کسٹم میں کمائو پوت پیچھے خواتین آفیسرز کی اڑان ، ملتان سمیت 4 ایئر پورٹس ٹھیکے پر دیدئیے

ملتان(میاں غفارسے) کسٹم میں اہم ترین کمائی والی اسامیوں پر مکمل کنٹرول کر کے کسٹم آفیسرز خواتین نے صدیوں پرانے’’ کماؤ پوت‘‘ کے مقولے کو اڑا کر رکھ دیا ہے اور کسٹم کے پوت بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ بارڈرز کے ذریعے سمگلنگ اب بہت معمولی کرپشن شمار ہونے لگی ہے جس میں بے پناہ ر سک او راستوں میں کئی چیک پوسٹیں، درجنوں تھانے اور چیکنگ کے کئی ادارے جبکہ ایئرپورٹ میں صرف کسٹم اور کبھی کبھار ایف آئی اے ۔پنجاب ایئرپورٹس کلیکٹوریٹ کی انچارج کلکٹر کسٹم طیبہ معید کیانی کو اعلیٰ افسران کی مکمل آشیر واد نے کھل کھیلنے کا موقع بدستور فراہم کر رکھا ہے اور انہوں نے لاہور اور ملتان ایئرپورٹ سے دو افسران کو تبدیل کرانے کے بعد اب صوبے بھر کا مکمل کنٹرول اور یومیہ کمائی کا مبینہ نیٹ ورک مکمل کر لیا ہے۔ انہوں نے ایڈیشنل کلکٹر ہیڈ کوارٹر لاہور ایئرپورٹ حنا گل کے ذریعے لاہور ،فیصل آباد، ملتان اور سیالکوٹ روزانہ وصولی کی بنیاد پر ٹھیکیداری نظام کے تحت کاریگر عملے کو الاٹ کر دیئے ہیں ۔ذرائع کے مطابق چار ماہ قبل لاہور ایئرپورٹ کی وصولی 18 لاکھ روزانہ،ملتان ایئرپورٹ 10 لاکھ روزانہ اور سیالکوٹ ایئرپورٹ 7 لاکھ روزانہ تھی جس میں یکم دسمبر سے خاطر خواہ اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ رقم مخصوص پھرے بازوں سے مستقل بنیادوں پر طے شدہ ہے تاہم اس کے علاوہ جو پھیرے باز مال پانی کے مطابق پاکستان روانگی سے قبل ڈیل کرتے ہیں وہ اس کے علاوہ ہیں۔تاہم یہ خواتین غیر ملکی شراب کی آمد سے ایک پائی بھی نہیں لیتی بلکہ شراب لانے والوں کے سہولت کار افسران کو اکاموڈیٹ کیا جاتا ہے۔ اسلام آباد سے بھی غیر ملکی شراب کی بڑی کھیپ پکڑی گئی وہ بھی سفارشی مال تھا مگر خفیہ ایجنسیوں کو سفارشی مینج نہ کر سکے کہ خفیہ ایجنسیوں میں بہت ہی ایماندار افیسر تعینات ہیں جنہوں نے بہت سختی کر رکھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ ،فلائٹ اور ایئرپورٹ تبدیل ہونے کے باوجود بڑی مقدار میں غیر ملکی شراب پکڑی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ لاہور ایئرپورٹ پر تمام ماتحت عملے کی تعیناتیاں حنا گل ایڈیشنل کلکٹر ہی کی سفارش پر کی گئی ہیں۔ لاہور ایئرپورٹ پر تعینات دو اسسٹنٹ کلکٹر جو کہ بہت ہی جونیئر ہیں کو اہم ترین ذمہ داریاں حنا گل ہی نے دی ہیں، ان میں اسسٹنٹ کلکٹر صداقتم ورک اور سمیرا ظہیر شامل ہیں جبکہ ملتان ایئرپورٹ پر مریم کی جگہ احمد ظہیر کو تعینات کیا گیا ہے جس کا تعلق بھی کسٹم کے طیبہ معید کیانی گروپ سے ہے۔ فیصل آباد ایئرپورٹ پر سپر نٹنڈنٹ چوہدری سعید کو تمام تر اختیارات سونپ دیئے گئے ہیں کیونکہ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت اچھی ریکوری کرتے ہیں ملتان ایئرپورٹ پر احمد ظہیر نے کلیکشن کی ذمہ داری جہانگیر سپر نٹنڈنٹ اور طاہر نامی انسپکٹر کو دے رکھی ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ چیف کلکٹر ایئرپورٹ حسن ثاقب کو ان خواتین نے کھڈے لائن لگا رکھا ہے اور اگر حسن ثاقب کوئی پوچھ گچھ کریں تو اسے تانیہ خان کی صرف ایک فون کال دوبارہ برف میں لگا دیتی ہے۔ کسٹم کے نچلے عملے میں حسن ثاقب بارےطنزیہ طور پر ایک جملہ بطور کوڈ ورڈ بولا جاتا ہے، ٹرک کے اوپر لکھا ہوا یا جملہ خاص طور پر حسن ثاقب چیف کلکٹر کی بے بسی دیکھ کر بولا جاتا ہے’’ گڈی والیا۔ موج تے تیری اے، اساں تے بس جگہ ای گھیری اے‘‘۔

شیئر کریں

:مزید خبریں