کچے کے ڈاکوؤں کا جنوبی پنجاب میں جاسوسی نیٹ ورک،امیروں کی فہرست تیار

کچے کے ڈاکوؤں کا جنوبی پنجاب میں جاسوسی نیٹ ورک،امیروں کی فہرست تیار

,ڈاکو گرفتار پولیس والوں کو روزانہ حکم دیتے کہ اونٹ کا پہرا بنائو، زیادہ اذیت دینی ہو توریت پر کپڑے اتار کربٹھادیا جاتا

,تمام اضلاع میں کچے کے ڈاکوئوں اور اغوا کاروںکے لوگ ایسے افراد بارے معلومات فراہم کرتے جنہوں نے کوئی پراپرٹی فروخت کی ہو اور ان کی سیاسی یا ادارہ جاتی پشت پناہی نہ ہو

ان مخبروں کو اغوا کے بعد ملنے والے تاوان سے 20 فیصد تک حصہ ملتا، سارا سلسلہ موبائل نیٹ ورک سے منسلک، ڈاکوئوں کے بعض گروہوں کے پاس جدید ترین سیٹلائٹ فون بھی موجود

ڈاکوئوں پرہاتھ ڈالنے کیلئے اجازت طلب کرنیوالوں کا ٹرانسفر کر دیاجاتا،کچے میں حساس اداروں کا نیٹ ورک‘ پیرا ملٹری فورسز ہونےکے باوجود ڈاکوئوں کیخلاف منظم کارروائی نہیں ہو رہی

ملتان ( میاں غفار سے ) جنوبی پنجاب کے تمام اضلاع میں کچے کے ڈاکوئوں اور اغوا کاروں کے ایک منظم نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے اور تمام شہروں میں ایسے اوباش لوگ موجود ہیں جو ایسے افراد بارے ڈاکوئوں کو معلومات فراہم کرتے ہیں جنہوں نے کوئی پراپرٹی فروخت کی ہو اور جن کی مالی حیثیت تو اچھی ہو مگر ان کی سیاسی یا ادارہ جاتی پشت پناہی نہ ہو۔ ان مخبروں کو اغوا کے بعد ملنے والے تاوان سے 20 فیصد تک حصہ ملتا ہے اور یہ سارا سلسلہ موبائل نیٹ ورک سے منسلک ہے۔ دو سال قبل ایک خفیہ ادارے کی طرف سے حکومت کو تجویز دی گئی تھی کہ دریائے سندھ کے اطراف میں اور دریا کے بیٹ میں موبائل نیٹ ورک مکمل طور پر بند کر دیا ہے جس کا فیصلہ بھی ہو گیا مگر بعد میں اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا جس کی وجہ سے اغوا کار نہ صرف انٹر نیٹ کے استعمال سے مغویوں کی تشدد کرتے ہوئے ویڈیوز بھی ورثا کو بھیجتے ہیں بلکہ آن لائن اخراجات بھی منگواتے ہیں۔ انتہائی ذمہ دار ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ڈاکوئوں کے بعض گروہوں کے پاس سیٹلائٹ فون بھی ہیں جو کہ جدید ترین ہیں اور بعض اوقات انہیں کسی بھی مجوزہ کارروائی کے حوالے سے پہلے ہی اطلاع کر دی جاتی ہے۔ گزشتہ سال سندھ کے ضلع شکار پور کے تھانہ کوٹ شاہو کے ایس ایچ او اور سارے تھانے کی نفری کے علاوہ تمام تر ریکارڈ رجسٹر بھی ڈاکو اٹھا کر لے گئے اور سندھ پولیس اتنی بے بس تھی کہ نہ اپنا عملہ چھڑا سکی اور نہ ہی ریکارڈ واپس لے سکی پھر ڈاکوئوں سے مذاکرات کئے گئے تو ڈاکوئوں نے اپنے ساتھیوں کو جیل سے رہا کرنے کا مطالبہ کیا جسے پورا کر دیا گیا اور پھر تھانہ کوٹ شاہو کے عملے کی رہائی ہوئی مگر پولیس کو تھانے کا ریکارڈ واپس نہ مل سکا۔ بتایا گیا ہے کہ ڈاکو گرفتار پولیس والوں کو روزانہ حکم دیتے کہ اونٹ کا پہرا بنائو۔ یہ حکم ملازمین کیلئے ہوتا تھا مگر انہوں نے ایس ایچ او کے ساتھ رعایت کی۔ سندھی اور سرائیکی بیلٹ کے دریا کے علاقے میں جسے بہت اذیت دینی ہو یا جس کی بہت زیادہ توہین کرنی ہو اسے حکم دیا جاتا ہے کہ ریت کو ہموار کر کے اس کے اوپر کپڑے اتار کر بیٹھ جائو۔ اس طرح کوئی بھی شخص برہنہ ہو کر جب مجبوری کی حالت میں ریت پر بیٹھتا ہے تو اس کے جسم کے نشان ریت پر اونٹ کے پیر کی مانند ہو جاتے ہیں۔ یہ ڈاکوئوں کی طرف سے کسی بھی مغوی کو دی جانے والی انتہائی اذیت شمار ہوتی ہے۔ 2009ء میں راجن پور کے علاقے شاہ والی میں بھی ڈاکوئوں نے اغوا شدہ پولیس اہلکاروں کے ساتھ اسی قسم کا بہیمانہ سلوک کیا تھا۔ سندھ اور کچے کے ڈاکو اس قدر بااثر ہیں کہ سابق ایس پی گھوٹکی روہیل خان کھوسو نے ڈاکوئوں پر سخت ہاتھ ڈالنے کیلئے اجازت طلب کی تو انہیں ٹرانسفر کر دیا گیا۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ سندھ میں مقیم متعدد بااثر اقلیتی خاندان اپنے تحفظ کیلئے ڈاکوئوں کو باقاعدہ بھتہ دینے پر مجبور ہیں اور یہ بات بھی غور طلب ہے کہ کچے کے علاقوں میں حساس اداروں کا نیٹ ورک بھی موجود ہے‘ پیرا ملٹری فورسز بھی ہیں مگر اس کے باوجود ڈاکوئوں کے خلاف منظم کارروائی نہیں ہو رہی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں