کرپشن کا الزام، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ عہدے سے برطرف

ملتان(وقائع نگار) روزنامہ قوم کی خبر پر ایکشن سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب نے لا کھوں روپے کی کرپشن کرنے پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر حلیمہ سعدیہ کو عہدے سے ہٹا دیا تفصیل کے مطابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ ملتان حلیمہ سعدیہ نے یونین کونسلوں کے سیکرٹریز سے پینا فلیکس، ہورڈنگ بورڈز، گرین پنجاب پروگرام اور سٹیشنری کے نام پر لاکھوں روپے وصول کیے حلیمہ سعدیہ نے مارچ 2025 میں ہر یونین کونسل کے سیکرٹری سے یونین کونسلوں میں پودے لگوانے کے لیے فی کس 30 ہزار روپے وصول کیے پودوں کی مد میں 20 لاکھ 40 ہزار روپے وصول کیے مگر کسی بھی یونین کونسل میں ایک پودا بھی نہیں لگوایا اس کے بعد یونین کونسلوں میں پینا فلیکس لگوانے پینا فلیکس کا ٹھیکہ سیکرٹری یونین کونسل خلیل ثاقب کو دے دیا پینا فلیکس اور ہورڈنگ بورڈ 21 ہزار روپے فی یونین کونسل بنوایا مگر 93 ہزار روپے فی یونین کونسل وصول کیے اس طرح پینا فلیکس اور ہورڈنگ بورڈ کی مد میں ایک کروڑ روپے سے زائد کی کرپشن کی گزشتہ ماہ یونین کونسلوں سے سٹیشنری کی مد میں 35 ہزار روپے فی یونین کونسل وصول کیے مگر کسی یونین کونسل کو سٹیشنری کا سامان مہیا نہ کیا اس طرح سٹیشنری کے نام پر 23 لاکھ 80 ہزار روپے وصول کر کے خوردبرد کر لیے اس کی تحقیقات شروع ہو گئی ہیں۔ صوبائی سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملتان سٹی کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر حلیمہ سعدیہ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے اور انہیں ہیڈ کوارٹر ملتان میں رپورٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔ متاثرہ سیکرٹریز کی تعداد 68 ہے، جبکہ وصول ہونے والی رقم کروڑوں روپے میں پہنچ چکی ہے۔یہ انکشاف سب سے پہلے روزنامہ قوم نے کیا تھا، جس کی رپورٹ نے صوبائی سطح پر ہلچل مچا دی تھی۔ روزنامہ قوم کی تحقیقات کے مطابق، حلیمہ سعدیہ نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے یونین کونسلوں کے بجٹ سے رقم نکال کر نجی کمپنیوں کو ٹھیکے دیے، جن کے بدلے میں کمیشن وصول کیا جاتا رہا۔ اس خبر کے شائع ہونے کے فوراً بعد سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب نے سخت نوٹس لیا اور اعلیٰ افسران کی ایک کمیٹی کو تحقیقات کا حکم دیا۔اس کے علاوہ، ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ ذولقرنین حیدر کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر ملتان سٹی کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے، تاکہ متاثرہ علاقوں میں کام متاثر نہ ہو۔”یہ کارروائی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہے اور تمام یونین کونسلوں کو فوری طور پر ان کی رقم کی واپسی کا حکم دیا جائے گا۔”لوکل گورنمنٹ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ یہ معاملہ مزید گہرائی تک جانچا جائے گا اور اگر دیگر افسران ملوث پائے گئے تو ان کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔ متاثرہ یونین کونسلوں کے سیکرٹریز نے روزنامہ قوم سے رابطہ کرتے ہوئے شکایات درج کی تھیں، جن میں بتایا گیا کہ انہیں دباؤ ڈال کر رقم ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا رہا۔یہ واقعہ پنجاب میں لوکل باڈیز کی سطح پر بڑھتے ہوئے کرپشن کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جہاں گرین پنجاب جیسے اہم پروگراموں کا بھی غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ حلیمہ سعدیہ کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں