کچے کا راج برقرار، تاوان نہ دینے پر تاجراغوا، ڈاکوؤں کی پولیس کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں

خیرپورسادات،سلطان پور (نامہ نگار)کچے کا راج برقرار: ظفری جھبیل کا تاجر پر حملہ، تاوان نہ دینے پر اغواسندھ اور پنجاب کی سرحد پر واقع کچے کے علاقے میں ڈاکو راج مزید بے قابو ہوتا جا رہا ہے۔ تھانہ کندائی کی حدود سے تعلق رکھنے والے معروف تاجر شاہد کو بدنام زمانہ ڈاکو ظفری جھبیل نے اپنے مسلح گروہ کے ساتھ تاوان کی خاطر اغوا کر لیا۔ ڈاکو جدید اسلحے سے لیس تھے اور علاقے میں دندناتے ہوئے واردات کے بعد مغوی کو کچے کے محفوظ ٹھکانے کی طرف لے گئے۔ذرائع کے مطابق تاجر کو گزشتہ کئی دنوں سے بھتہ نہ دینے کی صورت میں دھمکیاں مل رہی تھیں، جن سے پولیس حکام کو پیشگی طور پر آگاہ کر دیا گیا تھا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پولیس نے ان اطلاعات کو سنجیدگی سے نہ لیا اور مجرمان کو کھلی چھوٹ دے دی، جس کے نتیجے میں یہ سنگین واقعہ رونما ہوا۔اہلِ علاقہ اور متاثرہ خاندان نے پولیس کی مجرمانہ غفلت پر شدید احتجاج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ظفری جھبیل اور اس کا گروہ کئی عرصے سے علاقے میں خوف کی علامت بن چکا ہے، لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے اب تک صرف بیانات تک محدود ہیں۔پولیس خاموش، ڈاکو سرگرم،پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور “روایتی کارروائی” کا اعلان کیا ہے، لیکن اب تک نہ کوئی چھاپہ، نہ گرفتاری، نہ بازیابی۔ متاثرہ خاندان عدم تحفظ کا شکار ہے جبکہ علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔عوام کا شدید ردعمل، ریاست سے سوالات مقامی تاجروں، شہریوں اور سماجی حلقوں نے حکومت وقت، اعلیٰ پولیس افسران اور سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ:ظفری جھبیل اور اس کے گروہ کے خلاف فوری اور فیصلہ کن آپریشن کیا جائے۔مغوی تاجر کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے۔غفلت کے مرتکب پولیس افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔اگر حکومت اور ریاستی ادارے اب بھی خاموش رہے تو عوامی ردعمل مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں یاد رہے کہ کچے کے علاقے میں گزشتہ چند ماہ میں متعدد شہری، مسافر، اور تاجر ڈاکوؤں کے ہاتھوں اغوا، لوٹ مار یا قتل کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ظفری جھبیل جیسے جرائم پیشہ عناصر کھلے عام کارروائیاں کر رہے ہیں، جبکہ قانون کی عملداری کہیں نظر نہیں آتی۔مزیدکچے کے ڈاکوؤں کا پولیس کے لیے ویڈیو پیغام — تاجر اغوا کے بعد قاتلانہ بیان تھانہ کندائی کی حدود سے تاجر شاہد کے اغوا کے بعد مبینہ طور پر ڈاکو گھمن گوپانگ اور ظفری جھبیل نے ایک ویڈیو پیغام جاری کر کے سخت دھمکیاں دی ہیں۔ ویڈیو میں ملزمان نے کہا کہ کچے کی عوام مطمئن رہے — وہ عام شہریوں کو نقصان نہیں پہنچائیں گے تاہم انہوں نے کھلے الفاظ میں پولیس کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی اور کہا کہ اگر پولیس راستے میں ملی تو ” ماریں گے” اور چوکیوں پر بھی حملے کیے جائیں گے۔مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ مذکورہ ویڈیو پیغام کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ متاثرہ تاجر کے اہلِ خانہ اور تاجر برادری نے فوری گرفتاری اور کچے کے اندر سرچ آپریشن کا مطالبہ کیا ہے۔ تاجر شاہد کے اغوا کا مقدمہ تھانہ کندائی میں درج کر لیا گیا ہے۔ماہرینِ سکیورٹی کا کہنا ہے کہ ایسی صورتِ حال میںانٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں تیز کی جائیں ۔کچے کے اندر روایتی چھاپے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں جب تک کہ مکمل انٹیلی جنس نہ ہو۔ فوری طور پر علاقائی سطح پر مشترکہ سکیورٹی پلان تشکیل دیا جائے — رینجرز، ضلعی پولیس کے اہلکار شامل ہوں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں