ملتان(سٹاف رپورٹر)کچے کی قبائلی اور گروہی لڑائیاں عام لوگوں کو خطرناک ڈاکو اور اغوا برائے تاوان کے خطرناک ترین ملزم کیسے بناتی ہیں اور اسے کیسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے روزنامہ قوم نے مختلف مصدقہ ذرائع اور بلوچ کلچر کے علاوہ علاقائی روایات کو سامنے رکھ کر بہت سی معلومات لی ہیں جن کی تفصیل اس طرح سے ہے۔
1۔قبائلی اور گروہی لڑائیوں میں دونوں طرف سے بندے مرتے ہیں اور دونوںہی گروپ آپس میں لڑتے لڑتے جب درجنوں افراد کی جانیںگنوا بیٹھتے ہیں اور برابری شروع ہو تی ہے۔ اگر ایک پارٹی کے 6 افراد قتل ہوئے ہیں اور دوسری برادری کے9 افراد قتل ہوئے تو جرگہ میں6 افراد کے مقابلے میں چھ افراد کی تو برابری ہو جاتی ہے البتہ جس گروہ کے تین زائد قتل ہوئے ہیں ان کا خون بہا اور ہرجانہ ڈالا جاتا ہے جو کہ 40 لاکھ روپے فی مقتول سے لے کر ایک کروڑ روپے تک بھی چلا جاتا ہے۔ یہ خون بہا دینے کا وقت اور مدت طے ہو جاتی ہے پھر قوم اور قبیلہ اکٹھا ہو کر اس خون بہا کی رقم اکٹھی کرتا ہے۔ اپنی سینکڑوں کی تعداد میں بھینسوں، گائیں اور بکریوں کی قیمت لگائی
جاتی ہے اور مقررہ مدت میں خون بہا دے کر صلح ہو جاتی ہے۔
2۔تاوان کی اس رقم کو پورا کرنے کیلئے بعض لوگ اسلحہ لے کر چھوٹی موٹی وارداتیں شروع کرتے کرتے اغوابرائے تاوان شروع کر کے تاوان کی رقم تو دے دیتے ہیں مگر خود اس جال میں پھنس جاتے ہیں اور پیسے کمانے کا یہ آسان ترین راستہ زندگی بھر کیلئے اختیار کر لیتے ہیں۔حکومت کی جانب سے تاوان اداکرنےپریہ سلسلہ رک جائےگا۔
3۔ دوسری جانب اس وقت پنجاب پولیس کے 800 کے لگ بھگ جوان ضلع رحیم یار خان اور ضلع راجن پور کے کچے کے علاقے میں بنائی گئی پولیس پوسٹوں پر تعینات ہیں اور ہر پوسٹ پر نفری کی تعداد 40 سے 50 تک ہے اور ان کے اطراف میں ڈاکو بیٹھے ہیں۔ سالہا سال سے پنجاب کے مختلف اضلاع کے پولیس ملازمین یہاں اذیت کی زندگی اور کالا پانی کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ ان کی رہائش، کھانا اور دیگر آمد و رفت پر حکومت کا کم از کم ایک ارب روپے سالانہ خرچ ہو رہا ہے مگر امن بحال نہیں ہو رہا اور نہ ہی اغو ا برائے تاوان رک رہے ہیں بلکہ سماج دشمن غنڈہ عناصر کی نئی کھیپ تیار ہو رہی ہے۔
4۔ پنجاب پولیس کے پاس محفوظ ترین راستہ اب بھی موجود ہے جس پر اربوں روپے سالانہ کے بجائے شاید 40 سے 50 کروڑ ایک ہی مرتبہ خرچ ہو اور علاقے میں حالات تبدیل ہو جائیں۔ انتہائی باختیار پولیس کی دسترس سے کوئی بھی سردار باہر نہیں ہے اور کوئی بھی سردار پولیس اور حکومت کو انکار نہیں کر سکتا ۔حکومت ان سرداروں کو بیچ میں لائے، قبائلی جھگڑوں اور نقصان کی صلح کرائے۔ خون بہاو دیگر نقصان ایک ہی بار حکومت ادا کرے جو کسی بھی طور پر دونوںاضلاع یعنی رحیم یار خان اور راجن پور کے تمام قبائلی جھگڑے ختم کرا سکتی ہے۔
5۔جو اربوں روپے کی رقم جرائم کی بیخ کنی پر حکومت پنجاب خرچ کر رہی ہے وہ ایک ہی سال میں ساری کی ساری بچنا شروع ہو جائے گی اور یہ اربوں روپےکچےکےعلاقےکی ویلفیئرپر خرچ کئے جائیں۔ سکول اور شفا خانےبنیں، جانوروں کے ہسپتال بنائے جائیں ۔دینی تعلیم کے مراکز قائم کئے جائیں۔ جن زمینوں پر یہ قابض ہیں انہیں سرکاری قیمت اقساط میں لے کر الاٹ کر دی جائیں تاکہ ان کو مستقل ٹھکانے اور روزگار میسر ہو جائے پھر جہاں سے حکومت کو ایک روپیہ بھی نہیں ملتا بلکہ حکومت کا اربوں روپیہ ضائع ہو رہا ہے اس ہزاروں ایکڑ سرکاری راضی پر قبضہ ختم ہوگا تو حکومت کو ریونیو بھی آنا شروع ہو جائے گا اور جس نے ایک مرتبہ سرکاری کھاتے میں کسی بھی مد میں رقم جمع کرا دی وہ اس کا بتدریج حصہ بن گیا۔
6۔یہ وہ زرخیز ترین علاقے ہیں جہاں اربوں روپے کا لائیو سٹاک ہے جہاں ہزاروں جانور از خود ہی دن بھر گھاس چر کر دودھ دینے کے وقت اپنے اپنے بھانوں اور باڑوں میں پہنچ جاتے ہیں یہاں خالص دودھ کے پراسیسنگ پلانٹ بھی لگائے جا سکتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا حکومتوں کیلئے یہ گھاٹے کا سودا ہے؟ ہاں مگر اس ڈیل سے بہت سے سرکاری اداروں کے’’ رزق ‘‘کا ایک بہت بڑا حصہ ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے گا۔ یہ کیسے قبول ہوگا یہ’’ قوم ‘‘کا اس قوم کے اکابرین سے سوال ہے۔






