سندھ کے ضلع گھوٹکی کی تحصیل اوباوڑو کے قریب کچہ علاقے کے ڈاکوؤں کا ایک مسافر بس کو روک کر مسافروں کو اغوا کر لینا اور پھر انہیں بحفاظت بازیاب کرانا بظاہر ایک کامیاب کارروائی کی خبر ہے، مگر درحقیقت یہ خبر ہمارے ریاستی نظام کے اس زخم پر انگلی رکھتی ہے جو برسوں سے رستا چلا آ رہا ہے۔ اس واقعے میں یہ خوش آئند پہلو ضرور ہے کہ اغوا کیے گئے تمام مسافر زندہ سلامت واپس آ گئے، لیکن اسی کے ساتھ ایک مسافر کا کھیت میں دل کا دورہ پڑنے سے جان سے چلے جانا اس حقیقت کو تلخ بنا دیتا ہے کہ اغوا صرف بندوق کی نوک پر چھینے گئے لمحے نہیں ہوتے، یہ خوف کے وہ طوفان ہوتے ہیں جو بعض اوقات جسم کو نہیں، دل کو توڑ دیتے ہیں۔ اور پھر سوال یہ نہیں رہ جاتا کہ کارروائی کامیاب ہوئی یا نہیں، سوال یہ بنتا ہے کہ اتنی بڑی واردات سرے سے ہونے کیسے دی گئی، اور کچہ کی اس متوازی حکمرانی کو ختم کرنے کے لیے ریاست کب تک وقتی بندوبستوں سے کام چلاتی رہے گی۔اطلاعات کے مطابق رات کے وقت بس پر حملہ ہوا، ڈرائیور زخمی ہوا، شیشے توڑے گئے، مسافروں کو اتارا گیا، خواتین کو الگ رکھا گیا اور باقی مسافروں کو اٹھا لیا گیا۔ یہ پورا منظر نامہ بتاتا ہے کہ ڈاکو محض راہ زن نہیں رہے؛ وہ منظم گروہ ہیں، علاقے کی جغرافیائی ساخت، راستوں کی کمزوریوں، پولیس کے ردعمل کے انداز اور صوبائی سرحدی پیچیدگیوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہاں بس کو روکا جا سکتا ہے، کہاں سے کچے کے اندر لے جایا جا سکتا ہے، کہاں سے دباؤ ڈال کر تاوان اور سودے بازی کی جا سکتی ہے، اور کہاں ریاستی رٹ صرف کاغذی رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے واقعات کے بعد جب ہم یہ سنتے ہیں کہ پولیس نے راستے بروقت بند کر دیے، یا مشترکہ کارروائی میں بازیابی ہو گئی، تو ہمیں خوشی کے ساتھ یہ سوچنا بھی چاہیے کہ اگر یہ بروقتی ممکن تھی تو پہلے ہی راستوں پر نگرانی کیوں نہیں تھی، اور کچہ میں دہائیوں سے قائم جرائم کے قلعے پر مستقل ضرب کیوں نہیں لگائی گئی۔کچہ علاقہ محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں، یہ ہماری حکمرانی کے بحران کی علامت ہے۔ دریائے سندھ کے کناروں کے ساتھ پھیلی یہ پٹی پنجاب اور سندھ دونوں میں بٹی ہوئی ہے، اور یہی تقسیم ڈاکوؤں کے لیے سہولت بن جاتی ہے۔ ایک طرف کارروائی کا دباؤ بڑھے تو دوسری طرف جغرافیائی سرحد کے سہارے نکل جائیں، ایک طرف مقدمہ مضبوط ہو تو دوسری طرف گواہ خوف زدہ ہو کر پیچھے ہٹ جائیں، اور اگر کہیں چھاپا پڑے تو پانی، جھاڑیاں، کچے کے راستے اور مقامی سہولت کاروں کی مدد سے غائب ہو جائیں۔ اس پورے نظام میں سب سے کمزور کڑی عام شہری ہے: وہ جو رات کی بس میں رزق کی تلاش، علاج، تعلیم یا کسی مجبور ملاقات کے لیے سفر کرتا ہے، اور اچانک اسے احساس ہوتا ہے کہ شاہراہ پر سفر کرنا بھی اب ایک جوا ہے۔یہ واقعہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ جرائم کا یہ ڈھانچہ صرف بندوق اور بارود سے نہیں چلتا۔ اس کے پیچھے پیسہ، پناہ، سیاسی سرپرستی، مقامی دشمنیاں، زمین کے جھگڑے، پولیس کے اندر بدعنوانی، ناقص تفتیش، کمزور استغاثہ اور عدالتوں میں مقدمات کا برسوں لٹک جانا بھی شامل ہے۔ جب جرائم پیشہ گروہ بڑے ہتھیاروں کے ساتھ کھلے عام چلتے ہوں، جب اغوا کے بعد سودے بازی کی افواہیں عام ہوں، جب کچہ کے بعض حصے عملاً “جانا منع ہے” کی صورت اختیار کر چکے ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاستی انتظامیہ نے یا تو یہ علاقہ اپنے حال پر چھوڑ رکھا ہے یا اسے وقتی کامیابیوں کے ذریعے سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مگر جرم کا مستقل علاج وقتی کارروائی نہیں، مستقل حکمت عملی ہے۔پولیس کی طرف سے یہ کہنا کہ مختلف تھانوں کے دستے، رینجرز کے اہلکار اور کئی اضلاع کے افسران مشترکہ کارروائی میں شریک تھے، ایک طرف تو ادارہ جاتی تعاون کی تصویر پیش کرتا ہے، مگر دوسری طرف یہ بھی واضح کرتا ہے کہ معمول کی پولیسنگ کس قدر کمزور ہے کہ ایک اغوا کے بعد اتنا بڑا جوابی نظام حرکت میں آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہی تعاون، یہی انٹیلی جنس، یہی گشت اور یہی ناکہ بندی پہلے سے معمول بن سکتی تھی؟ اگر راستے بروقت بند کیے جا سکتے تھے تو بس کے راستے پر پہلے سے ایسی نگرانی کیوں نہیں تھی کہ ڈاکو حملہ کرنے کی ہمت ہی نہ کرتے؟ اگر مشترکہ کارروائی میں ڈاکوؤں سے فائرنگ کا تبادلہ ہو سکتا ہے تو پھر کچہ میں مستقل بنیادوں پر جرائم پیشہ گروہوں کے ٹھکانوں کی نشان دہی اور ان کا قلع قمع کیوں نہیں ہوتا؟یہاں ایک اور پہلو بھی اہم ہے: صوبائی سرحدوں کے نزدیک واقعات میں ذمہ داری کا کھیل بہت جلد شروع ہو جاتا ہے۔ ایک طرف یہ کہا جاتا ہے کہ واقعہ فلاں ضلع کے دائرہ اختیار میں نہیں، دوسری طرف یہ وضاحت آتی ہے کہ اغوا فلاں رابطہ سڑک کے حصے سے ہوا۔ عوام کے لیے یہ بحث بے معنی ہے، کیونکہ اغوا شدہ شہری کے لیے صوبہ، ضلع اور حد بندی نہیں ہوتی؛ اس کے لیے صرف خوف ہوتا ہے، اور ریاستی کمزوری کا احساس ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے ادارے واقعے کے بعد دائرہ اختیار کی لکیر کھینچنے میں تیز اور واقعے سے پہلے مشترکہ روک تھام میں سست نظر آتے ہیں۔ حالانکہ کچہ جیسا خطرہ سرحدی کاغذ سے بڑا ہے؛ اس کا جواب بھی مشترکہ اور مستقل ہونا چاہیے۔سیاسی ردعمل بھی اسی پرانی لکیر پر چلتا ہے: ایک طرف مذمت، دوسری طرف ایک دوسرے کی اہلیت پر سوال۔ اگر کوئی سیاسی جماعت حکمرانوں کی ناکامی بیان کرتی ہے تو یہ بیان اپنی جگہ، مگر عوام یہ بھی دیکھتے ہیں کہ برسوں سے جب جس کے پاس اختیار رہا، کچہ کے مسئلے نے اس کے دور میں بھی سر اٹھایا۔ لہٰذا محض الزام تراشی سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ایک واضح، قابلِ ناپ اور قابلِ جواب دہ حکمت عملی سامنے آئے: کتنے ڈاکوؤں کی گرفتاری ہوئی، کتنے مقدمات منطقی انجام تک پہنچے، کچے میں کون سے علاقے مسلسل جرائم کا مرکز ہیں، وہاں ریاستی رٹ قائم کرنے کے لیے کون سا مستقل انتظام کیا گیا، اور اس سارے عمل کی نگرانی کون کرے گا۔ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ کچہ کی جرائم معیشت کے پیچھے سماجی اور معاشی عوامل بھی ہیں۔ غربت، بے روزگاری، تعلیم کی کمی، صحت کی سہولتوں کی قلت اور مقامی سطح پر طاقتور حلقوں کا غلبہ ایسے حالات پیدا کرتے ہیں جن میں نوجوان بندوق کو روزگار سمجھنے لگتے ہیں۔ مگر یہ دلیل جرم کا جواز نہیں بنتی۔ یہ صرف یہ بتاتی ہے کہ اگر ریاست صرف بندوق سے بندوق کا جواب دے گی اور علاقے کے لیے تعلیم، صحت، زرعی اصلاحات، روزگار اور انصاف کا نظام نہیں بنائے گی تو جرائم کی جڑیں کسی نہ کسی شکل میں باقی رہیں گی۔ کچہ میں پولیس چوکی کے ساتھ اسکول بھی چاہیے، کارروائی کے ساتھ روزگار بھی چاہیے، اور گرفتاری کے ساتھ سزا کا یقینی نظام بھی چاہیے۔اس واقعے میں پولیس کے اہلکار کے زخمی ہونے اور ڈاکوؤں کے زخمی ہونے کی اطلاعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مقابلہ محض “چھوٹے جرائم” کا نہیں، یہ مسلح گروہوں کا چیلنج ہے۔ ایسے چیلنج کے لیے خصوصی تربیت یافتہ دستے، جدید آلات، بہتر مواصلاتی نظام، رات کی نگرانی کے وسائل، پانی اور جھاڑیوں والے علاقوں میں کارروائی کی مہارت اور سب سے بڑھ کر قابل اعتماد انٹیلی جنس درکار ہوتی ہے۔ مگر ان سب سے بھی بڑھ کر قانونی نظام کی پشت پناہی ضروری ہے۔ اگر گرفتاری کے بعد مقدمہ کمزور ہو، گواہ ڈر جائیں، تفتیش میں خامیاں رہ جائیں، یا اثر و رسوخ کے ذریعے ملزم چھوٹ جائے تو اگلا اغوا پہلے سے زیادہ اعتماد کے ساتھ ہوگا۔ اس لیے کچہ کے خلاف جنگ دراصل پولیس، استغاثہ اور عدلیہ کے درمیان ایک مربوط عمل کی جنگ ہے، صرف ایک چھاپے کی جنگ نہیں۔اس واقعے کے بعد “تلاش جاری ہے” جیسے جملے سننے میں اچھے لگتے ہیں، مگر عوام کا تجربہ یہ ہے کہ تلاش اکثر تھک جاتی ہے، اور کچہ کی راتیں پھر وہی ہو جاتی ہیں۔ اصل ضرورت ایک ایسے نظام کی ہے جس میں کچہ کے راستوں پر مستقل نگرانی ہو، مسافر بسوں کے لیے محفوظ راہداریاں متعین ہوں، خطرناک مقامات پر روشنی اور نگرانی کا انتظام ہو، اور یہ سب کسی ایک واقعے کے بعد نہیں بلکہ معمول کے حصے کے طور پر ہو۔ اسی کے ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ سفر کرنے والی کمپنیوں، بس اڈوں اور متعلقہ انتظامیہ کے درمیان ایک حفاظتی لائحہ عمل بنے، تاکہ مسافروں کو خطرناک راستوں پر اندھیرے میں موڑنے اور غیر محفوظ حصوں سے گزارنے کی گنجائش کم سے کم ہو جائے۔آخر میں یہ سوال پھر اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ اگر بیس مسافر اغوا ہو سکتے ہیں تو کل دو سو بھی ہو سکتے ہیں، اور اگر آج بازیابی ہو گئی تو کل تاوان بھی لیا جا سکتا ہے۔ ریاست کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کچہ کو مستقل امن کا علاقہ بنانا ہے یا اسے کبھی کبھی کی کارروائیوں کے ذریعے “قابلِ برداشت خطرہ” بنا کر چھوڑ دینا ہے۔ عوام کسی قابلِ برداشت خطرے کے محتاج نہیں، وہ اپنے گھر سے نکلتے وقت صرف یہ چاہتے ہیں کہ راستہ ریاست کے پاس ہو، ڈاکو کے پاس نہیں۔ کچہ کی حکمرانی ختم کرنے کا مطلب صرف ڈاکو پکڑنا نہیں، اس کے پیچھے موجود سہولت کاری، سرپرستی، غیر قانونی اسلحے کی رسد، کمزور تفتیش، خوف زدہ گواہوں اور سیاسی مصلحتوں کے پورے جال کو توڑنا ہے۔ اگر یہ نہ ٹوٹا تو ہر کامیاب بازیابی کے بعد بھی ہمارا اجتماعی اعتماد اغوا ہوتا رہے گا، اور ہر سفر ایک نئی آزمائش بن کر رہ جائے گا۔







