پی ٹی آئی کے رہنما سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ وہ کل کی پریس کانفرنس کا ہر حرف بطورِ لفظ جواب دینے سے قاصر ہیں اور مقابلہ بازی کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ان کے بقول گزشتہ تقریر میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، ان سے پارٹی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
سلمان اکرم راجا نے واضح کیا کہ وہ ہر اُس قوت کے خلاف ہیں جو پاکستان کے مفاد کے خلاف ہو، اور اس کا کہنا تھا کہ صرف عسکری قوت کے ذریعے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں بانیِ پی ٹی آئی بھی اسی نقطۂ نظر کے حامی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا شدید متاثر ہیں۔
راجہ نے زور دے کر کہا کہ دہشت گردی کے الزام کو کسی ایک جماعت تک محدود نہیں کیا جا سکتا اور پی ٹی آئی تیراہ کے شہداء کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے دور میں صوبے میں دہشت گردی کی وارداتیں کم تھیں جبکہ کچھ سابقے دور میں معاملات مختلف تھے۔
انہوں نے استفسار کیا کہ افغان حکومت سے تعلقات میں فجائی نوعیت کی دوری کیوں پیدا ہو رہی ہے اور ایک بار پھر کہا کہ کل کی پریس کانفرنس کا وہ لفظ بہ لفظ جواب نہیں دیں گے۔ سلمان اکرم راجہ نے مطالبہ کیا کہ غلط الزامات ان کی پارٹی پر نہ لگائے جائیں اور دہشت گردی کے خلاف ایک جامع سیاسی حکمتِ عملی رکھی جائے — جہاں اسلحہ اٹھایا جائے وہاں کارروائی ہونی چاہیے۔
راجہ نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی فوج ہماری فوج ہے اور وہ اس کے خلاف نہیں کھڑے؛ پی ٹی آئی آئین اور قانون کی پاسدار رہے گی۔







