کراچی میں ایک فلیٹ سے لاش کی صورت میں ملنے والی اداکارہ حمیرا اصغر کی تدفین لاہور میں کر دی گئی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرحومہ کے بھائی نے کہا کہ ہم میڈیکل رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں، فی الحال کسی کو کیس میں نامزد نہیں کیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ خاندان اور قریبی لوگ کئی ماہ سے حمیرا سے رابطے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن کوئی کامیابی نہ ہو سکی۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ خبر سامنے آنے کے بعد لوگوں نے تنقید شروع کر دی، لیکن کسی نے یہ نہیں سوچا کہ مالک مکان سے بھی سوالات ہونے چاہئیں۔
حمیرا کے چچا نے وضاحت کی کہ وہ 2017 میں گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی اور وقتاً فوقتاً دو تین ماہ بعد گھر آتی رہی۔ والدین نے کبھی اس سے قطع تعلق نہیں کیا بلکہ ہمیشہ اس کی خوشی میں خوش رہے۔
یاد رہے کہ اداکارہ کی لاش 8 جولائی کو کراچی کے اتحاد کمرشل میں ایک فلیٹ سے اس وقت ملی جب کرائے کی عدم ادائیگی پر مالک مکان نے عدالت سے رجوع کیا۔ عدالتی بیلف جب فلیٹ پہنچا اور دروازہ نہ کھولنے پر اسے توڑا گیا تو اندر اداکارہ کی لاش موجود تھی۔
پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق لاش انتہائی حد تک سڑ چکی تھی، اور اندازہ لگایا گیا کہ موت تقریباً 8 ماہ قبل واقع ہوئی تھی۔






