تجزیاتی رپورٹ میاں غفار احمد۔ چیف ایڈیٹر روزنامہ قوم ملتان، کراچی
کچے میں 17 اپریشن، اربوں روپے ضائع، ہر اپریشن کامیاب اور ڈاکو بھی کامیاب
فورسز کے کچے میں آپریشن میں مصروف ہونے پر عام انتخابات التوا میں ڈالے گئے، کچے کے علاقوں میں پولنگ سٹیشنز قائم، جلسے بھی ہوئے،’’پرامن‘‘ پولنگ کے بعد ڈاکو گردی پھر شروع
علاقے میں محرم کے دوران بھی موبائل سسٹم بند نہیں ہوتا، 2006 سے 2024 تک حکومتی دعوے کے مطابق ہر آپریشن کامیابی پر ختم ،چند ہفتوں میں ہی غبارے سے ہوا نکل بھی ختم۔
تمام اپریشن گندم کٹائی کے موقع پر ہی کیوں شروع؟قرقی کا سیاہ قانون کیوں جاری؟ کوئی ریکارڈ؟ کوئی اعداد و شمار؟ اغوا کے واقعات کا ڈھنڈورا صرف مارچ اور اپریل ہی میں کیوں؟ پولیس کا مخبری نیٹ ورک کس نے ختم کیا؟
ملتان (میاں غفار سے ) کچے کے علاقے میں 12پولیس ملازمین کی شہادت، 7 زخمی اور ایک کے قاتلوں کے ہاتھوں اغوا سے پنجاب پولیس اور تما م تر حکومتی و ادارہ جاتی دعوے اپنی موت آپ مر گئے۔گزشتہ 18سال سے ہر سال گندم پکنے اور کٹائی کے دنوں میں اربوں روپے کچے کے ڈاکوئوں کے خلاف پکے ہاتھ ڈالنے کیلئے جاری کئے جاتے ہیں اور رواں سال قومی انتخابات بھی سپریم کورٹ کے واضع احکامات کے باوجود محض اس لئے التوا میں ڈالے گئے کہ کچے کے آپریشن میں سرکاری ادارے مصروف تھے اور التوا میں ڈالے گئے۔ انتخابات سے قبل کچے کے ڈاکوئوں کے خلاف آپریشن کے لئے سابق نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے 2 ارب روپے کی خطیر رقم انہی دنوں جاری کی تھی جن ایام میں کچے کے زمینداروں کی ہزاروں ایکڑ پر گندم تیار ہو کر کٹائی کے مراحل میں تھی۔ یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ 2006 سے 2024 تک حکومتی دعوے کے مطابق ہر آپریشن کامیابی پر ختم ہو تا ہے مگر چند ہی ہفتوں میں کامیابی کے غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے ۔یہ بھی حیران کن امر ہے کہ کچے کے علاقوں میں محرم کے دوران بھی موبائل سسٹم بند نہیں ہوتا اور پھر مزید حیران کن بات یہ بھی ہے کہ الیکشن میں کچے کے تمام علاقوں میں سیاسی امیدوار جلسے کرتے ہیں، پولنگ سٹیشن بھی بنائے جاتے ہیں، پولنگ کا عملہ بھی جاتا ہے اور پھر ان پولنگ سٹیشنوں پر ڈاکووں اور رہائشی افراد کے ووٹ ڈلوا کر بحفاظت واپس بھی آ جاتا ہے۔ چند ہی روز بعد آپریشن ختم ہوتے ہی اغوا برائے تاوان کا دھندہ کیوں کر شروع ہو جاتا ہے ۔رواں سال 2024 میں بھی آپریشن گندم کی پکائی کے دنوں میں ہی شروع ہوا اور کامیابی کے دعووں کیساتھ ختم ہو گیا ۔انہی دنوں وہاں کے کاشتکاروں کی طرف سے ہر سال کی طرح اس سال بھی الزام لگایا جاتا رہا کہ آپریشن کے دوران لاکھوں من گندم بھی غائب کر دی گئی اور نامعلوم لوگوں نے ہارویسٹر لگا کر کٹائی کرائی ہے۔ اس اپریشنز میں ہارویسٹر آخر کیوں؟
