ملتان میں قائم 12 جامعات کمپیوٹر سے متعلقہ ڈگریاں کروا رہی، ایئر یونیورسٹی کو 4 ، زکریا یونیورسٹی ملتان کو صرف بی ایس کمپیوٹر سائنسزکی ایکریڈیشن حاصل
انسٹی ٹیوٹ آف سدرن پنجاب کو بی ایس کمپیوٹر سائنسز ، ایم این ایس زرعی یونیورسٹی ، خواتین یونیورسٹی ، یونیورسٹی آف ایجوکیشن کو 2،2 ڈگریوں کی منظوری کی اجازت
مندرجہ بالاجامعات کے علاوہ ملتان کا کوئی ادارہ اور کمپیوٹر سے متعلقہ پروگرام نیشنل کمپیوٹنگ ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل سے منظور شدہ نہیں،والدین کو الرٹ رہنے کی ہدایت
سٹوڈنٹس اور والدین کو جاری الرٹس کے مطابق ہائرایجوکیشن کمیشن کسی بھی غیر منظور شدہ یونیورسٹی سے حاصل کی گئی ڈگری 31 اگست 2024 کے بعد ویریفائی نہیں کرے گا
ملتان ( سٹاف رپورٹر ) جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے شہر ملتان میں یونیورسٹیوں میں کمپیوٹر پروگرامز کے حوالے سے ایک سکینڈل منظرعام پر آ گیا جس کے مطابق کمپیوٹر سے متعلقہ ڈگریوں جن میں بی ایس کمپیوٹر سائنسز ، بی ایس سوفٹ ویئر انجینئرنگ ، بی ایس انفارمیشن ٹیکنالوجی ، بی ایس انفارمیشن سسٹمز، بی ایس بایو انفارمیٹکس، بی ایس آرٹیفیشل انٹیلیجنس ، بی ایس ڈیٹا سائنسز ، بی ایس ساءبر سیکورٹی ، بی ایس ملٹی میڈیا اینڈ گیمنگ اور بی ایس کمپیوٹر انجینئرنگ شامل ہیں کو نیشنل کمپیوٹنگ ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل سے منظور ہونا لازمی ہیں۔ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان نے 16 فروری 2005 کو قومی سطح پر کمپیوٹر ڈگری پروگرامز کی منظوری کے لیےنیشنل کمپیوٹنگ ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل کو نوٹیفائی کیا تھا۔ جس کی بابت یونیورسٹیوں کو متعدد بار اعلامیہ جاری کیا گیا تھا کہ وہ اپنے کمپیوٹر سے متعلقہ پروگرامز کو نیشنل کمپیوٹنگ ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل سے منظور کروا لیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن سے جاری شدہ اعلامیہ کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کسی بھی یونیورسٹی کے غیر منظور شدہ کمپیوٹر سے متعلقہ ڈگری پروگرامز کو تصدیق نہیں کرے گی۔ جس سے ایسی یونیورسٹیوں سے غیر منظور شدہ کمپیوٹر گریجویٹس سرکاری اور پرائیویٹ ملازمتوں، بیرون ممالک سے اعلیٰ تعلیم، بیرون ممالک میں ملازمت کے مواقع سے محروم ہو جائیں گے ۔ اور ان طلباء و طالبات کے مستقبل تاریک ہونے کے خدشات ہیں ۔ 5 مارچ 2024 کو ہائر ایجوکیشن کمیشن اور نیشنل کمپیوٹنگ کونسل کی طرف سےطلباء و طالبات، والدین کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ ہر گز ان اداروں میں ایڈمیشن نہ لیں جن کی ڈگریاں نیشنل کمپیوٹنگ کونسل سے منظور شدہ نہیں ہیں۔ ورنہ وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔ تفصیل کے مطابق ملتان میں قائم 12 جامعات اس وقت کمپیوٹر سے متعلقہ ڈگریاں کروا رہی ہیں۔ ان 12 جامعات میں ائر یونیورسٹی ملتان کیمپس، یونیورسٹی آف ایجوکیشن ملتان کیمپس، خواتین یونیورسٹی ملتان ،محمد نواز شریف یونیورسٹی آف ایگریکلچر ملتان، انسٹیٹیوٹ آف ساؤدرن پنجاب ، بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان ، این ایف سی یونیورسٹی ملتان ، ایمرسن یونیورسٹی ملتان ، محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان ، نمل یونیورسٹی ملتان کیمپس ، ٹائمز یونیورسٹی ملتان ، اور این سی بی اے ای شامل ہیں۔ مگر حیران کن طور پر نیشنل کمپیوٹنگ ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل کے مطابق ملتان سے تصدیق شدہ اداروں میں ایئر یونیورسٹی ملتان کو چار پروگرامز بی ایس کمپیوٹر سائنسز ، بی ایس انفارمیشن ٹیکنالوجی ، بی ایس سوفٹ ویئر انجینئرنگ ، بی ایس ساءبر سیکورٹی، بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کو صرف بی ایس کمپیوٹر سائنسز ، انسٹیٹیوٹ آف ساؤدرن پنجاب کو بی ایس کمپیوٹر سائنسز ، محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان کو بی ایس کمپیوٹر سائنسز ، بی ایس انفارمیشن ٹیکنالوجی ، جبکہ خواتین یونیورسٹی ملتان کو بی ایس کمپیوٹر سائنسز اور بی ایس انفارمیشن ٹیکنالوجی ، یونیورسٹی آف ایجوکیشن ملتان کیمپس کو بی ایس کمپیوٹر سائنسز اور بی ایس انفارمیشن ٹیکنالوجی کو نیشنل کمپیوٹنگ ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل کی ایکریڈیشن حاصل ہے۔ ان جامعات کے علاوہ ملتان کا کوئی بھی ادارہ اور کمپیوٹر سے متعلقہ پروگرام نیشنل کمپیوٹنگ ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل سے منظور شدہ نہیں ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن سے جاری شدہ این سی کے قوانین کے مطابق تمام سرکاری اور پرائیویٹ جامعات کے لیے منظوری لازمی قرار دے دی گئی تھی ۔ کمیشن چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں 1120 ایکریڈیشن وزٹ کے ذریعے تقریباً 423 پروگرامز کو منظور کر چکی ہے۔ جن میں 237 پروگرامز سرکاری اور 186 پروگرامز پرائیویٹ جامعات میں منظور کیے گئے ہیں ۔ سٹوڈنٹس اور والدین کو نیشنل ایکریڈیشن کونسل کی جانب سے جاری کیے گئے الرٹس کے مطابق ہائرایجوکیشن کمیشن کسی بھی غیر منظور شدہ یونیورسٹی سے حاصل کی گ گئی ڈگری 31 اگست 2024 کے بعد ویریفائی نہیں کرے گا۔ جس سے ان غیر منظور شدہ یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے والے طلباء و طالبات کا مستقبل تاریک ہو جائے گا ۔ طلباء و طالبات اور والدین جو کمپیوٹر سے متعلقہ پروگرامز میں پہلے سے داخل ہیں یا داخلہ لینے کے خواہشمند ہیں وہ اپنی متعلقہ یونیورسٹی کی معلومات ویب سایٹ سے حاصل کر سکتے ہیں تاکہ وہ اپنے بچوں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچا سکیں۔







