پاکستان میں امن وامان کی خراب صورتحال پرموبائل،انٹرنیٹ سروس فوری بند،الیکشن میں بھی یہی صورتحال رہی،کچےمیں سہولت کیوں فراہم؟
پنجاب و سندھ کے کچے کے علاقے میں سارا سال سینکڑوں مغوی ڈاکوئوں کے قبضے میں ،کھلے عام یا جھونپڑیوں میں بٹھائے ہوئے ہوتے ہیں
افغان جنگ کےبعدپاکستان کے پاس حساس ترین ٹیکنالوجی موجود،موبائل،موومنٹ کی نگرانی مشکل نہیں،حکومت استعمال کیوں نہیں کررہی؟
افغان جنگ کےبعدپاکستان کے پاس حساس ترین ٹیکنالوجی موجود،موبائل،موومنٹ کی نگرانی مشکل نہیں،حکومت استعمال کیوں نہیں کررہی؟
آئی جی سندھ سے آپریشن کی اجازت مانگنےپرایس پی گھوٹکی کاٹرانسفر،سہولت کارکون؟حساس اداروں کے پاس معلومات ہیں توفائلوں میں بندکیوں؟
ملتان ( سٹاف رپورٹر ) امن و امان کے حوالے سے دہائیوں سے مشکل کا شکار پاکستان میں حکومتی ادارے جس علاقے میں بھی امن و امان کی صورتحال خراب ہو تو اس علاقے کے متعلقہ ٹاور سےموبائل اور انٹرنیٹ سروس بند کر د ی جاتی ہے۔ حالیہ الیکشن میں تو ملک بھر میں موبائل اور انٹر نیٹ سروس بند رہی تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کچے کے ڈاکوئوں کیلئے 24 گھنٹے موبائل‘ انٹر نیٹ اور واٹس ایپ کی سہولت کیوں دی جا رہی ہے۔ وہاں کون سا سرکاری ادارہ یا یونیورسٹی ہے جہاں ریسرچ ہو رہی ہے وہاں سراسر سماج دشمن عناصر کی پناہ گاہیں ہیں تو ان کے لئے ایسی سہولتیں کیوں دی جا رہی ہیں۔ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب و سندھ کے کچے کے علاقوں میں سارا سال سینکڑوں مغوی ہر وقت ڈاکوئوں کے قبضے میں ہوتے ہیں۔ یہ تمام افراد کھلے عام یا جھونپڑیوں میں بٹھائے ہوئے ہوتے ہیں۔ افغان جنگ کے بعد پاکستان کے پاس ہر طرح کی حساس ترین ٹیکنالوجی موجود ہے جو سو فیصد ٹارگٹ کو حاصل کرتی ہے جن موبائل فونوں سے رابطے کئے جاتے ہیں ان کی موومنٹ کی نگرانی کرنا کوئی مشکل کام جدید ٹیکنالوجی کی موجودگی میں باقی نہیں رہا تو پھر کچے کے علاقے میں حکومت اس کا استعمال کیوں نہیں کر رہی اور کیونکر ناکام ہو رہی ہے۔ توجہ طلب امر یہ بھی ہے کہ ایس پی گھوٹکی انسپکٹر جنرل سندھ سے ڈاکوئوں کے خلاف آپریشن کی اجازت مانگتا ہے تو اسے پرمشن لیٹر جاری کرنے کے بجائے ٹرانسفر لیٹر جاری کر دیا جاتا ہے آخر کون لوگ ہیں جو کچے کے ڈاکوئوں کیلئے سہولت کاری کرتے ہیں۔ اگر حساس اداروں کے پاس معلومات ہیں تو وہ معلومات فائلوں میں کیوں بند ہیں۔







