ایس ایچ او زبھی ڈاکوئوں کی مرضی سے ٹرانسفر اور تعینات ، پولیس اہلکار ہی دوطرفہ مخبری کے فرائض ادا کررہے،ڈاکوکی کھلے عام ویڈیومیں دھمکیاں
پنجاب کی سرحد پر کوٹ سبزل سے سکھر تک 160کلو میٹر طویل اور 40 کلو میٹر چوڑےدریائے سندھ کے اطراف کچے کے علاقےنوگوایریا،پی پی حکومت،صدرزرداری کے احکامات بھی مسترد
موٹروے،جی ٹی روڈپرڈاکوراج،پنجابی اورغیرمسلم متاثر،کبھی کوئی وڈیرہ نشانہ نہ بنا،انتخابات میں ڈاکوئوں کے علاقےمیںپولنگ سٹیشن بھی بنے،حکومت بنتے ہی صورتحال خراب، اغوابرائےتاوان،قتل عام تیز

ملتان(میاں غفار سے) پنجاب کی سرحد پر کوٹ سبزل سے سکھر تک 160کلو میٹر طویل اور 40 کلو میٹر چوڑےدریائے سندھ کے اطراف کچے کے علاقوں میں حکومت کی گرفت مکمل طورپر ختم ہوچکی ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت اور وفاق میں پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر پاکستان آصف علی زرداری کے احکامات بھی تادم تحریر مکمل طورپر مسترد ہوچکے ہیں۔ کندھ کوٹ ، گھوٹکی ، کشمور، بھگشامور، گڈو ، لاڑکانہ ، شکارپور ، قنبر ، شہداد کوٹ اور لاڑکانہ کی حدود تک پولیس اورانتظامیہ مکمل طورپر بے بس اور غیر فعال ہو چکی ہے۔ صورتحال اس حدتک بگڑ چکی ہے کہ پنجاب کے آخری ضلع رحیم یارخان میں اقبال آباد سے سکھر تک تقریباً 160 کلو میٹر موٹروے کا کنٹرول رات ہوتے ہی موٹروے پولیس کے بجائے غیر اعلانیہ ڈاکوئوں کے پاس چلا جاتا ہے جبکہ بعض اوقات تو دن کو بھی موٹروے بند رہتی ہے جبکہ جی ٹی روڈ پر کوٹ سبزل ضلع رحیم یارخان سے سکھر تک مغرب کی نماز کے بعد سے لے کرصبح کا سورج طلوع ہونے تک ہر قسم کی ٹریفک رکی رہتی ہے ۔ چلتی گاڑیوں پر فائرنگ اورڈاکوئوں کے ہاتھوں ڈرائیوروں کے تا وان کیلئے اغوا کے متعدد واقعات ہوچکے ہیں ۔ اس بدامنی کی صورتحال میں سندھ میں دہائیوں سےآباد پنجابی اور غیر مسلم زیادہ متاثر ہیں ، حیران کن امر یہ ہے کہ 8فروری کو ہونے والے انتخابات میں کچے کے ڈاکوئوں کے علاقوں میں پولنگ سٹیشن بھی بنے ، امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم بھی چلائی اور رات گئے تک امیدواروں کی انتخابی مہم کچے کے علاقے میں جاری رہتی ۔پولنگ سٹاف بھی تعینات ہوا اور پرامن پولنگ بھی ہوئی ، انتخابات کے فوری بعد کچے کے ڈاکو دوبارہ سرگرم ہوگئے اور صرف ایک ہفتے کے اندر اندر صورتحال بگڑنا شروع ہوگئی۔ ادھر حکومت سازی کا عمل شروع ہوا اور ادھر ڈاکوئوں نے اغوا برائے تاوان شروع کردیا ۔سندھ کی اس صورتحال میں یہ امر انتہائی توجہ طلب ہے کہ انتخابی عمل کے دوران کوئی امیدوار اغوا نہیں ہوا بلکہ گزشتہ چالیس سال میں اس علاقے سے کوئی بھی وڈیرا یا کسی وڈیرے کے انتہائی قریبی لوگوں میں سے بھی کوئی شخص اغوا نہیں ہوا ، اغوا کی وارداتیں سب سے زیادہ آباد کاروں کے خلاف ہورہی ہیں جبکہ کاروباری حضرات بھتہ دیکر خود کو محفوظ کئے ہوئے ہیں ۔سندھ میں انتہائی افسوسناک امر یہ بھی ہے کہ آبادکاروں کی زمینوں پر قبضے کرنے اور انہیں بے دخل کرنے کی کارروائیاں پھر سے شروع ہوچکی ہیں ۔ یا د رہے کہ پہلی مرتبہ آبادکاروں کے خلاف یہ مہم سابق وزیر داخلہ سندھ ممتاز بھٹو کے دور میں اس وقت شروع ہوئی تھیں جب چیئرمین پیپلزپارٹی ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیراعظم تھے۔ حیران کن طورپر ان کے آبائی ضلع لاڑ کانہ اور آبائی انتخابی حلقے نوڈیرو سے بھی آبادکار نقل مکانی کرکے پنجاب میں ضلع رحیم یارخان میں آکر آباد ہوئے تھے ۔ اس وقت صورتحال اتنی سنگین ہوچکی ہے کہ تھانوں کے ایس ایچ او حضرات بھی ڈاکوئوں کی مرضی سے ٹرانسفر اور تعینات ہوتے ہیں اور سالہاسال سے کچے کے تھانوں میں تعینات پولیس اہلکار ہی دوطرفہ مخبری کے فرائض ادا کررہے ہیں ۔گذشتہ روز اس دریائی بیلٹ کے ایک ڈاکو قندار خان نے اپنے ویڈیو بیان میں کھلےعام وزیراعظم ،صدر، وزیراعلیٰ ، آئی جی سندھ ، ڈی آئی جی سندھ کو سندھی زبان میں نہ صرف دھمکیاں دی ہیں بلکہ کہا ہے کہ اس کی دھمکی آمیز ویڈیو کو شیئربھی کریں ، اس ویڈیو پیغام میں مذکورہ ڈاکو نے چند فحش اشارے بھی کئے۔ یہ ڈاکو قندار خان اپنے بیان میں کھلے عام کہہ رہا ہے کہ پولیس میں ہمارے ہمدرد موجود ہیں اورپاکستان تو کیا امریکاکا صدر بھی ہمارے سامنے بے بس ہے۔