کچے کے علاقے میں تین روز قبل 12 جوانوں کی شہادت، متعدد کے زخمی اور ایک کے اغوا کرنے کے واقعات نے کئی سوالات جنم دیئے ہیں ۔جن کی تفصیل اس طرح سے ہے مگر ان کا جواب کسی کے پاس نہیں ۔
تمام آپریشن ہر سال مارچ کے آخر اور اپریل کے شروع میں گندم کی کٹائی کے دنوں ہی میں کیوں شروع ہوتے ہیں۔ گندم کی بوائی کے دنوں میں کیوں نہیں۔ کچے کے ڈاکو تو سارا سال ہی وارداتیں کرتے اور تاوان کیلئے اغوا بھی کرتے ہیں۔ کچے کے علاقوں میں عموما گندم ہی کی زیادہ تر فصل ہوتی ہے کیونکہ ستمبر میں تو دریائے سندھ کی چوڑائی بہت بڑھ جاتی ہے اور تقریباً 10 سے 15 کلو میٹر چوڑائی میں دریا کے دونوں اطراف پانی سے بھر جاتے ہیں پھر اگر کسی نے کپاس کاشت بھی کی ہو تو اکثر اوقات فصل برباد ہو جاتی ہے۔ گنا دسمبر میں کٹ جاتا ہے اس لئے گندم اور بھیڑ بکریاں ہی ذریعہ روزگار ہے۔
2۔ یہ اپنی طرز کا منفرد آپریشن کلین اپ ہوتا ہے جس میں گندم کی کٹائی کرنے والے جدید ہارویسٹر بھی استعمال ہوتے ہیں، قرقی کے انگریز دور کے سیاہ قانون کا خاتمہ کیوں نہ ہو سکا اور یہ کون طے کرتا ہے کہ کون ڈاکو یا اغوا کار ہے اور کون شریف شہری۔
3۔ ایسا کیوں ہے کہ جس کو بھی سماج یا سرکار دشمن ڈکلیئر کرو اس کی املاک اور جائیداد و فصل بحق سرکار ضبط کر لو۔ اسی قانون کا اطلاق تین سال قبل ملتان کی تحصیل شجاع آباد میں ملک سنگھار نامی ایک اے ایس پی نے بھی کیا تھا اور ایک اشتہاری کے والد کی آموں کی تمام تر فصل قرق کر لی تھی۔ معلوم نہیں کہ سرکاری کھاتے میں آم جمع ہوئے یا رقم اور رقم جمہوری تو کس ھیڈ میں۔
4۔ آیا گزشتہ 18 آپریشنز میں جو گندم قرق کی گئی اس کا کوئی ریکارڈ حکومت پنجاب کے پاس موجود ہے؟۔ اگر قرق شدہ گندم حکومت کے پاس جمع ہوتی ہے تو اس کا کوئی تو ریکارڈ ضرور ہی ہوتا ہو گا۔ کیا کبھی کسی بھی حکومت نے اس قرقی کو تسلیم کیا؟۔
5۔ کیا کبھی حکومت پنجاب نے اعداد و شمار جاری کئے کہ کچے کے ڈاکوئوں سے کتنی مقدار میں گندم قرق ہوئی ہے؟۔ کیا کبھی حکومت نے اعداد و شمار حاصل کئے کہ پنجاب کے راجن پور‘ ڈیرہ غازی خان‘ مظفر گڑھ اور رحیم یار خان کے درمیان دریا کی بیٹ میں کتنی گندم کاشت ہوتی ہے۔
6۔ کیا کبھی سندھ حکومت نے کوئی اعداد و شمار مرتب کئے کہ دریائے سندھ کے اطراف میں ضلع گھوٹکی‘ سکھر‘ شکار پور‘ کندھ کوٹ‘ کشمور کے اضلاع میں جو بھی کچے کا علاقہ آتا ہے وہاں کتنے ایکڑ زمین پر سالانہ گندم کاشت ہوتی ہے۔
7۔ جب پولیو ورکرز‘ محکمہ زراعت اور محکمہ لائیو سٹاک کا عملہ کچے کے علاقوں میں سارا سال ڈیوٹی دیتا ہے مگر اغوا کے واقعات صرف مارچ اور اپریل میں ہی کیوں سامنے آتے ہیں۔
8۔ فروری میں ہونے والے الیکشن میں کئی اضلاع پر مشتمل کچے میں پرامن پولنگ ہوئی، ڈاکوئوں نے بھی ووٹ ڈالے مگر ایک بھی سرکاری اہلکار اغوا نہ ہوا اور مارچ میں اچانک وارداتیں شروع ہونے کا واویلا کیونکر مچا دیا کیا کہ فوری طور پر 2 ارب آپریشن کے نام پر جاری ہو گیا۔
