کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور

ڈیرہ غازی خان (ڈسٹرکٹ رپورٹر)کوہِ سلیمان میں گدھوں کے ذریعے پہاڑ عبور کر کے سمگلنگ، انتظامیہ کی مبینہ ملی بھگت بے نقاب، کوہِ سلیمان کے دشوار گزار پہاڑی راستوں پر سمگلنگ کا منظم نیٹ ورک آج بھی پوری آب و تاب سے سرگرم ہے، جہاں سمگلرز جدید ذرائع کے بجائے گدھوں کے ذریعے پہاڑ کراس کر کے سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر رہے ہیں۔ اس خطرناک اور منظم دھندے نے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہےجبکہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ذرائع اور سامنے آنے والی ویڈیوز کے مطابق سمگل شدہ سامان جس میں نان کسٹم سگریٹ، الیکٹرانکس، ایرانی کنفیکشنری، خشک دودھ، پلاسٹک آئٹمز اور دیگر اشیاء شامل ہیں، گدھوں پر لاد کر پہاڑی دروں کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ سامان بعد ازاں رکشوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے ڈیرہ غازی خان سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں پہنچایا جاتا ہے، جہاں یہ کھلے عام مارکیٹوں میں فروخت ہو رہا ہے۔انتہائی تشویشناک انکشاف یہ ہے کہ اس پورے عمل میں بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی)، پنجاب پولیس اور دیگر اہلکاروں کی مبینہ شمولیت سامنے آئی ہے۔ مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بغیر اندرونی سہولت کاری کے اس پیمانے پر پہاڑوں کے راستے سامان کی منتقلی ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسمگلرز نہ صرف بلا خوف و خطر متحرک ہیں بلکہ کئی دہائیوں سے یہی راستے استعمال کر رہے ہیں۔اگرچہ کوئٹہ روڈ کے ذریعے اسمگلنگ میں حالیہ برسوں کے دوران کمی دیکھی گئی ہے، تاہم اسمگلرز نے متبادل کے طور پر کوہِ سلیمان کے دشوار گزار راستوں کو محفوظ پناہ گاہ بنا لیا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ انسدادِ اسمگلنگ حکمت عملی یکطرفہ اور نامکمل ہے۔مقامی سطح پر بعض مبینہ سمگلرز کے نام بھی سامنے آئے ہیںجن میں نواز بزدار، خیر محمد عرف خیر الشہانی، جہانگیر پٹھان اور منظور کھوسہ شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ افراد وسیع نیٹ ورک کے ذریعے اسمگلنگ کر رہے ہیں، مگر تاحال ان کے خلاف کوئی ٹھوس اور مثال بننے والی کارروائی سامنے نہیں آ سکی۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ صرف اسمگل شدہ سامان ضبط کرنا کسی صورت مؤثر سزا نہیں، کیونکہ چند دن بعد یہی نیٹ ورک دوبارہ فعال ہو جاتا ہے۔ ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ قوانین میں ترمیم کر کے اسمگلرز اور ان کی سہولت کاری کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے لیے سخت سزائیں مقرر کی جائیں۔مزید برآں، بلوچستان سے آنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی اسمگلنگ کے لیے استعمال کیے جانے کے انکشافات سامنے آئے ہیں، جس کے ذریعے سامان ملک بھر میں پھیلایا جا رہا ہے۔عوام کا مطالبہ ہے کہ کوہِ سلیمان کے پہاڑی راستوں اور بلوچستان سے آنے والی ٹریفک کے لیے ایک علیحدہ، بااختیار اور غیر جانبدار فورس تعینات کی جائے۔شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں محض غفلت نہیں بلکہ مبینہ ملی بھگت موجود ہے، جسے قانون کے کٹہرے میں لانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ عوام نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ملکی معیشت کو لاحق اس مسلسل نقصان کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں