کچہ آپریشن 20 سال سے روزی روٹی کا ذیعہ،پکے والوں کیخلاف آواز اٹھانا ڈاکووں کی موت

ملتان(قوم سپیشل سیل رپورٹ)کچے کے غیر منظم ڈاکو جب پکے والوں پر انگلی اٹھائیں گے تو جان سے جائیں گے کہ گزشتہ 20 سال سے جاری ’’حصول رزق‘‘کے نظام کو بھی تو بچانا ہے اور ہر سال آپریشن فنڈز بھی تو جاری ہونے ہیں۔ کیا پولیس اس الزام کی تحقیقات کرے گی جس سے ضلع رحیم یار خان کا ہر شخص آگاہ ہے کہ نوید نواز واہلہ کس قسم کے گھنائونے کھیل میں ملوث ہے؟ ابھی تک دو واقعات میں 15 پولیس اہلکاروں کی شہادت کی انکوائری بھی سامنے نہیں آ سکی اور نہ ہی کسی نے بہاولپور پولیس کے ریجنل سربراہ رائے بابر سعید سے فنڈز کے استعمال بارے معلومات لی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق تو کچہ میں تعینات نفری کو بہت سی سہولیات حاصل ہیں مگر حقائق اس کے برعکس ہیں۔ آخری مرتبہ مچھر دانیاں جنگل کے موٹے تازے مچھروں سے بچائو کے لئے چار سال قبل دی گئی تھیں اور وہ بھی دو ملازمین کے لئے ایک۔ اس کے بعد ریکارڈ ہی میں ملتی ہیں حقیقت میں نہیں اور رہا دیگر سہولیات کی فراہمی کا تو ان کا اندازہ مچھر دانیوں ہی سے لگایا جا سکتا ہے۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ کچے کے لئے مختص ڈالے آج بھی پکے میں چل رہے ہیں کہ پولیس میں کمانڈ ہمیشہ ہی کنٹرول پر حاوی رہی ہے۔ ڈکیتی سے تائب ہونے والے شاہد لُنڈبلوچ نے جب لنڈے کے نظام کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی تو اس کا مرنا ہی بنتا تھا۔ اب اس کے قاتل کی باری ہے اور دیکھیں یہ کس لُنڈ کے کھاتے میں جائے گا۔ادھرڈاکو شاہد لُنڈ کی صادق آباد کے سینئر صحافی سےفون کال پرآخری گفتگو وائرل ہوگئی ہے۔شاہدلُنڈنےصحافی کوفون کرکے کہاکہ ہمارے اوپر الزام ہے کہ ہم کچے کے ڈاکو ہیں ۔آپ نے کبھی بھی کسی غریب عوام کے لیے یا کسی دیہاتی کے لیے ویڈیو ریکارڈ نہیں کی۔ جب بھی بات کی پولیس کے لیے بات کی۔کیاصرف پولیس والے انسان ہیں اور مسلمان ہیں؟یہاں جو دیہاتی لوگ ہیں یہ جانور ہیں؟ یا قربانی کی بکرے ہیں یا غیر ملکی انسان یہاں رہتے ہیں ۔شاہدلُنڈنےکہاکہ سب سے پہلے تو ڈی پی اور رحیم یارخان صاحب نے انٹرویو دیا۔میڈیا کےذریعے شاید میںسرینڈرہوجائوں میں سرینڈر ہونے کے لیے آج بھی تیار ہوں۔ مجھے قانون سے نفرت نہیں ہے۔ مجھے قانون سے محبت ہے۔ بہرحال آپ ان سے یہ بات کرتے ڈی پی او صاحب کہ آپ کے ضلع کےجتنے تھانے ہیں ان میں تحقیقات کریں ۔میرے اوپر ایف آئی آر کتنی ہیں یہ تو اپ ان سے جان لیتے ہیں۔سر مجھے رحیم یار خان کی ضلع کی اپ ایف آئی آر بتائیں میں اپ کو دے دیتا ہوں۔ دونوں اضلاع میں میرےخلاف 18 ایف آئی آر ہیں۔ اس میں سے 10 ایف آئی آر قتلوں کی ہیں۔ اگر ان میں ورثاکے ساتھ راضی نامہ ہو گیا تو باقی کتنے ایف آئی آر رہیں گی۔ آٹھ ایف آئی آر زرہیں گی۔آٹھ ایف آئی آر والا کیسے ایک کروڑ سرکی قیمت کا حق رکھتا ہے؟ ۔شاہدلُنڈنےکہاکہ لوگ تو ہمیں فون کر کے کہتے ہیں پولیس نے بیگنا لوگوں کو مارا ہے وہ کہتے ہیں بھائی کوئی اور ایک سٹیٹمنٹ دو کو بات کرو کوئی بندہ نہیں آتا۔ اب ہم کیا کریں۔ لوگ ڈرتے ہیں، ہمارا قانون ہے، ہمارا نظام ہے اتنا لوگوں کے اوپر رعب اور قبضہ کر رکھا ہے۔ قسم سے اگر یہ پولیس والے ان دونوں ضلع والوںسےکہیں کہ آپ لوگ کلمہ ہی نہ پڑھو تو میرے خیال میں یہ لوگ کلمہ بھی چھوڑ دیں گے۔ اتنا انہوں نے قبضہ کیا ہوا ہے ملک کے اوپر ،ضلعوں کے اوپر، ایسا ظلم نہیں ہونا چاہئے۔ آپ دونوں طرف کی بات کرو جب ملازمین شہید ہوتے ہیں سر وہ مسلمان ہیں ،ہمارے بھائی ہیں قوم کے بچے ہیں۔ اگر ہم لوگ مر جاتے ہیں تب ہم بھی پاکستا نی ہیں۔ کوئی باہر سے ہم آئے ہوئے نہیں ہیں۔ یہ سوال آپ لوگوں کو کرنا چاہئے۔ہماری قوم کے ایک لڑکے کو جسکی عمر 15 سے 16 سال ہوگی اسےاٹھالیاگیا۔ دو لاکھ کا ڈیمانڈ کیا ۔کچھ پولیس ملا زم ملوث ہیں۔میںنے ڈی پی او صاحب کوکال کی۔ اس نے کال اٹینڈ نہیں کی۔ ایس ایچ او عمران جمیل کومیں نےکال کی۔ ابھی وہ پولیس والے و لاکھ کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں۔ ان کے گھر سالن نہیں پک رہا ہے جن سےدو لاکھ کا ڈیمانڈ کیا ہوا ہے کل کو خدانخواستہ وہ پولیس مقابلہ کر دیتے ہیں توکون ذمہ دارہوگا۔یہ کچہ بھونگ کاواقعہ ہے۔ ڈی پی او صاحب کا نمبر میں نے دو تین مرتبہ لگایا ،وائس کیا وہ ریپلائی نہیں دے رہا ہے، ڈرا ہوا ہے پتہ نہیں کیا، خوفزدہ ہے سوشل میڈیا سے، تو اگر میری خدا نے زندگی رکھی میں سب افسروں کو بے نقاب کروں گا ۔مجھے ایک دن ویسےبھی مرنا ہے۔ بہرحال میں ان کی کرپشن، ان کی حرام خوری ،یہ جو پولیس مقابلے جعلی ہو رہے ہیں ان سب کو ان شااللہ بند کر کے اس دنیا سے جاؤں گا۔ میں ایسے جانے والا ہوں نہیں ہوں ۔تم صحافی بھائی مہربانی کرو ایک طرف بات نہ کرو دونوں طرف کی بات کو اہمیت دیا کرو۔

شیئر کریں

:مزید خبریں