اےآئی جی آپریشنزکے دستخط سے جاری بہاولپور اور ڈیرہ غازیخان کے آرپی اوزکے نام لیٹر میں ’’قوم‘‘ کی کچے کے حوالے سے رپورٹ کی من و عن تصدیق،2ایس ایچ اوزکے کارنامے شائع
ڈی پی او عمرگوندل کے چارج سنبھالتے ہی نویدنوازواہلہ ایس ایچ اوبھونگ تعینات، آپریشن کی آڑمیں لوگوں کواٹھالیتے،رشوت لیکررہا، لٹھانی اور سکرانی گینگ کے سہولت کار:رپورٹ
ایس ایچ او کوٹ سبزل سیف اللہ ملہی کے پاس کچہ میں بہت سی زرعی اراضی ، شر گینگ کے سہولت کار ، اغوا کاروں کے خاندان اور ڈاکوئوں کے درمیان ڈیل کراتے ہیں، بہت گندی شہرت کے حامل:رپورٹ
تھانہ بھونگ کے اہلکاریاسین دشتی،احسان اورسلیم،تھانہ کوٹ سبزل کےسرور،نادر،فلک شیر،عبداللہ،عرفان عباسی بھی ڈاکوئوں کے سہولت کار،اندھڑاوربکھرانی گینگ کے لئے کام کرتے ہیں:رپورٹ میں انکشاف
ڈاکوؤں سے زیادہ ایس ایچ اوز کی چیرہ دستیوں سے خوفزدہ :مقامی افراد،کچہ میں اسلحہ ونفری کم،بکتربندناکارہ،پی سی کو علاقے کاعلم نہیں،تربیت یافتہ پولیس جوان تعینات کئے جاناضروری :رپورٹ میںتجزیہ
ملتان( سٹاف رپورٹر) آئی جی پنجاب سیکرٹریٹ کی طرف سے آر پی او بہاولپور اور آر پی او ڈیرہ غازیخان کے نام بھجوائی گئی ایک رپورٹ جوکہ اے آئی جی آپریشنز ڈاکٹر اسد اعجاز کے دستخطوں سے جاری ہوئی تھی میں روزنامہ ’’قوم‘‘ کی کچے کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹ کی من و عن تصدیق ہوگئی ہے ۔ اس لیٹر میں جوکہ ڈائری نمبر467 کے تحت جاری ہوا تھا ایک رپورٹ بھی بھجوائی گئی جس میں رضوان عمر گوندل کے چارج لیتے ہی جن دو سب انسپکٹروں کو کچے کے تھانوں میں ایس ایچ او لگایا گیا ہے ان کے بارے میں جو لکھا گیا ہے وہ کچھ اس طرح سے ہے ۔
عنوان: کچہ کریمنلز گینگز کے معاون سہولت کار پولیس اہلکار، نوید نواز واہلہ ، ایس ایچ او بھونگ رہے اور ڈی پی او رضوان عمر گوندل کے چارج سنبھالتے ہی ایس ایچ او بھونگ دوبارہ تعینات ہوگئے ۔ آئی جی آفس کی تحریری رپورٹ میں ان کے بارےمیں بتایا گیا ہے کہ موصوف کچہ آپریشن کی آڑ میں بہت سارے لوگوں کو زبردستی اٹھا لیتے تھے اور بھاری رشوت لے کر چھوڑتے تھے ۔ کچہ کے لٹھانی اور سکرانی قبائل کے ڈاکوئوں کی سہولت کاری کرنے کا الزام بھی اس رپورٹ میں شامل ہے اور مقامی پولیس میں ان کی شہرت بہت بری ہے۔
سیف اللہ ملہی۔ ایس ایچ او کوٹ سبزل کے پاس کچہ میں بہت سی زرعی اراضی کی ملکیت ہے ۔ ڈاکوئوں کے شر گینگ کے سہولت کار ہیں۔ اغوا کاروں کے خاندان اور ڈاکوئوں کے درمیان ڈیل کراتے ہیں۔ بہت گندی شہرت کے حامل ہیں۔ یہ نوکری سے برخاست بھی رہ چکے ہیں اور ان کے خلاف ابھی تک اینٹی کرپشن بہاولپور میں مقدمہ درج ہے۔ یہ ایک پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں جدید آلات کے ذریعے نقل کرانے کے الزام میں بھی زیرحراست رہ چکے ہیں۔
