کوٹ ادو میں اقراری بولا گروپ کا راج، مریم نواز کی محفوظ پنجاب کی رٹ چیلنج

بہاولپور (کرائم سیل)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازکے محفوظ پنجاب کے خواب ضلع کوٹ ادو پہنچتے پہنچتے دم توڑ گئے، گزشتہ کئی سالوں سے ضلع کوٹ ادو میں دہشت کی علامت جانے والے اقراری بولا گروپ نے تھانہ دائرہ دین پناہ کی حدود احسان پور میں پرانی رنجش کی بناء پر مزدور امان اللہ عرف ببلی مشہوری کو فائرنگ کرکے شدید زخمی کر دیا جو زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے۔ کچھ عرصہ قبل ضلع لیہ میں سی سی ڈی پر فائرنگ اور احسان پور میں ایک بے گناہ سید کے قتل کے باوجود بھی خطرناک اقراری بولا گروہ پولیس کی گرفت سے تاحال دور، عوام میں شدید خوف و ہراس۔ تفصیلات کے مطابق کچے میں حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے والے ڈاکوؤں کے بعد ضلع کوٹ ادو کے تھانہ دائرہ دین پناہ کے علاقے میں اقراری بولا گروپ نے بھی حکومتی رٹ کو چیلنج کرنا شروع کر دیا ہے۔ متعدد قتل اور اقدام قتل کے واقعات کے بعد عید سے دو روز قبل احسان پور پھاٹک کے قریب راولپنڈی سے چھ ماہ بعد مزدوری کر کے واپس آنے والے امان اللہ عرف ببلی مشہوری کو مبینہ مخبری کے شبہ میں ریکی کر کے کلاشنکوف کے چھ فائر مار کر شدید زخمی کر دیا گیا۔زخمی ببلی مشہوری اس وقت نشتر ہسپتال ملتان میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے، جبکہ پولیس اور سی سی ڈی کی ٹیمیں ملزمان کو گرفتار کرنے میں تاحال بے بس نظر آتی ہیں۔اطلاعات کے مطابق پرانی رنجش کی بنیاد پر اقراری بولا گروپ نے عباس منگلا اور خلیل ساون کو امان اللہ عرف ببلی مشہوری کی مبینہ مخبری پر لگایا تھا۔ جب وہ عید سے قبل گھر واپس آ رہا تھا تو اس پر فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا گیا۔پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دونوں مبینہ مخبر عباس منگلا اور خلیل ساون کو گرفتار کر لیا ہے۔افسوسناک امر یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل ضلع لیہ کے علاقے پہاڑ پور تھل میں سی سی ڈی کے ساتھ اقراری بولا گروپ کا مقابلہ بھی ہوا تھاجس میں عامر گرمانی اور عمران چانڈیا نامی اہلکار زخمی ہوئے جبکہ سب انسپکٹر نواز لونڈ بھی زخمی ہو گئے تھے، تاہم اس کے باوجود ملزمان ابھی تک پولیس اور سی سی ڈی کی گرفت سے باہر ہیں۔اسی طرح احسان پور میں اقراری بولا گروپ نے چند ماہ قبل ایک نوجوان سید عاقب کو بھی قتل کر دیا تھا۔علاقہ مکینوں کے مطابق ضلع لیہ کے علاقے پہاڑ پور میں محمد حسین ابی اور جاوید ابی نامی افراد اقراری بولا کے قریبی عزیز ہیں جبکہ طارق نامی شخص بھی ان کے رابطے میں ہو سکتا ہے۔ اگر پولیس ان کے موبائل ڈیٹا اور نقل و حرکت کی مکمل جانچ پڑتال کرے تو اقراری بولا گروپ کے متعدد افراد اور سرغنہ کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔دوسری جانب کوٹ ادو پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ملزمان عباس منگلا اور خلیل ساون کے خلاف افسران کے حکم پر جلد مزید کارروائی متوقع ہے۔اہل علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں دہشت کی علامت بننے والے اقراری بولا گروپ کے سرغنہ اور اس کے ساتھیوں کو فوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں