کچہ آپریشن آخری مراحل میں داخل، خطرناک ڈاکو ظفری جھبیل زندہ نکلا، ویڈیو وائرل

جام پور (احمد نواز راں سے) کچے کے علاقوں میں جاری پولیس و رینجرز کے گرینڈ آپریشن کے دوران دو انتہائی مطلوب ڈاکوظفری جھبیل اور قابل سکھانی سمیت درجنوں ڈاکوئوں کے چکمہ دے کر فرار ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ڈاکو ظفری جھیل کی زندہ ہونے کی ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق دونوں ڈاکو سنگین وارداتوں، اغوابرائے تاوان اور قتل و غارت میں ملوث تھے اور سکیورٹی اداروں کو طویل عرصے سے مطلوب تھے۔ بتایا گیاہے بدنام زمانہ ڈاکو ظفری جھبیل کا تعلق راجن پور کے علاقے شکار پور سےہے۔ ظفری جھبیل ایک ہوٹل میں ویٹر تھا ۔تاہم بتایا گیا ہےکہ ظفری جھبیل دیکھتے ہی دیکھتے ڈاکو عطا اللہ پٹ گینگ کے پاس کچہ میں پہنچ گیا اور اغوابرائے تاوان کی وارداتوں کا آغاز کردیا ۔اس دوران ڈاکو ظفری جھبیل نے اپنے علاقہ شکار پور سے درجنوں لوگوں سے بھتہ وصول کیا اور باقاعدہ درجنوں شہری ظفری کو بھتہ دے رہے تھے جو ڈر کی وجہ سے پولیس کو بتانے سے قاصر ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ظفری جھبیل اب تک شکار پور سے درجنوں لوگوں سے کروڑوں روپے بھتہ وصول کرچکا ہے۔ اب ظفری جھبیل کی سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہو چکی ہے۔ ویڈیو میں ڈاکو ظفری زندہ رہنے کا کہہ رہا ہے جس کی ویڈیو وائرل ہو چکی ہے۔دوسری جانب سکیورٹی فورسز رینجرز سندھ اور پنجاب پولیس کی جانب سے کچہ آپریشن فیصلہ کن مراحل میں داخل ہو چکا ہےجس میں اب تک اطلاعات کے مطابق متعدد خطرناک نو سے زائد ڈاکو جن میں لالا سیکھانی ،چھلو باکرانی جن کے سر کی قیمت پچاس لاکھ مقرر تھی سمیت داؤد دشتی خدا بخش جلوانی عاشق موٹا یوسف شوبی سمیت نو ڈاکو ڈرون حملوں میں ہلاک ہو چکےہیں جبکہ درجن کے قریب ڈاکو متارا سیکھانی خادم بوبی سمیت متعددڈاکو خواتین کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ علاوہ ازیں مشترکہ آپریشن کے دوران ڈاکوؤں کے ٹھکانے تباہ، ان کے گھروں، مال مویشیوں اور خواتین کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ ذرائع کے مطابق آپریشن میں استعمال ہونے والی جدید ڈرون ٹیکنالوجی نے اہم کردار ادا کیا اور متعدد بڑے ڈاکو انہی فضائی حملوں میں مارے گئے۔ ماضی میں روایتی زمینی کارروائیوں کے دوران کئی بار سکیورٹی فورسز کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑالیکن ڈرون کی مدد سے ڈاکوؤں کے خفیہ ٹھکانے اور نقل و حرکت واضح طور پر مانیٹر ہو رہی ہے۔سندھ اور پنجاب پولیس کی مشترکہ کارروائی بدستور جاری ہے اور سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جلد ہی تمام مطلوب عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ عوام نے بھی اس کارروائی کو سراہتے ہوئے مکمل کامیابی کی امید ظاہر کی ہے۔
دوسری جانب راجن پور کے علاقے کچہ کراچی کچہ میں بدنام زمانہ ڈاکوؤں کے خلاف سندھ رینجرز، سندھ پولیس اور پنجاب پولیس کا مشترکہ آپریشن سات روز سے جاری تھا، جس کے بعد سندھ پولیس نے آپریشن مکمل کرنے کے بعد کمان راجن پور پولیس کے حوالےکر دی پولیس ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر آپریشن میں 16 ڈاکو ہلاک جبکہ 27 زخمی ہوئے۔ اس دوران 9 مغوی افراد بھی بازیاب کرا لیے گئے، جنہیں ڈاکوؤں نے ایک ہفتہ قبل اغوا کیا تھا۔ ڈاکوؤں کی کمین گاہوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد ہوا ہے۔آپریشن کے دوران دو خاتون ڈاکو بھی پولیس کی تحویل میں لی گئیں۔ ہلاک ہونے والے ڈاکوؤں میں سے 7 کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 9 کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ان کے ملبے اور لاشیں دریائی علاقوں میں پائی جاتی ہیں جن کی شناخت اور جلد نکاسی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ذرائع کے مطابق چھلو بکھرانی کے سر کی قیمت پچاس لاکھ تھی کورینجرز و پولیس نے نشانہ بنایا ۔چھلو بکھرانی اور اس گروپ کے دیگر افراد پر متعدد سنگین جرائم جیسے اغوا برائے تاوان، پولیس اہلکاروں کی شہادت اور ڈکیتی سمیت کئی وارداتوں کے مقدمات درج تھے۔ایسی طرح 22ڈاکوئوں کے سہولت کار کو گرفتار کیا گیا جن میں دو ڈاکٹر اور ایک ڈسپنسر شامل جو زخمی ڈاکو کا علاج کرنے آئے ہوئے تھے ان کو سکیورٹی فورسز نے گرفتار کرکے تحقیقات شروع کردی ۔اسی اثنا میں معلوم ہوا ہے کہ درجنوں خطرناک اشتہاری ابھی بھی زندہ سلامت روپوش ہیں جن کی گرفتاری کے لیے آپریشن جاری ہے۔ سکیورٹی فورسز نے کچے کے تمام حساس مقامات کا مکمل محاصرہ کر رکھا ہے اور ڈاکوؤں کے خلاف مزید کارروائیاں بڑھا دی گئی ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ آپریشن تاحال جاری ہے اور باقی ماندہ مطلوب عناصر کے خلاف کارروائی مسلسل کی جائے گی تاکہ علاقے کو مکمل طور پر جرائم سے پاک بنایا جا سکے۔

گھوٹکی: کچے کے مختلف علاقوں سے ڈاکوؤں کا صفایا کرنےکا دعویٰ

گھوٹکی(قوم نیوز)پولیس نے گھوٹکی میں کچے کے مختلف علاقوں سے ڈاکوؤں کا صفایا کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ایس ایس پی انور کھیتران کا کہنا ہے کچے کے علاقوں میں پولیس اور رینجرز نے مشترکہ آپریشن کیا، 14 مسافروں کے اغوا کے بعد آپریشن کرنا پڑا، آپریشن کر کے کچہ رجوانی، کچہ عمرانی اور کچہ کراچی سے ڈاکوؤں کا صفایا کر دیا گیا ہے۔ایس ایس پی انور کھیتران کے مطابق آپریشن کے بعد کچے کے کلیئر علاقے راجن پور پولیس کے سپرد کر دیے گئے ہیں جبکہ تباہ بنکروں سے اسلحہ بارود کی برآمدگی کے لیے بم ڈسپوزل اسکواڈ طلب کر لی گئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ڈاکوؤں کے مورچوں میں ان کے پڑے راکٹ پھٹنے کا اندیشہ ہے، اتنا اسلحہ ملا ہے شاید وانا وزیرستان میں بھی نہ ملا ہو۔

شیئر کریں

:مزید خبریں