اس کے علاوہ یاسین دشتی سکنہ موضع گل محمدجھک( تھانہ بھونگ) مذکورہ اندھڑگینگ کریمنلز کے لیے سہولت کاری کرتا ہے۔ احسان ولد عظیم قوم بنوں سکنہ چک کیڑا(تھانہ بھونگ) مذکورہ بنوں گینگ اور بکھرانی گینگ کیلئے ا غوااور سنگین جرائم کی وارداتوں کیلئےسہولت کاری کرتا ہے ۔سلیم ولد عظیم قوم بنوں سکنہ چک کیڑا (تھانہ بھونگ) مذکورہ بنو ںگینگ اور بکھرانی گینگ کیلئے اغوا اور سنگین جرائم کی وارداتوں کے لیے سہولت کاری کرتا ہے ۔سرور عرف سخی ولد عثمان قوم اندھڑ سکنہ داعوالا (تھانہ کوٹ سبزل) مذکورہ اندھڑگینگ کا قومی ہے اور بہت پرانا تعلق ہے اسی لیے مختلف وارداتوں میں اندھڑ گینگ کے لیے سہولت کاری کرتا ہے۔ نادر ولد شعبان قوم اندھڑ سکنہ دا عوالہ( تھانہ کوٹ سبزل )اندھڑ گینگ کا قومی ہے اور علاقہ میں وارداتوں کے لیے ان کی سہولت کاری کرتا ہے ۔فلک شیر ولد غلام رسول قوم اندھڑ سکنہ داعوالا (تھانہ کوٹ سبزل )اندھڑ گینگ کا قومی ہے اور علاقہ میں واردات کے لیے ان کی سہولت کاری کرتا ہے۔ عبداللہ ولد قاسم اقوام اندھڑ سکنائے دا عوالہ (تھانہ کوٹ سبزل )اندھڑ گینگ کا قومی ہے اور علاقہ میں واردات کے لیے ان کی سہولت کاری کرتا ہے ۔عرفان عباسی سکنہ داعوالا (تھانہ کوٹ سبزل) اندھڑ گینگ کے ساتھ مذکورہ کے گہرے مراسم ہیں اور علاقہ میں سنگین وارداتوں میں ان کے لیے سہولت کاری کرتا ہے۔ فاروق ولد گاجی قوم چانڈیہ سکنہ دیہہ بپڑ سندھ: مذکورہ چانڈیہ برادری سے تعلق رکھتا ہے۔ موضع داعوالہ کے ساتھ سندھ کی باؤنڈری دیہہ بپڑ کا رہائشی ہے اندھڑ گینگ کے ساتھ مذکورہ کے گہرے تعلقات ہیں۔ اندھڑ گینگ کا سہولت کار ہے۔ گل حسن عرف پھلو/ مٹھا/اربیلہ ا پسران محمد عالم قوم لولائی سکنہ دیہا بپڑ سندھ: مذکوران مو ضع داعوالہ کے ساتھ پنجاب سندھ کی باؤنڈری سندھ کے رہائشی ہیں۔ اندھڑگینگ کے ساتھ مذکوران کے اچھے تعلقات ہیں اور اندھڑ گینگ کے لیے علاقہ میں واردات میں سہولت کاری کرتے ہیں۔
کچہ کریمنلز گینگ کے معاون سہولت کار پولیس اہلکار: سیف اللہ ملہی سابق ایس ایچ او تھانہ کوٹ سبزل نے ماچھکہ میں ذاتی زمین اور مختلف لوگوں سے زمین کچہ ایریا ٹھیکہ پر حاصل کی ہوئی ہے مذکورہ کاشر گینگ سے قریبی تعلق ہے جب بھی کچہ کا کوئی معاملہ ہوتا ہے تو مذکورہ ایس آئی ڈیل کرواتا ہے۔ مقامی لوگوں میں مذکورہ کے بارے میں انتہائی برا تاثر پایا جاتا ہے۔
نوید نواز واہلہ ایس ائی: سابق ایس ایچ او تھانہ بھونگ رہا ہے۔ مذکورہ کچہ آپریشن کی آڑ میں بہت سارے لوگوں کو سہولت کاری کے الزام میں اٹھا لیتا اور بھاری رشوت لے کر چھوڑ دیتا ہےمذکورہ سکھانی ولٹھانی گینگ کا سہولت کار ہے ۔مقامی لوگوں میں مذکورہ کے بارے میں انتہائی برا تاثر پایا جاتا ہے۔انہوں نے کچے کے مجرموں کے لیے مو زوں ماحول پیدا کیا ہوا ہے۔نتیجتاً ڈاکو اور دیگر جرائم پیشہ افراد کچے کے علاقہ جات میں سنگین وارداتیں کر رہے ہیں۔

تجزیہ:1۔ کچہ ایریا سے ملحقہ تھانہ جات میں تعینات اسلحہ و نفری نا کافی ہے۔
تجزیہ 2۔ کچہ کریمنلز کے خلاف کارروائیوں کے سلسلے میں قائم کی گئی پولیس پکٹس پر زیادہ تر نفری پولیس کانسٹیبلری کی ہے جو کہ کچے ایریا واس کی حساسیت سے ناواقف ہے جو کہ لاپروائی کی وجہ سے جانی ومالی نقصان کے ساتھ ساتھ پولیس کے مورال میں کمی کا باعث بن سکتے ہیں۔
تجزیہ3۔ کریمنلز کے مقابلے میں پولیس کے پاس جدید اسلحہ نہ ہے پولیس کو دور مار اسلحہ مہیا کیا جانا ضروری ہے۔
تجزیہ4۔ پولیس کو چین والی مزید بکتر بند گاڑیاں مہیا کی جانی ضروری ہیں۔ موجودہ بکتر بند گاڑیاں خستہ حال اور ناکافی ہیں۔
تجزیہ5۔ خاص طور پر پی سی نفری میں کچا کریمنل سے نمٹنے کے لیے تربیت کا فقدان ہے۔ تربیت یافتہ پولیس جوان تعینات کیے جانے ضروری ہیں جو کہ علاقے کے محل وقوع اور کریمنلز کے طریقہ واردات سے واقف ہوں۔
عوامی رائے: اہل علاقہ کی اکثریت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ سیف اللہ ملہی سابق ایس ایچ او/ ایس ائی کوٹ سبزل ،نوید نواز واہلہ سابق ایس ایچ او/ ایس آئی تھانہ بھونگ کے کچا کریمنل سے خفیہ روابط ہیں اور انہوں نے علاقہ میں جبر وزور کے ذریعے کوڑیوں کے مول کافی تعداد میں زرعی رقبہ ٹھیکے کے نام پر لے کر کاشت کر رکھا ہے ۔اہل علاقہ کے مطابق ان علاقوں میں کریمنلز کی سرگرمیاں ان ایس ایچ اوز کی ایما پر بھی جاری رہتی ہیں تاکہ ان کی تعیناتی کا جواز برقرار رہے ۔گزشتہ برس حکومت نے دفعہ 144 کا نفاذ کرتے ہوئے ان علاقوں کی سڑکوں کے اطراف میں دو، دو ایکڑ رقبہ پر گنےکی کاشت پر پابندی عائد کر دی تھی جس کی وجہ سے کچہ کریمینلز کی وارداتوں میں واضح کمی آئی تھی۔ اس بار ان ایس ایچ اوز نے جو کہ سالہا سال سے اس ایریا میں تعینات ہیںنے مبینہ طور پر مقامی کاشتکاروں کو گنا کاشت کرتے وقت روکنے کی کوشش نہیں کی بلکہ فصل تیار ہونے سے دو ماہ قبل ان کاشتکاروں کو دھمکایا کہ انہوں نے سڑک کے ا طراف میں دو دو ایکڑ پر گنا کاشت نہیں کیا تووہ ان کی فصل ضائع کر دیں گے جس پر ان ذمہ داروں سے معاملات طے کر لیے ہیں کیونکہ اگر وہ اس موقع پر پولیس سے معاملات طے نہ کرتے تو سڑکوں کے اطراف میں موجود ان کا ہزاروں ایکڑ گنا ضائع ہونے سے ان کو کروڑوں روپے کا نقصان ہونا تھا۔ ان ایس ایچ اوز نے سکیورٹی کے نام پر ان سے ڈیل کر کے حکومتی پابندی کے احکامات کی خلاف ورزی کرائی کہ وہ ان کی فصل کی باحفاظت کٹائی اور شوگرملز تک پہنچانے کو یقینی بنائیں گے۔ اسی لئےاس سال ان علاقوں میں سڑکوں کے ا طراف میں بھی خلاف توقع ہزاروں ایکڑ گنا کاشت ہو کر تیار ہو چکا ہے۔ اہل علاقہ کے مطابق اگر کوئی زمینداران ایس ایچ اوز سے تعاون نہیں کرتا تو انہیں ڈاکوؤں کی طرف سے دھمکیاں آمیز کالز یا پیغامات آجاتے ہیں جس کے بعد وہ زمیندار امداد کے لیے مقامی ایس ایچ او کے پاس جاتا ہے جو اس سے معاملات طے کر لیتا ہے اور وہ زمیندار اپنی فصل اٹھا لیتا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق وہ ڈاکوؤں سے زیادہ ان ایس ایچ اوز کی چیرہ دستیوں سے خوفزدہ ہیں جو کہ سالہا سال سے یہاں پر تحریری وغیرتحریری طور پر مسلسل تعینات رہتے ہیں۔کچہ میں کاشتکاری کرنے والے زمینداروں سے سکیورٹی کے نام پر بھتہ وصول کرتے ہیں۔






