تازہ ترین

کروڑوں کی بجلی چوری میں مبینہ ملوث آئی ای ایس سی او چیف نے صحافت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا

ملتان (سٹاف رپورٹر) پاکستان میں صحافت پہلے ہی شدید دباؤ، دھمکیوں اور الزامات کی زد میں ہے کیونکہ کرپٹ مافیا اور چور اب سینہ زور بھی ہو چکے ہیں، مگر اب ایک حیران کن امرسامنے آیا ہے جس نے اعلیٰ سرکاری افسران کے طرزِ عمل، اخلاقی تربیت، ذمہ داریوں کی شفافیت اور صحافتی اخلاقیات کے بارے میں کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں جب ایک انویسٹیگیٹو خبر کاموقف کے لیے اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (IESCO) کے چیف ایگزیکٹو افسر انجینئر خالد محمود کو ارسال کی گئی جو کہ اس سے قبل میپکو میں جنرل منیجر ٹیکنیکل کے عہدے پر تعینات رہ چکے ہیں اور کروڑوں کی کرپشن میں مبینہ طور پر ملوث ہیں تو انہوں نے خبر پر اپنا موقف دینے کے بجائے صحافت پر ہی سوال اٹھا دیئے۔ یہ وہی انجینئر خالد محمود ہیں جن کے بارے میں الزام ہے کہ میپکو میں تعیناتی کے دوران بوسن روڈ پر واقع نجی کلب میں ہونے والی پینلز کی تبدیلی، چوری شدہ پینلز کے معاملے کو کھڈے لائن لگانے اور دیگر مبینہ تکنیکی و انتظامی کارروائیوں میں وہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر شامل رہے اور یہ 31 لاکھ یونٹ کی چوری تھی جس کا کروڑوں روپیہ ملتان کے عوام پر بلوں کی مد میںنا جائز طور پر ڈالا گیا۔ یہ معاملہ محض ایک تکنیکی خرابی نہیں بلکہ فیڈر کی انسٹالیشن، ایک ہی اپروول پر دستخطوں سے دو بار پینل کی غیر قانونی تبدیلی اور تقریباً 31 لاکھ یونٹس کی چوری کا ایک ایسا مبینہ سکینڈل ہے جو مختلف صارفین کے کھاتوں میں ڈال کر پورا کیے جانے کا سنگین نوعیت کا الزام رکھتا ہے۔ روزنامہ قوم میں مذکورہ خبر شائع ہونے سے قبل صحافتی اصولوں کے عین مطابق انجینئر خالد محمود کو واضح طور پر خبر کا متن بھیج کر آگاہ کیا گیا کہ اگر آپ موقف دینا چاہیں تو روزنامہ قوم کے صفحات من وعن آپ کا موقف علیحدہ سے شائع کرے گا تاہم اگر آپ موقف نہیں دیں گے تو خبر اسی طرح شائع کر دی جائے گی۔ اس کے باوجود جب خبر شائع ہوئی تو چیف ایگزیکٹو IESCO کی جانب سے روزنامہ قوم کے انچارج نیوز ریسرچ سیل کو میسج کرکے پہلا سوال یہ کیا گیا کہ آپ کون ہیں؟ جب انہیں بتایا گیا کہ میں انچارج ریسرچ سیل ہوں روزنامہ قوم سے اور یہ کہ خبر صرف اور صرف موقف شامل کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی، تو ان کا ردِعمل نہایت حیران کن تھا۔ انجینئر خالد محمود نے موقف دینے کے بجائے سوال داغ دیا کہ کیا آپ مجھے بلیک میل کرنا چاہتے ہیں؟ یہ وہ لمحہ تھا جہاں صحافت اور احتساب کی توہین کھل کر سامنے آئی۔ انچارج ریسرچ سیل نے شائستہ لہجے اور نرم الفاظ میں جواب دیا کہ کبھی نہیں سر، ہم جرنلزم کی اخلاقیات اور حدود و قیود سے واقف ہیں، اسی لیے فریقین کا موقف شائع کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر انجینئر خالد محمود نے خبر کو’’فیک سٹوری‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پبلش کرنے سے پہلے پوچھنا چاہیے تھا۔ حالانکہ انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ خبر انہیں، میپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جام گل محمد اور سینئر انجینئر آپریشن ملتان امجد نواز بھٹی کو بیک وقت موقف کے لیے بھیجی جا چکی تھی۔ مزید یہ کہ واضح کیا گیا کہ یہ ایک طویل، مسلسل اور انویسٹیگیٹو سیریز ہے جو ایک ہی دن میں مکمل نہیں ہو سکتی، اسی لیے حقائق کو ٹکڑوں میں، دستاویزی شواہد کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہےاور ہر خبر سے ایک دن قبل موقف کے لیے بھیجی جاتی رہے گی۔ مگر یہاں بھی چیف ایگزیکٹو IESCO کا ردِعمل چونکا دینے والا تھا کہ آپ اسے پہلے کیوں پبلش نہیں کرتے؟ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کیوں شائع کر کے مجھے بھیجتے ہیں؟ کیا آپ ہم سے نیگوشی ایٹ کرنا چاہتے ہیں؟ گویا کہ موصوف کو اپنے گزشتہ کارنامے اچھی طرح یاد تھے ورنہ وہ یہ سوالات ہرگز نہ کرتے۔ اس سوال نے ایک نیا ہی رخ اختیار کر لیا جس پر انچارج ریسرچ سیل نے واضح کیا کہ کبھی بھی نہیں، ہم آپ سے نہ ملاقات چاہتے ہیں، نہ نیگوشی ایشن۔ میں عام رپورٹر نہیں بلکہ ایک انویسٹیگیٹو جرنلسٹ ہوں اور چونکہ یہ معاملہ وسیع اور پیچیدہ ہے، اس لیے اسے قسط وار شائع کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اس پوری گفتگو کے تمام سکرین شاٹس موجود ہیں جو خبر کے ساتھ بطور ثبوت شائع کیے جا رہے ہیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا موقف مانگنا بلیک میلنگ ہے؟ کیا سرکاری عہدہ دار خود کو احتساب سے بالاتر سمجھتے ہیں؟ کیا فیک سٹوری کا الزام لگا کر اصل سوالات سے فرار ممکن ہے؟ یہ معاملہ صرف ایک افسر یا ایک کمپنی کا نہیںبلکہ پاکستان میں احتساب، شفافیت اور آزاد صحافت کے مستقبل کا ہے۔ اگلی قسطوں میں مزید دستاویزی شواہد، دستخط شدہ اپروولز اور تکنیکی ریکارڈ سامنے لائے جائیں گے اور حسبِ روایت متعلقہ افسران کو موقف کا مکمل حق بھی دیا جاتا رہے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں