ملتان(سٹاف رپورٹر) کسٹم ڈیپارٹمنٹ کے ایئرپورٹ زون میں لاہور میں تعینات خاتون آہن حنا گل کے بااثر ہونے کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ان کی نئی سرپرست تانیہ خان نے ان کے راستے کی رکاوٹ بننے والےکئی افسران ٹرانسفر کرا دیئےہیں کیونکہ تانیہ خان ممبر کسٹم جنید جلیل کی سٹاف آفیسر تھی۔ حناگل جو کہ ایڈیشنل کلکٹر ہیں نے چند ماہ کے عرصے کے دوران علی رضا گردیزی کلکٹر جو کہ بہت ہی اچھی شہرت کے حامل تھے اور ایئرپورٹ پر تعینات تھے کو ٹرانسفر کرایا پھر مہرین فاطمہ نامی کلکٹر کو رکاوٹ بننے پر ٹرانسفر کرا دیا اور پھر اپنی مرضی سے اپنی پسند کی آفیسر کا انتخاب کرتے ہوئے ڈائریکٹ انٹیلی جنس لاہورطیبہ معیدکیانی کو ٹرانسفر کرا کر ایڈیشنل کلکٹرحنا گل نے اپنی آفیسر تعینات کرایا ۔حنا گل نے ایڈیشنل کلکٹر عثمان طارق اور ڈپٹی کلکٹر راجہ بلال کو بھی اپنے نیٹ ورک میں مداخلت کرنے پر ٹرانسفر کیا اور پھر ڈپٹی کلکٹر ڈاکٹر مدثر سے بھی وہی سلوک کیا کیونکہ ڈاکٹر مدثر نےحنا گل کے ایک پارٹنر سمگلر کے خلاف کارروائی کی کوشش کی تھی پھر ڈاکٹر مدثر کی جگہ ایک جونیئر خاتون سمیرااظہر کو اسسٹنٹ کلکٹرایئرپورٹ ٹریفک لاہور لگوا لیا ہے اور یہ تقرریاں گزشتہ ہفتے حنا گل نے کرائی ہیں۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ ڈائریکٹر انٹیلی جنس لاہور کے طور پر طیبہ معیدکیانی نے کروڑوں روپے کی کرپشن کی تھی اور پکڑا جانے والا کروڑوں کا سامان فروخت کرنے پر ڈی جی انٹیلی جنس کو انکوائری مارک کی گئی تھی جو کہ ثابت شدہ کیس تھا مگر تانیہ اور حناگل کی وجہ سے اس کیس کو فائلوں کے نیچے دبا دیا گیا کیونکہ اس کیس میں میجر پنلٹی سے کوئی کم سزا طیبہ معید کیانی کو ہو ہی نہیں سکتی تھی ۔اسی لئے طیبہ معیدکیانی کلکٹر ہونے کے باوجود ایڈیشنل کلکٹرحناگل اور گریڈ 17 کی اسسٹنٹ کلکٹر تانیہ خان کا ہر حکم مان رہی ہیں۔






