کچے کی کمائی سے پکے محل تیار، کون سہولتکار؟ اسلحہ بےکار، پنجاب، سندھ پولیس لاعلم تو کون قصوروار؟

کس ایس ایچ اویاافسرکے کچے میں قبضے؟کس کے فارم ہائوسز؟کس کی کوٹھیاں ،کمرشل جائیدادیں؟کس نےدبئی میں فلیٹ لےرکھے؟

کس کے ذریعےپولیس کے افسروں کےڈاکوئوں سےمذاکرات؟ وہ کون سا ایس ایچ او ہے جس نے کچےمیں سات پکی کوٹھیاں بنا رکھیں؟

جن کے بے گناہ مرتے ہیں وہ کچے میں جا کر پکے ڈاکو بن جاتے ہیں، کون ہے جو ایک برادری کے جرائم کو دوسری برادری کےکھاتےمیں ڈال دیتا ہے؟

ڈاکوئوں کے پاس جدیداسلحہ،پولیس کی بلٹ پروف جیکٹس میں سےچھرابھی گزرجاتاہے، پنجاب اور سندھ پولیس کو تبدیلی پہلےاپنے اندر لانا ہوگی

ملتان(سٹاف رپورٹر)اگر پولیس فورس یہ معلوما ت نہیں کر سکتی کہ کس ایس ایچ او نے کچے کے علاقے میں کتنی اراضی اپنےقبضے میں رکھی ہوئی ہے اور کس کس پولیس آفیسر نے باقاعدہ فارم ہائوسز بنا رکھے ہیں۔ کچے کے تھانوں میں بار بار پوسٹنگ لینے والے ایس ایچ او حضرات کی رحیم یا رخان اور نواحی علاقے میں کتنی کوٹھیاں اور کمرشل جائیدادیں ہیں ۔ کس نے بھائی کے نام پر دبئی میں فلیٹ خرید رکھے ہیں اور کس تھانے دار کے ذریعے ضلع رحیم یار خان اور ضلع راجن پور کے پولیس افسران ڈاکوئو ں سے مذاکرات کرتے ہیں۔ سندھ میں کس برادری کے ڈاکوئوں کے کہنے پر کون سا ایس ایچ او تعینات ہوتا ہے اور وہ کون سا ایس ایچ او ہے جس نے کچے کی کمائی سے رحیم یار خان میں سات پکی کوٹھیاں بنا رکھی ہیں تو پھر سب سے پہلے پنجاب اور سندھ پولیس کو تبدیلی اپنے اندر لانی ہوگی۔جن کے بے گناہ مرتے ہیں وہ کاشتکاری چھوڑ کر بدلے لینے کیلئے کچے میں جا کر پکے ڈاکو بن جاتے ہیں۔ کون ہے جو غلط فہرستیں بناتا ہے اور کسی ایک برادری کے جرائم کو دوسری برادری کےکھاتےمیں ڈال دیتا ہے۔ کیا ڈاکوئوں کے جدید اسلحے ، مارٹر گنوں اور تین کلو میٹر دور تک درست نشانہ لے کر ٹارگٹ کو مارنے والی 70 لاکھ سے کروڑ روپے کی سنائپر گن کے مقابلے میں کوئی بھی جدید اسلحہ ہے۔ کیا ماضی میں خریدی گئی بلٹ پروف جیکٹس جدید اسلحہ کا مقابلہ کر سکتی ہیں کہ ان میں سے بعض تو ایسی بھی ہیں جن سے ایئرگن کا چھرا بھی گزر جاتا ہے۔ کیا پولیس کے اعلیٰ افسران کے پاس یہ رپورٹ نہیں کہ اسلحہ اور بلٹ پروف جیکٹس کی خریداری کرنے والے کون تھے اور ان کے خلاف کیا کارروائی ہوئی۔ جو کشتی اسلحہ لے کر جاتی ہوئی ڈوب گئی تھی اس کا اسلحہ کس سیاستدان ،کس پولیس اور کس سہولت کار کے زیر استعمال ہے ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پولیس لا علم ہو ۔ چند سال قبل راجن پور کے علاقے میں فیصل آباد کا ایک نوجوان کانسٹیبل اچانک سر کے عقبی جانب گولی لگنے سے شہید ہوا تھا۔ کیاعین شاہدین نے یہ نہیں بتایا تھا کہ اس کا رخ دریائی جنگل کی طرف تھا مگر گولی عقبی جانب سے لگی۔ کیا اس آپریشن سے صرف 24 گھنٹے پہلے ڈاکوئوں نے دعویٰ نہیں کیا تھا کہ اگلے دو روز میں آپریشن ختم اور فورس واپس چلی جائے گی اور پھر نوجوان کی شہادت کی رات ہی آپریشن ختم نہیں کر دیا گیا تھا۔ جو راجن پور پولیس نے ہزاروں گولیوں کی چین اور اینٹی کرافٹ گن لونگ لٹھانی نامی ڈاکو سے برآمد کی تھی وہ نمائش کیلئے رکھی ہوئی ہے۔ کیا پولیس اور حکومت کو یہ علم نہیں ہے کہ سندھ اور پنجاب میں کچے کے علاقوں میں آباد مختلف قبیلے ایسی لڑائیوں میں اتنے آگے نکل چکے ہیں کہ جہاں ایک دو ڈاکو تھے وہاں کئی کئی درجن ہیں۔ کیا حکومت کو معلوم نہیں کہ گزشتہ دو سال سے ضلع شکار پور کے کچے کے علاقوں میں جنگلات کی زمین اور سرکاری زمینوں پر قبضوں کیلئے جتوئی ، شر، مارفانی، تبغانی، اور ابڑو قبائل میں لڑائیاں جاری ہیں۔ کیا ضلع گھوٹکی میں شر اندر چاچڑ بغلانی یہی کچھ نہیں کر رہے ۔ دو سال قبل صادق آباد میں پیٹرول پمپ پر جو5 افراد قتل ہوئے تھے کیا وہ بھی انہی قبائلی چپقلش اور مخبری کے الزام کی وجہ سے نہیں ہوئے تھے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ اربوں روپے کے فنڈز سے ہونے والے ہر کامیاب آپریشن کے بعد یہ گروپ زیادہ طاقت ور ہوئے۔ پولیس نے تو کچے میں بنکرز اور پختہ مورچے بنانے کے دعوے کئے تھے مگر جن پھٹے ہوئے خیموں میں یہ شہید ہونےو الے رہائش پذیر تھے ان میں تو پانی جمع تھا۔ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں