لندن: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اعلان کیا ہے کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کا مسودہ جمعے تک عوام کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ترمیم آئین کی بنیادی روح کو کمزور کرنے کے بجائے اسے مزید مضبوط بنائے گی۔
احسن اقبال لندن میں موجود ہیں جہاں انہوں نے برطانوی حکام سے اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں کیبنٹ آفس اور کالٹن ہاؤس کے نمائندے بھی شامل تھے۔ ملاقاتوں کے دوران احسن اقبال نے بتایا کہ مجوزہ آئینی ترمیم کا مقصد پاکستان میں جمہوریت، عدلیہ اور دفاعی نظام کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترمیم کا مسودہ شفاف انداز میں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا اور اس پر تمام جماعتوں کو کھلی بحث کا موقع دیا جائے گا تاکہ یہ ترمیم قومی اتفاقِ رائے سے منظور ہو۔
وفاقی وزیر کے مطابق یہ ترمیم میثاقِ جمہوریت پر عملدرآمد کی جانب ایک عملی قدم ہے، جس سے عدلیہ کو مزید مؤثر کردار حاصل ہوگا اور ملک کا دفاعی ڈھانچہ جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکے گا۔
احسن اقبال نے مزید بتایا کہ 1971 کے دفاعی نظام میں ضروری اصلاحات متعارف کرانا اس ترمیم کا اہم حصہ ہے، تاکہ پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی زیادہ مضبوط اور مربوط بن سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ “طاقتور عدلیہ، مضبوط دفاع، اور فعال جمہوریت” ہی پاکستان کے استحکام کی ضمانت ہیں۔
احسن اقبال نے اپنے خطاب میں امریکی انتخابات میں ظہران ممدانی کی کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ممدانی کی جیت تارکین وطن اور متوسط طبقے کے لیے امید کی نئی کرن ہے، جو امریکی جمہوریت کے حسن کو اجاگر کرتی ہے۔
اس موقع پر انہوں نے پنجاب میں ماحولیاتی تبدیلیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ شدید ماحولیاتی اثرات کی زد میں ہے، جبکہ مریم نواز بھی ماحولیاتی کانفرنس COP میں شرکت کے لیے برطانیہ جائیں گی۔







