بہاولپور (کرائم سیل) کوٹ ادو اور گرد و نواح میں مبینہ طور پر سرگرم اقراری بولا گینگ کی بھتہ خوری، فائرنگ اور قتل و غارت کی وارداتوں کی وجہ سے شہری خوف و ہراس میں مبتلا ہو کر متاثرہ متعدد خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں اور دائرہ دین پناہ کے ایس ایچ او نے مبینہ طور پر اقراری بولا کے آگے ہاتھ کھڑے کر دیے جبکہ ڈی ایس پی کوٹ ادو سرکل آفیسر نے مقدمے کے بارے میں کسی قسم کی تفصیلات دینے سے گریز کیا، جس سے علاقے میں عوامی بے چینی اور دہشت کی فضا مزید بڑھ گئی ہے۔متاثرین میں سے حالیہ واقعے میں زخمی ہونے والے امان اللہ المعروف ببلی مشہوری کے والد نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ انصاف کے لیے تھانے پہنچے تو دائرہ دین پناہ کے ایس ایچ او نے مبینہ طور پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ:ہمارے بھی چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ یہ لوگ اشتہاری ہیں اور سی سی ڈی پر بھی فائرنگ کر چکے ہیں۔ اگر سی سی ڈی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکی تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔ جب اللہ کے عذاب میں آئیں گے تو پکڑے جائیں گے۔ گرفتار ملزمان کے حوالے سے بتایا آئندہ مشورے میں چالان کروں گا۔”متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ پولیس کے اس مبینہ رویے سے عوام میں مزید خوف اور بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ علاقے کے لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں اور انہیں اپنی جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے شدید خدشات لاحق ہیں۔دوسری جانب اس معاملے پر مؤقف لینے کے لیے ڈی ایس پی کوٹ ادو عبدالغفار سرکل آفیسر سے بارہا رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم انہوں نے مقدمے کے متعلق کسی قسم کی اپڈیٹ دینے سے گریز کیا۔یاد رہے کہ اقراری بولا ایک خطرناک گروہ کا سرغنہ بتایا جاتا ہے جس کی مبینہ دہشت کوٹ ادو، دائرہ دین پناہ، نورپور تھل، پہاڑ پور، تونسہ اور ڈیرہ غازی خان تک پھیل چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کی یوسف چانڈیہ نامی نوجوان سے مبینہ طور پر بھتہ نہ دینے پر دشمنی شروع ہوئی۔بتایا جاتا ہے کہ اس دشمنی کے نتیجے میں سب سے پہلے اقراری بولا اور اس کے ساتھیوں نے سرعام یوسف چانڈیہ کے ڈبل کیبن ڈالے کو آگ لگا دی اور فائرنگ کی۔ اس کے بعد اس کے چچا ظفر اقبال پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں وہ دونوں ٹانگوں سے معذور ہو گئے۔عینی شاہدین کے مطابق اس صورتحال کے بعد یوسف چانڈیہ نے اپنی حفاظت کے لیے علاقے کے چند نوجوانوں کو بطور گن مین رکھا۔ اسی دوران کچھ عرصہ قبل سید عاقب نامی نوجوان کو بھی اقراری بولا گروہ نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔اسی سلسلے کی تازہ کڑی میں بتایا جاتا ہے کہ تقریباً چھ ماہ قبل یوسف چانڈیہ کے پاس نوکری چھوڑ کر راولپنڈی مزدوری کرنے جانے والے ببلی مشہوری کو عید سے دو روز قبل مبینہ طور پر منصوبہ بندی کے تحت احسان پور پھاٹک کے قریب فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا گیا۔زخمی نوجوان کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت انتہائی نازک ہے اور اس کی دونوں ٹانگیں کاٹنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں اقراری بولا کے قریبی ساتھی جانے والے ہاشم ساند نے سی سی ڈی کے ساتھ پولیس مقابلے میں اپنے ساتھ جاوید ابی کے بارے میں بھی بتایا تھا جو کہ سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ کے لیے سوالیہ نشان ہے۔ سماجی و عوامی حلقوں نے آئی جی پنجاب، ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب، وزیراعلیٰ پنجاب اور آر پی او ملتان۔سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اقراری بولا کی گرفتاری کے لیے فوری طور پر جوائنٹ ٹیمیں تشکیل دی جائیں اور حکومت کو چیلنج کرنے والے اس گروہ کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو اور شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔







