کفایت شعاری کا آغاز یا وقتی اقدام؟

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سرکاری گاڑیوں میں ہائی اوکٹین ایندھن کے استعمال پر پابندی اور اس پر پیٹرولیم لیوی میں نمایاں اضافہ ایک اہم اور قابلِ توجہ فیصلہ ہے۔ ایسے وقت میں جب ملک شدید معاشی دباؤ، مہنگائی اور مالی خسارے کا سامنا کر رہا ہے، حکومتی سطح پر کفایت شعاری کے اقدامات نہ صرف ضروری بلکہ ناگزیر ہو چکے ہیں۔ تاہم یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا یہ اقدامات دیرپا اصلاحات کا حصہ ہیں یا محض وقتی بچت کا ذریعہ۔حکومت نے ہائی اوکٹین ایندھن پر لیوی بڑھا کر 300 روپے فی لیٹر کر دی ہے، جو بنیادی طور پر لگژری گاڑیوں کے استعمال سے منسلک ہے۔ اس فیصلے سے ایک طرف اشرافیہ کو پیغام دیا گیا ہے کہ وہ بھی قومی بوجھ میں اپنا حصہ ڈالیں، جبکہ دوسری جانب سرکاری اداروں کو غیر ضروری اخراجات کم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ وزیراعظم کا یہ کہنا کہ اگر کسی سرکاری گاڑی میں ہائی اوکٹین کا استعمال ناگزیر ہو تو اس کا خرچ متعلقہ افسر خود برداشت کرے، بظاہر ایک مثبت اور اصولی موقف ہے۔یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ حکومت کے مطابق اس اقدام سے ماہانہ 9 ارب روپے کی بچت متوقع ہے، جسے عوامی ریلیف کے لیے استعمال کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اگر واقعی یہ رقم عوامی فلاح و بہبود، سبسڈی یا بنیادی سہولیات کی بہتری پر خرچ کی جاتی ہے تو یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہو سکتی ہے۔ تاہم ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ بچت کے اعلانات اور عملی ریلیف کے درمیان اکثر فاصلہ رہ جاتا ہے۔اس فیصلے کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ سرکاری وسائل کے استعمال میں شفافیت اور ذمہ داری کا تصور اجاگر کیا گیا ہے۔ پاکستان میں طویل عرصے سے یہ تاثر موجود ہے کہ سرکاری افسران اور حکمران طبقہ عوامی وسائل کو ذاتی آسائش کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ایسے میں ہائی اوکٹین کے استعمال پر پابندی اور سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کمی جیسے اقدامات عوام کے اعتماد کی بحالی میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔تاہم اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ کفایت شعاری صرف چند فیصلوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اصل ضرورت ایک جامع اور مستقل پالیسی کی ہے جس کے تحت سرکاری اخراجات، مراعات اور غیر ضروری سہولیات کو مستقل بنیادوں پر کم کیا جائے۔ اگر صرف ایندھن کے استعمال تک ہی اصلاحات محدود رہیں اور دیگر شعبوں میں فضول خرچی جاری رہے تو اس کا مجموعی اثر محدود ہی رہے گا۔مزید برآں، اس فیصلے کی کامیابی کا انحصار اس کے مؤثر نفاذ پر بھی ہے۔ پاکستان میں اکثر اچھے فیصلے عملدرآمد کے مرحلے میں کمزور پڑ جاتے ہیں۔ اگر واقعی نگرانی کا مضبوط نظام قائم کیا جاتا ہے اور خلاف ورزی پر بلاامتیاز کارروائی کی جاتی ہے تو ہی یہ اقدام اپنے مقاصد حاصل کر سکے گا۔یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت صرف سرکاری اخراجات میں کمی تک محدود نہ رہے بلکہ معیشت کی مجموعی بہتری کے لیے طویل المدتی اصلاحات پر بھی توجہ دے۔ ٹیکس نظام کی بہتری، برآمدات میں اضافہ، اور غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی بنانے جیسے اقدامات ہی پائیدار معاشی استحکام کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہائی اوکٹین ایندھن پر پابندی اور لیوی میں اضافہ ایک مثبت قدم ضرور ہے، مگر اسے ایک وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ بنانا ہوگا۔ اگر حکومت واقعی کفایت شعاری، سادگی اور شفافیت کو اپنی پالیسی کا مستقل حصہ بنا لے تو نہ صرف معیشت کو فائدہ ہوگا بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہو سکے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں