کچہ: ڈاکوئوں کے قلع قمع کاملمع اترگیا،آئی جی پنجاب نے حکومت کوماموں بنائے رکھا

کچہ: ڈاکوئوں کے قلع قمع کاملمع اترگیا،آئی جی پنجاب نے حکومت کوماموں بنائے رکھا

پنجاب کی تاریخ کے مہنگے ترین آپریشن کیلئے نگران دورمیں وفاق نے216ارب، محسن نقوی نے سوا2ارب جاری کئےتھے

سرکاری اعلانات کے مطابق 2006 سے 2022 تک 16 سال میں دعوئوں کے مطابق کامیاب مگر حقیقت میں ناکام آپریشن ، گرینڈ آپریشن 6 ماہ بعد ہی بری طرح فلاپ ثابت

آئی جی پنجاب نےڈاکوئوں کے صفایا،علاقہ کلیئرکرانے کادعویٰ کیا،گھومتے پھرتے’’لوگ‘‘اپنےنکلے،عثمان انوردادسمیٹتےرہے،پختہ مورچے،بجٹ کہاں گیا،کچھ پتہ نہیں،سپیشل آڈٹ کی ضرورت

ملتان ( تجزیہ: میاں غفار احمد ) کیا حکومت وقت کوئی ایسا سپیشل آڈٹ کرائے گی کہ نگران دور حکومت میں وفاقی حکومت کی طرف سے کچے کے ڈاکوئوں‘ سماج دشمن عناصر اور سندھ پنجاب بارڈر پر حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے والے ڈاکوئوں کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے جو 216 ارب روپیہ جاری ہوا تھا اور نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی طرف سے سوا دو ارب روپے کے اخراجات کئے گئے اور پھر 10 جون 2023ء کو ہفتے کے روز رحیم یار خان کے دریائی خطے میں نگران وزیر اعلیٰ کے دورے کے دوران اس آپریشن کے انچارج آئی جی پنجاب نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ڈاکوئوں کا مکمل قلع قمع کر دیا ہے اور اب یہ علاقہ بالکل کلیئر کر دیا گیا ہے ۔اس دعوے پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے خوب واہ واہ اور داد سمیٹی مگر صرف 5 ماہ بعد ہی سب ڈاکو واپس آ گئے اور اغوابرائے تاوان کی وارداتیں شروع ہو گئیں۔ یاد رہے کہ یہ پنجاب کی تاریخ کا مہنگا ترین آپریشن ہے۔ گذشتہ سال مارچ میں اغوا برائے تاوان اور کچے کے ڈاکوئوں کی سرکوبی کیلئے شروع کیا گیا تھا جس کیلئے پنجاب حکومت سے سوا دو ارب کا فنڈ پنجاب کی نگران کابینہ میں آئی جی پنجاب کی پریذنٹیشن کے بعد کابینہ کی منظوری سے جاری کیا گیا تھا۔ ایک منظم مہم اس سے قبل چلی جس میں بتایا گیا تھا کہ ڈاکوئوں نے 300 سے زائد افراد کو اغوا کیا ہے جبکہ اس دعوے پر روزنامہ ’’قوم‘‘ نے اس حوالے سے جو معلومات لی تھیں وہ سرکاری اعداد و شمار کے مقابلے میں بہت کم تھیں اور پنجاب کی حدود میں تو بہت ہی کم‘ تاہم سندھ کی حدود میں زیادہ تھیں مگر یہ کسی بھی طور پر 300 نہ تھیں۔اس گرینڈ آپریشن سے قبل حکومت کےسرکاری اعلانات کے مطابق 2006 سے 2022 تک 16 سال اپنے دعوئوں کے مطابق کامیاب مگر حقیقت میں ناکام آپریشن کر چکی تھی اور یہ آپریشن جسے گرینڈ کہاگیا 6 ماہ بعد ہی بری طرح ناکام اور فلاپ ثابت ہوا۔ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے اسے سنگین مسئلہ قرار دیکر سخت ایکشن اور گرینڈ آپریشن کا اعلان کیا تھا۔ سپیشل سپلمنٹری گرانٹ منظور کی گئی۔ دوسری طرف نگران وفاقی حکومت نے ان دہشت گردوں اور ڈاکوئوں کے خلاف کارروائی کے لئے 2 کھرب 16 ارب کا سامان خریدنے کا دعویٰ کیا ۔ بکتر بند گاڑیاں‘ بلٹ پروف جیکٹس‘ سنائپرگنز‘ جدید آرمی سامان، کشتیاں‘ گاڑیاں خریدی گئیں۔ امریکا سے تربیت یافتہ سنائپر منگوانے کا دعویٰ کیا گیا اور پھر یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ سنائپر کچے کے ڈاکوئوں کے خلاف پکا آپریشن کر رہے ہیں۔ یہ آپریشن جون کے پہلے ہفتے تک تقریباً ڈھائی ماہ چلا اور پھر نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی آئی جی پنجاب کی دعوت پر خصوصی طور پر آپریشن کرنے والی ٹیم کی حوصلہ افزائی کیلئے میڈیا سمیت 10 جون کو رحیم یار خان اور راجن پور کے درمیان کچے کے علاقے میں گئے جہاں انہیں کشتیوں میں بٹھا کر علاقے کا اس دعوے کے ساتھ دورہ کرایا گیا کہ اب یہ علاقہ پرامن ہو چکا ہے ۔ آئی جی پنجاب نے کامیابی کی تفصیلات سے وزیر اعلیٰ کو آگاہ کیا اور دعویٰ کیا کہ
کچے کے علاقے سے ڈاکوئوں کا صفایا ہو چکا ہے وہاں کھلے عام لوگ آتے جاتے دکھائے گئے اور ذرائع کے مطابق یہ ’’لوگ‘‘ بھی انہی کے تھے مگر سادہ کپڑوں میں تھے۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے نگران وزیر اعلیٰ کو اپنی بریفنگ میں یہ بھی بتایا تھا کہ کچے کے علاقے میں پکے مورچے بنا دیئے گئے ہیں اور اب اس علاقے سے ڈاکو ختم اور پولیس کی عمل داری شروع ہو چکی ہے مگر حیران کن طور پر ضلع رحیم یار خان سے ہی ستمبر میں تاوان کیلئے اغوا کی پہلی واردات انہی کچے کے ڈاکوئوں نے کر دی اور پھر دسمبر میں ڈاکوئوں کی باقاعدہ کارروائیاں پھر سے شروع ہو گئیں یہ پتہ ہی نہ چل سکا کہ پختہ مورچے کدھر گئے اور چند ہی ماہ بعد ڈاکو پھر سے سرگرم کیوں ہو گئے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں