تازہ ترین

کوئی ان سے پوچھے! اپوزیشن لیڈرز کے نوٹی فکیشنز 5 ماہ تک کیوں روکے گئے؟ علیمہ خان

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اپوزیشن لیڈرز کے نوٹی فکیشنز میں طویل تاخیر پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ آخر پانچ ماہ تک یہ نوٹی فکیشن کیوں روکے گئے؟ کسی نے یہ پوچھنے کی زحمت کیوں نہیں کی کہ ملک کس آئین اور کن اصولوں کے تحت چلایا جا رہا ہے؟ آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو رہی ہے مگر جواب دہی کا کوئی نظام نظر نہیں آتا۔
میڈیا نیوز کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اہل خانہ اور وکلاء کی ملاقات کا آج مقررہ دن تھا، تاہم پولیس نے سیکیورٹی کے معمولات تبدیل کرتے ہوئے عمران خان کی بہنوں اور کارکنوں کو داہگل ناکے سے تقریباً ایک کلومیٹر پہلے ہی روک لیا۔
صورتحال کے پیش نظر بانی پی ٹی آئی کی بہنوں اور کارکنوں نے مقام تبدیل کرتے ہوئے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے قریب ماربل فیکٹری ناکے پر دھرنا دے دیا۔ علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین خان اس موقع پر موجود رہیں جبکہ کارکنوں نے نجی سوسائٹی کے گیٹ کے قریب احتجاج جاری رکھا۔
ماربل فیکٹری ناکے کے نزدیک علیمہ خان اور کارکنوں نے قرآن خوانی بھی کی۔ پولیس کی بھاری نفری اطراف میں تعینات رہی اور نجی سوسائٹی کے داخلی راستے پر رکاوٹیں لگا کر راستہ مکمل طور پر بند کر دیا گیا تاکہ کارکنان آگے نہ بڑھ سکیں۔
نجی ہاؤسنگ سوسائٹی ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ اپوزیشن لیڈرز کے نوٹی فکیشن جاری نہ کرنا ایک غیر آئینی اقدام تھا، مگر اس پر کسی نے سوال نہیں اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں آئین پامال ہو رہا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں کہ ریاست کس سمت جا رہی ہے۔
علیمہ خان نے واضح کیا کہ ان کی جدوجہد صرف ملاقات تک محدود نہیں بلکہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے قائد ہیں اور انہیں غیر قانونی طور پر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 8 فروری کی کال کا اپوزیشن لیڈر کے نوٹی فکیشن سے کوئی تعلق نہیں، یہ سراسر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں