ملتان(سٹاف رپورٹر)غلہ منڈی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ سےپیوستہ روز بڑی کارروائی کے دوران پکڑے جانے والا 40 کروڑ مالیت کا سامان کسٹم کے ویئر ہاؤس میں پہنچا دیا گیا اور اس خبر کے ساتھ ہی کسٹم افسران اور عملے کی ملی بھگت سے سیل شدہ سامان نکلوانے اور نقد رقوم دے کر خریدنے والے سرگرم ہو گئے کیونکہ ملتان کسٹم میں سالہا سال سے یہ روایت ہے کہ قبضے میں لئےگئےسامان کا نمایاں حصہ چوری ہو کر فروخت ہو جاتا ہے یا پھر عملے کی ملی بھگت سے ٹوٹے پھوٹے اور ناکارہ سامان کے ساتھ مرحلہ وار تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ گنتی پوری رہتی ہے اور وزن بھی ،مگر نیلامی کے وقت قیمت میں زمین آسمان کا فرق پڑ جاتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ غلہ منڈی اور اس سے ملحقہ مارکیٹوں میں اتنے بڑے پیمانے پر کارروائی ایک مفصل خفیہ رپورٹ پر عمل میں لائی گئی اور اس چھاپے کے بعد سے کئی سال سے جاری کسٹم عملے اور سمگلروں کا گٹھ جوڑ بھی بے نقاب ہو گیاہے۔ بتایا گیا ہے کہ موجودہ کلکٹر کسٹم فرح شریف نے گزشتہ چند ہفتوں سے بہت سخت پالیسی اپنا رکھی ہے جس کے بعد سے کسٹم کے دیگر شعبوںمیں تو بتدریج تبدیلی آرہی ہے مگر ملتان ایئرپورٹ پر سمگلنگ عروج پر ہے اور اس سے روکنے میں کسی بھی ادارے کو کامیابی نہیں مل سکی بلکہ کرپشن کے متعدد الزامات میں زیر تفتیش احمد ظہیر کو ملتان ایئرپورٹ پر تعینات کر کے کرپشن کے سسٹم کو زیادہ مستحکم کر دیا گیا ہے جو گزشتہ کئی ماہ سے پنجاب بھر کی ایئرپورٹس پر خواتین آفیسرز کی سرپرستی میں مبینہ طور پر جاری ہے اور جس کی سہولت کاری اعلیٰ ترین افسران کر رہے ہیں حتیٰ کہ اگر کوئی شکایت بھی موصول ہو تو اسے دبا دیا جاتا ہے۔ پنجاب بھر کے ایئرپورٹس پر سمگلنگ کے دھندے کی مبینہ سرپرستی طیبہ معید کیا نی کر رہی ہیں جن پر اس سے قبل انٹیلی جنس ونگ میں تعیناتی کے دوران کرپشن کے الزامات میں انکوائری اعلیٰ افسران نے دبا کر رکھی ہوئی ہے۔






