تازہ ترین

کوٹ ادو حراستی ہلاکت معاملہ قومی اسمبلی پہنچ گیا، ڈسٹرکٹ بار بھی میدان میں اترآئی

کوٹ ادو (نامہ نگار) کوٹ ادو پولیس حراست میں عمران مانی کی ہلاکت کے معاملے پرپاکستان تحریکِ انصاف کے رکن قومی اسمبلی میاں شبیر علی قریشی اور فیاض احمد چھجڑا نے سپیکر قومی اسمبلی کو ایک قرارداد جمع کرا دی ہے جس میں عمران مانی کی پولیس حراست میں ہلاکت پر جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ادھر ڈسٹرکٹ بار کوٹ ادو بھی میدان میں آ گئی ہے اور جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کر دیا ہے۔ سابق صدر ڈسٹرکٹ بار نے مرحوم کے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری لیتے ہوئے کیس بلا معاوضہ لڑنے کا اعلان بھی کر دیا۔تفصیلات کے مطابق کوٹ ادو کے غریب مزدور عمران مانی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد گزشتہ چند روز سے یہ معاملہ سوشل میڈیا، سیاسی بیٹھکوں، ہوٹلوں اور دکانوں میں زیرِ بحث ہے۔ عوامی و سماجی حلقوں میں عمران مانی کی مبینہ پولیس تشدد سے ہلاکت اور ڈاکٹر کی جانب سے جاری کی گئی مبینہ غلط رپورٹ پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اور جوڈیشل انکوائری کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں۔اسی تناظر میں ڈسٹرکٹ بار کوٹ ادو کے صدر اقبال خان نمردی اور جنرل سیکرٹری غلام مصطفیٰ بھٹی نے بار کے اجلاس میں مذمتی قرارداد منظور کرواتے ہوئے عمران مانی کی ہلاکت کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب سابق صدر ڈسٹرکٹ بار کوٹ ادو ارشد صدیقی نے متوفی کے گھر جا کر اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور مرحوم کے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری لیتے ہوئے کیس بلا معاوضہ لڑنے کا اعلان کیا۔دریں ا ثناپولیس حراست میں ہلاک ہونے والے عمران مانی کی رسمِ قل ادا کر دی گئی۔ لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ متوفی عمران مانی کی والدہ نے بیٹے کی جاری کردہ پوسٹمارٹم رپورٹ پر عدم اعتماد کرتے ہوئے علاقہ مجسٹریٹ کو قبر کشائی کی درخواست جمع کرائی۔یادرہے پانچ روز قبل تھانہ سٹی کوٹ ادو نے رات کے درمیانی حصے میں بغیر وارنٹ، چادر چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے، انعم بشیر نامی لڑکی اغوا کیس میں شک کی بنیاد پر مذکورہ شخص کو گھر سے اٹھا لیا۔ جس کی پولیس حراست میں موت واقع ہوئی۔ لعش کو پوسٹمارٹم کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال لایا گیا۔بتایا گیا ہے کہ پوسٹمارٹم کرنے والا ڈاکٹر تفتیشی سعیدہ خالق کا ماموں ہے۔ پوسٹمارٹم رپورٹ جاری کر دی گئی۔ ورثا سے سادہ کاغذ پر دستخط کروا کر لعش ورثا کے سپرد کر دی گئی۔ بعد ازاںسوشل میڈیا پر متوفی کی تشدد زدہ تصاویر وائرل ہونے پر کیس دوبارہ زندہ ہو گیا۔ لعش کو غسل دینے والے شخص نے بھی تشدد کی تصدیق کی، جس پر شکوک و شبہات مزید بڑھ گئے۔گزشتہ روز متوفی عمران مانی کی رسمِ قل ادا کی گئی، جس میں لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ متوفی کی والدہ ممتاز مائی، زوجہ عابد حسین نے بذریعہ کونسل راشد بشیر گورمانی، علاقہ مجسٹریٹ کو قبر کشائی کرکے دوبارہ پوسٹمارٹم کرنے کی درخواست دے دی۔

#JusticeForImranmani #JusticeForImran

شیئر کریں

:مزید خبریں