ملتان (سہیل چوہدری سے) چیف کلکٹر کسٹم ،کلکٹر کسٹم،ڈائریکٹر اینٹی سمگلنگ ،ایڈیشنل ڈائریکٹر انفورسمنٹ سمیت کسٹم کے 17 افسران کے خلاف اربوں روپے کی کرپشن کرنے اور مقدمہ درج ہونے کے باوجود گرفتاریاں عمل میں نہ لائی جا سکیں17 افسران ایف آئی آر میں نامزد، کروڑوں روپے کی وصولی کر لی گئی مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت، محکمانہ کارروائی نہ ہونے پر سوالات فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے درج ایف آئی آر نمبر 19/2023 اور عبوری چالان میں پاکستان کسٹمز کے اندر مبینہ طور پر جاری ایک منظم کرپشن نیٹ ورک کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں، جن میں 17 کسٹمز افسران کو نامزد کیا گیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق کراچی کے مختلف کسٹمز چیک پوسٹس پر اسمگلرز سے باقاعدہ طور پر بھاری رقوم وصول کی جاتی رہیں، تاہم اس کے باوجود کسی بھی نامزد افسر کے خلاف تاحال محکمانہ کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ایف آئی اے کے مطابق یہ معاملہ انکوائری نمبر 49/2023 کے دوران سامنے آیا، جس میں بتایا گیا کہ موچکو، ہمدرد، نادرن بائی پاس، سپر ہائی وے اور گھگھر پھاٹک پر قائم کسٹمز چیک پوسٹس کو مبینہ طور پر اسمگلنگ کی سہولت فراہم کرنے کے مراکز میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ بلوچستان سے کراچی آنے والے اسمگل شدہ سامان کو بلا روک ٹوک گزرنے دینے کے عوض کروڑوں روپے ماہانہ وصول کیے جاتے تھے۔ایئرپورٹ پر گرفتاری سے معاملہ بے نقاب ہوا دستاویزات کے مطابق 13 جولائی 2023 کو جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر پاکستان کسٹمز کے دو حاضر سروس افسران طارق محمود اور یاور عباس کو ایف آئی اے نے حراست میں لیا۔ تلاشی کے دوران ان کے قبضے سے 54 لاکھ 37 ہزارروپے سے زائد نقد رقم ،2406 امریکی ڈالر اور 6100 درہم برآمد ہوے، جس کی وہ کوئی تسلی بخش وضاحت فراہم نہ کر سکے۔ تفتیش کے دوران مبینہ طور پر انکشاف ہوا کہ یہ رقوم مختلف کسٹمز چیک پوسٹس سے وصول کی گئی تھیں۔اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث چیف کلکٹر کسٹم منظور حسین میمن ،ڈائریکٹر اینٹی سمگلنگ ساکیف سعید ،کلکٹر کسٹم عثمان باجوہ ،،ایڈیشنل کلکٹر امجد حسین راجپوت ،عبدالرشید ،محمد حزیفہ ،شہباز احمد،حسن سردار ،صلاح الدین ،بلال قادری ،محمد فرقان ،محمد طیب خان شامل ہیں ان میں سے بعض افسران ریٹائر ہو گئے کچھ بیرون ممالک چھٹی لےکر چلے گئے اور کچھ افسران ابھی بھی ملازمت کر رہے ہیں دو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ان کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے عبوری چالان کے مطابق یہ مبینہ وصولیاں کسی ایک یا دو افراد تک محدود نہیں تھیں بلکہ ایک منظم نظام کے تحت کلیکٹرز، ایڈیشنل کلیکٹرز، ڈپٹی کلیکٹرز اور دیگر افسران میں تقسیم کی جاتی تھیں۔ ایف آئی آر میں اینٹی اسمگلنگ اور انفورسمنٹ سے وابستہ بعض سینئر افسران کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں، جو مختلف ادوار میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔چالان میں نجی افراد، تاجروں اور فیکٹری مالکان کا بھی ذکر ہے۔ عمران نورانی نامی شخص پر الزام ہے کہ وہ بلوچستان سے کراچی چھالیہ اسمگلنگ کے نیٹ ورک میں ملوث تھا اور شیرشاہ انڈسٹریل ایریا میں قائم ایک فیکٹری کے ذریعے اسمگل شدہ مال مارکیٹ میں سپلائی کیا جاتا تھا، جسے کسٹمز افسران کی مبینہ سرپرستی حاصل تھی۔اس تمام صورتحال کے باوجود پاکستان کسٹمز اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے تاحال ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولز 2020 کے تحت کسی بھی نامزد افسر کو معطل کرنے یا محکمانہ انکوائری شروع کرنے کا فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ سرکاری قواعد کے مطابق فوجداری مقدمات کی صورت میں ایسی کارروائی کا اختیار موجود ہے، جس کا استعمال نہ ہونا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق نچلے درجے کے اہلکاروں کے خلاف تو معمولی الزامات پر بھی فوری کارروائی کی جاتی ہے، جبکہ بااثر افسران کے خلاف کارروائی میں غیر معمولی تاخیر یا مکمل خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ایف آئی آر اور عبوری چالان میں شامل تمام الزامات تاحال عدالت میں زیرِ سماعت ہیں اور قانون کے مطابق ملزمان کو بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم محکمانہ کارروائی کا آغاز نہ کرنا ایک انتظامی فیصلہ ہے، جس پر عوامی سطح پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔







