کچے میں ڈاکو پکے،آپریشن کے 3 ارب بارے پولیس چپ،اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بدستور جاری

کچے میں ڈاکو پکے،آپریشن کے 3 ارب بارے پولیس چپ،اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بدستور جاری

ملتان( سٹاف رپورٹر) پنجاب اور سندھ کی سرحد پر کچے میں 14 پولیس اہلکاروں کی ڈاکوئوں کے ہاتھوں شہادت کے بعد آپریشن کے لیے جاری ہونے والے3ارب روپے کی خطیر رقم کہاں گئی ؟ کتنی چیک پوسٹیں بنائی گئی ؟ کتنی بکتر بند گاڑیاں لی گئیں ؟ کتنے بنکرز بنے؟ کتنی بلٹ پروف چیکٹس خریدی گئیں ؟ کتنا جدید اسلحہ خریدا گیا؟ کیا مسلسل 16ویں گرینڈ آپریشن کے بعد اغوا برائے تاوان کی وارداتیں رک گئیں۔ یہ وہ سوالات ہیں جو ضلع رحیم یارخان اور راجن پور کے لوگ اٹھا رہے ہیں مگر کسی کے پاس اس کا جواب نہیں اور جواب دینے والوں نے چپ سادھ رکھی ہے جبکہ کچہ کے ڈاکوئوں کی وارداتیں جاری ہیں اور اغوا کرکے ورثا سے آج بھی بھتے لیے جارہے ہیں۔ ان سوالات کے جواب میں پولیس کی پالیسی یہ ہے کہ جو فنڈز ملنے تھے مل گئے اب کچہ کے حوالے سے ڈاکوئوں کی کارروائی کو اچھالا نہ جائے اور اگر کوئی ایسی خبر سامنے آئے بھی تو تردید کرا دی جائے۔ روزنامہ ’’قوم‘‘ نے مختلف ذرائع سے جو معلومات لی ہیں ان کے مطابق اغوا برائے تاوان سمیت ہر طرح کا جرم ان علاقوں میں جاری ہے ۔ بس اتنا فرق پڑا ہے کہ فنڈز جاری ہونے کے بعد ڈاکوئوں کے چند گروپوں کو دوسرے علاقوں میں باہمی مشاورت سے بھجوا دیا جاتا ہے ویسے بھی گندم فروخت ہو چکی ہے اور دریائی پانی میں بھی سکون ہے لہٰذا تمام راوی ملکر چین اور امن کے گیت الاپ رہے ہیں۔ مغویان کے ورثا اسی طرح پولیس کے چند کاریگروں اور مقامی ڈیرے داروں کے لیے تاوان دے رہے ہیں۔ ریجنل پولیس آفیسر بہاولپور نے ناجائز اسلحہ کی خرید و فروخت کے حوالے سے آپریشن کا حکم دیا تھا مگر وہ حکم بھی راستہ بھول گیا۔ تاوان کی وصول شدہ رقم کی تقسیم پر بھی کسی قسم کا کوئی جھگڑا نہیں اورکچہ کے ڈاکوئوں سے بھی کہا گیا ہے کہ مزید ویڈیوز اپ لوڈ نہ کریں۔ اسی پر عمل ہورہا ہے اور شہری بدستور اغوا ہورہے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں