مخبری کرنے والے پولیس سہولتکارعثمان چانڈیو کے گھرپررات کے اندھیرے میں ڈاکوؤں کا حملہ ،فائرنگ کرکے تین بھائیوںسمیت4افراد کوموت کے گھاٹ اتاردیا،پولیس کی جوابی کارروائی،دو ڈاکو انجام کو پہنچ گئے۔تفصیل کے مطابق کچھ عرصہ قبل بستی لاشاری خان پور کے رہائشی عثمان چانڈیہ نے مبینہ طور پر پولیس کے سہولت کار کا کردار ادا کرتے ہوئے کچے کے بدنام زمانہ ڈاکو اور اندھڑ گینگ کے سربراہ جانو اندھڑ اور اس کے چار ساتھیوں کو کچے کے علاقے میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا جس پر علاقے کے لوگوں نے عثمان چانڈیہ کو بھی موقع پر ہی ہلاک کر دیا تھا تاہم جانو اندھڑ کے خاندان اور اس کے ساتھیوں نے عثمان چانڈیہ کے خاندان سے اپنے خاندان کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان کیا تھاجس پرگزشتہ رات اندھڑگینگ کے مسلح ڈاکوؤں نے بستی لاشاری میں عثمان چانڈیہ کے گھر پر آتشیں اسلحہ سے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجہ میں چارافرادزمان‘سجن‘ مدنی‘گڈو ولد ندیم جاں بحق ہوگئے ۔واقعہ کی اطلاع پرپولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور بستی کو چاروں طرف سے گھیر لیا تاہم حملہ کرنے والے ڈاکوؤں نے بستی کے قریب واقع گنے کے کھیت میں پناہ لے لی اور پولیس پارٹی پر فائرنگ شروع کر دی ، جوابی فائرنگ میں اندھڑ اور کوش گینگز کے دو ڈاکوہلاک ہو گئے جبکہ ان کے دیگر ساتھی بھاگنے میں کامیاب رہے ۔ واضح رہے چند ماہ قبل عثمان چانڈیو کی والدہ نےپریس کانفرنس میں انکشاف کیا تھا کہ ڈی ایس پی پولیس شہنشاہ چانڈیہ اور سب انسپکٹر سلیم درگھ نے ڈی پی او رضوان عمر گوندل کے ساتھ مل کر عثمان چانڈیہ کو تربیت دے کر کچہ کے 7 خطرناک اندھڑ گینگ سرغنہ کو مروایا اور بعد میں ڈاکو گینگز نے عثمان چانڈیہ کو بھی شہید کردیا، خاتون نے بتایا کہ خطرناک اندھڑ گینگ رحیم یارخان پولیس کے لیے دردسر بنا ہوا تھا جس کو ختم کرنے پر پولیس نے عثمان چانڈیہ کو ہیرو قرار دیا اور فیملی کی کفالت اور عثمان چانڈیہ کے جیل میں مقید 2 بھائیوں کی رہائی دلوا کر کاروبار کرانے سمیت فیملی کی رہائش، خرچہ اور ڈاکوئوں کے سر کی قیمت دلانے کا وعدہ کیا لیکن واقعہ کے 3 روز بعد ہی پولیس نے اسے اور اہلخانہ کو پولیس لائن میں دی گئی رہائش اور پولیس سکیورٹی بھی واپس لے لی اور آہستہ آہستہ پولیس افسران نے رویہ تبدیل کرتے ہوئے ڈی پی اوآفس، شہنشاہ چانڈیہ نے اپنے دفتر اور سلیم درگھ نے تھانہ میں داخلہ پر پابندی لگا دی جبکہ موبائل نمبرز بلاک کردیئے۔ خاتون نے بتایا کہ وہ ایک بیٹا پولیس کی وجہ سے کھو بیٹھی ہیںجبکہ دوسرے دونوں بیٹوں کو عدالت نے سزا سنا دی لیکن رحیم یارخان پولیس کی سہولت کاری کرنے والے میرے بیٹے کو انصاف دینے کے بجائے ہماری جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں، متاثرہ خاتون نے بتایاکہ اس نے اپنے حق کے لیے آواز اٹھائی تو چند روز قبل اس پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی جو علاقہ مکینوں کے اکٹھا ہونے پر فرار ہو گئے، متاثرہ خاتون نے کہاکہ وہ ہاتھ جوڑ کر اعلی حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ اسے انصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے وہ اپنے شوہر کے علاج کے لیے بھی دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے اور ظلم و ستم پر نوحہ کناں ہیں ۔ضلع پولیس کی سہولت کاری کرنے والے مرحوم عثمان چانڈیہ کی والدہ کی فریاد کے باوجود پولیس کی جانب سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا گیا جس کا خمیازہ مذکورہ 4 افراد کی موت کی صورت میں بھگتنا پڑا، ڈاکوؤں کی کچہ سے خانپور تک بھاری اسلحہ کے ساتھ پہنچنے کے باعث رحیم یارخان کے تمام حلقوں میں تشویش پائی جارہی ہے کہ پولیس کی چوکیاں اور پولیس کی سکیورٹی صرف کاغذات تک محدود ہے شہریوں میں ڈاکوؤں کا شہر تک پہنچنا خوف پایا جانے لگا کہ کچے کے ڈاکو اب کسی جگہ پر بندے مار سکتے ہیں اور بندے اٹھا بھی سکتے ہیں۔دوسری جانب کراچی سے سکھر جانے والے 3 نوجوانوں کو کچے کے ڈاکوؤں نے اغوا کرلیا، اہلخانہ کا کہنا ہے کہ اغوا کاروں نے رہائی کے بدلے 60 لاکھ روپے تاوان مانگا ہے، زنجیروں میں جکڑے نوجوانوں کی ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی۔کراچی کے رہائشی 3 نوجوانوں کو کچے کے ڈاکوؤں نے اغوا کرلیا، پولیس کا کہنا ہے کہ تینوں مغوی کراچی کے علاقے گلبہار میں کارپٹ کی صفائی اور صوفوں کی مرمت کا کام کرتے ہیں، مغویوں میں دو کزن اور ان کا ایک کاریگر شامل ہے۔پولیس کے مطابق ملزمان نے مغویوں کے نمبر پر آن لائن کام کروانے کا جھانسہ دیا، تینوں بے روزگار نوجوان کام کی تلاش میں سکھر گئے تھے، سکھر پہنچتے ہی ملزمان نے نوجوانوں کو یرغمال بنالیا، اہلخانہ کا کہنا ہے کہ اغوا کاروں نے رہائی کے لیے 60 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا ہے۔نوجوانوں کی زنجیروں میں جکڑی ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس حرکت میں آئی، پولیس کے مطابق رضویہ تھانے میں اغوا کا مقدمہ درج کرکے کیس کی تفتیش اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) کو منتقل کردی گئی ہے۔ویڈیو میں تینوں ملزمان کو فریاد کرتے سنا جاسکتا ہے، پولیس کے مطابق مغویوں کی لوکیشن گھوٹکی کے کسی گاؤں کی آرہی ہے، پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد تفتیش شروع کردی ہے۔