9۔ گندم کی کٹائی کے قریب ہوتی ہے تو بہت سی گوٹھوں اور اکا دکا گھروں سے لوگوں کو نکال کیوں دیا جاتا ہے۔
10۔ جب ان لوگوں کی سال کی واحد آمدن کا ذریعہ ہی قرقی کے قانون کی بھینٹ چڑھ جائے گا تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کی کمائی کا واحد ذریعہ جرائم کے علاوہ رہ ہی کیا جاتا ہے۔
11۔ 2006ء سے 2009ء تک ڈیرہ غازی خان پولیس نے کچے کے علاقوں میں ایک منظم نیٹ ورک بنایا تھا اور پولیس کو پل پل کی مخبری ہوتی تھی۔ وہ نظام کس نے اور کیوں ختم کیا اور پھر بحال کیوں نہ ہو سکا۔
12۔ سارا سال ڈاکوئوں کی دھمکی آمیز ویڈیوز تو منظر عام پر آتی نہیں، نہ ہی ان دنوں میں آتی ہے جن دنوں گندم کی بوائی ہو رہی ہوتی ہے ان دنوں تو دور دور تک فضا بھی صاف ہوتی ہے۔ یہ آپریشن نومبر میں بھی ہو سکتا ہے مگر حیران کن طور پر تمام آپریشن مارچ کے آخر ہی میں کیوں ہوتے ہیں؟ کیا آئی جی پنجاب یا متعلقہ ادارے اس بارے کوئی مؤقف دینا پسند فرمائیں گے۔
13۔ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ بعض تھرڈ کلاس قسم کے شوباز نوجوانوں کو بٹھا کر دوطرفہ رابطوں والے پولیس اہلکار دھمکی آمیز ویڈیوز اپ لوڈ کروا کے خوف کا ماحول پیدا کرتے ہیں اور پھر آپریشن شروع ہو جاتا ہے اور یہ بھی کہ اس طرح کی ساری کارروائیاں سندھ اور پنجاب کے نچلے درجے کے پولیس اہلکار کراتے ہیں کیونکہ مصدقہ ذرائع کے مطابق ویڈیو بنانے والے بعد میں اکثر غائب بھی ہو جاتے ہیں۔
14۔ سندھ اور پنجاب کے کچے کے علاقوں سے جو خطرناک ملزم گرفتار ہوتے ہیں وہ ضمانت کیسے کرا لیتے ہیں، ان کے مقدمات کیسے ختم ہو جاتے ہیں اور وہ دوبارہ جرائم کی دنیا میں واپس کیسے آ جاتے ہیں۔
15۔ کیا ڈیرہ غازی خان ڈویژن پولیس نے غلام رسول چھوٹو کو ازخود ایلیویٹ نہیں کیا تھا؟ اور دھاک بیٹھانے کے بعد اس کو گرفتار کیا تو صرف چار سال جیل کاٹ کر کمزور تفتیش اور ناقص شہادتوں کی بنیاد پر وہ رہائی نہیں پا گیا تھا۔ اس نے رہائی کے بعد جب دوبارہ اندھیر مچایا تو پھر کمزور تفتیش، کمزور شہادتوں اور خانہ پُری کی مقدمہ پیروی کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کیا کوئی کارروائی ہوئی؟
16۔ ملک بھر میں موبائل سروس بند ہو سکتی ہے تو کچے میں سال بھر کے لئے بند کیوں نہیں ہو سکتی۔ وہاں کون سی تجارت یا صنعتکاری ہو رہی ہے کہ موبائل فون لازمی ہے۔
17۔ پنجاب اور سندھ میں مخصوص پولیس والے ہی بار بار کچے کے تھانوں میں تعینات کیوں ہوتے ہیں اور آپریشن کی اجازت مانگنے پر گھوٹکی کا ضلعی پولیس سربراہ کیوں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔
18۔ افغانستان سمیت دنیا بھر میں جی پی ایس سے مدد لی جاتی ہے اور ہر قسم کی موومنٹ کی مانیٹرنگ باآسانی کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کے پاس جدید سہولیات بھی موجود ہیں تو پھر کچے کے ڈاکوئوں پر گزشتہ 18 سال سے پکا ہاتھ کیوں نہ ڈالا جا سکا۔






