کوہ سلیمان میں حکومتی رٹ چینج، روزانہ کڑوڑوں کی نان کسٹم پیڈ اشیا کی سمگلنک، ادارے بےبس

ڈیرہ غازی خان (ڈسٹرکٹ رپورٹر ) کوہِ سلیمان میں سمگلنگ کا راج، ریاستی رٹ کمزور، انتظامیہ پر سنگین سوالات ،ڈیرہ غازی خان کے قبائلی و پہاڑی علاقے کوہِ سلیمان میں مبینہ طور پر سمگلروں نے ریاستی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے اپنی من مانیاں شروع کر دی ہیں، جب کہ سرحدی نگرانی پر مامور مختلف قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق روزانہ لاکھوں اور بعض اوقات کروڑوں روپے مالیت کی نان کسٹم اشیاء، الیکٹرانکس، سگریٹ اور دیگر قیمتی سامان سمگل کر کے تونسہ شریف اور پنجاب کے مختلف شہروں تک پہنچایا جا رہا ہے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ کوہِ سلیمان کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے میں سمگلروں نے باقاعدہ طور پر اپنے خفیہ گودام قائم کر رکھے ہیں، جہاں سے سامان گدھوں، موٹر سائیکلوں اور بعد ازاں مختلف گاڑیوں کے ذریعے پنجاب کے میدانی علاقوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ سمگلنگ کے یہ راستے برسوں سے استعمال ہو رہے ہیںتاہم حالیہ مہینوں میں اس میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق بارڈر ملٹری پولیس، پنجاب پولیس، ایلیٹ فورس اور دیگر متعلقہ اداروں کی موجودگی کے باوجود سمگلنگ کا یہ نیٹ ورک کھلے عام کام کر رہا ہے، جس سے انتظامیہ کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات جنم لے رہے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ کئی چیک پوسٹیں صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں، جب کہ عملی طور پر سمگلرز کو کھلی چھوٹ حاصل ہے۔مزید انکشافات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس مبینہ سمگلنگ نیٹ ورک میں بعض بااثر افراد اور اہلکاروں کی ملی بھگت کے الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں۔ ذرائع نے چند مبینہ نام بھی لیے ہیں، تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی متعلقہ افراد یا اداروں کی جانب سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے آیا ہے علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ سمگلنگ کے باعث نہ صرف قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ امن و امان کی صورتحال بھی متاثر ہو رہی ہے۔ غیر قانونی آمدن نے جرائم پیشہ عناصر کو مزید مضبوط کر دیا ہے، جس سے عام شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں۔سماجی و سیاسی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب اور اعلیٰ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کوہِ سلیمان میں فوری طور پر بڑے پیمانے پر آپریشن کیا جائے، سمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور اگر کسی سرکاری اہلکار کے ملوث ہونے کے شواہد ملیں تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو سمگلنگ کا یہ ناسور مزید پھیل سکتا ہے، جو ریاستی رٹ، معیشت اور امن کے لیے سنگین خطرہ بن جائے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں